پیر , 30 نومبر 2020
ensdur

جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس بدنیتی پر مبنی تھا، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ معزز جج کے خلاف صدارتی ریفرنس بدنیتی پر مبنی تھا، معزز جج کو لندن کی جائیدادیں بتانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ انہیں خفيہ رياستی جاسوسی کا نشانہ بنایا گیا۔

جسٹس قاضی فائر عیسیٰ کے خلاف صدر مملکت عارف علوی نے بیرون ملک اثاثہ جات رکھنے کے الزام میں سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا تھا جس کے خلاف قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ سپریم کورٹ نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ریفرنس خارج کردیا تھا۔

جمعہ کو سپریم کورٹ نے کیس کا تفصیلی فیصہ کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ صدارتی ریفرنس بدنیتی پر مبنی تھا۔ ریفرنس میں لگائے گئے الزامات میں کوئی جان نہیں۔ جسٹس فائز عیسیٰ کو لندن کی جائیدادیں بتانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ انہیں خفیہ ریاستی جاسوسی کا نشانہ بنایا گیا۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

سابق وزیراعظم میر ظفراللہ خان جمالی راولپنڈی میں انتقال کرگئے

سابق وزیراعظم پاکستان میر ظفراللہ خان جمالی انتقال کرگئے۔ میر ظفراللہ خان جمالی دل کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے