اتوار , 20 ستمبر 2020
ensdur

جذبات نہیں تاریخ اور زمینی حقائق | حیدر جاوید سید

تحریر: حیدر جاوید سید

آگے بڑھنے سے قبل دو باتیں عرض کردینا ضروری ہیں
اولاً یہ کہ چند معاملات ہوں یا مجموعی صورتحال’ جذباتیت’ اندھی تقلید اور سستی نعرے بازی کی بجائے ہمیں تاریخ سے رہنمائی لینی چاہئے۔
تاریخ اور زمینی حقائق سے متصادم آراء کے درست ہونے پر اصرار سے ایک خاص قسم کا جذباتی ماحول تو بن سکتا ہے لیکن جس مقصد کیلئے جذبات کو بڑھاوا دیا جا رہا ہوتا ہے وہ حاصل ہونے کی بجائے نئے مسائل سے دوچار ہوجاتے ہیں۔

دوسری بات ترکی میں آیا صوفیہ کے حوالے سے عدالتی فیصلہ ہے جس کے بعد حکومت نے اس میوزیم کو مسجد میں تبدیل کردیا۔ آیا صوفیہ چرچ کو مسجد میں عثمانی خلافت کے دور میں تبدیل کیا گیا، پھر کمال اتاترک کے انقلاب کے بعد اسے میوزیم بنا دیا گیا اور اب پھر مسجد۔

اسی طرح رام مندر اور بابری مسجد کا تنازعہ ہے، ہندوجاتی کا دعویٰ ہے کہ بابری مسجد کی جگہ پہلے رام مندر تھا۔
بدھ مت کے پیروکاران اس مقام پر اپنی عبادتگاہ کے دعویدار ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ایودھیا میں بدھ مت کی عبادتگاہ اشوک اعظم کے دور میں قائم ہوئی بعد ازاں جب ہندو ازم کو دوبارہ بالادستی حاصل ہوئی تو اسے رام مندر میں تبدیل کر دیا گیا،
برصغیر کے مغل عہد میں یہاں بابری مسجد بنا دی گئی۔
اب بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے پر 5اگست کو بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اسی مقام پر دوبارہ رام مندر کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔
رام مندر اور آیا صوفیہ مسجد ہر دو اقدامات ترکی اور بھارت کی اعلیٰ ترین عدالتوں کے فیصلوں کا نتیجہ ہیں۔

درست وغلط کی بحث میں ہم تاریخ کو نظرانداز کرکے فقط اپنے جذبات کا مظاہرہ کر رہے ہیں جبکہ مجھ طالب علم کی رائے میں دونوں ملکوں کی اعلیٰ عدالتوں کو ایسے فیصلوں سے اجتناب کرنا چاہئے تھا جن سے انسان تقسیم ہوں اور نئی قسم کی شدت پسندی جنم لے۔
زیادہ مناسب یہ ہوتا کہ ہر دو مقامات کو آثار قدیمہ میں شامل کرکے تاریخ کے طور پر محفوظ کرلیا جاتا۔
عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جنگوں اور فتوحات سے ٹوٹتے بنتے جغرافئے اور دیگر معاملات کو پسند کی آنکھ سے دیکھنے کی بجائے حقیقت پسندی کامظاہرہ ضروری ہے۔

تمہیدی سطور طویل ہوگئیں ہم اپنے اصل موضوع پر آتے ہیں۔
5اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے اسے تین حصوں میں تقسیم کرنے اور بھارتی ریاست کا باقاعدہ حصہ بنا لینے کے عمل کاایک سال مکمل ہوگیا۔

پچھلے ایک سال کے دوران مقبوضہ کشمیر میں 7سو سے زیادہ مرد وزن اور بچے بھارتی فوج کے ہاتھوں شہید ہوئے۔ 8سے10ہزار افراد کو خصوصی قوانین کے تحت گرفتار و نظربند کردیاگیا،
گرفتار شدگان میں127 خواتین بھی ہیں جن میں سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی بھی شامل ہیں۔
5اگست کو کشمیریوں نے دنیا بھر میں یوم کشمیر منایا، قبل ازیں پاکستان میں اسلام آباد کی شاہراہ کشمیر کو شاہراہ سرینگر کا نام دیاگیا۔
اگلے روز وفاقی کابینہ کی منظوری سے پاکستان کا ایک نیا نقشہ جاری ہوا جس میں مقبوضہ کشمیر اور ریاست جونا گڑھ کو پاکستان کا حصہ دکھایا گیا۔
شاہراہ کے نام کی تبدیلی اور نئے نقشہ کے اجراء پر داد وتحسین کا شور ہے، کہا جا رہا ہے کہ اس عمل سے بھارت کو دیوار کیساتھ لگا دیاگیا، بہتر سال بعد پاکستان نے تاریخ ساز قدم اُٹھایا ہے۔
کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حمایت ہر زندہ ضمیر شخص کرتا ہے، ان پر ہونے والے مظالم کا درد محسوس نہ کرنا ممکن ہی نہیں۔
یہاں چند لمحوں کیلئے رک کر کیا ہم 1940ء کی دہائی میں واپس چلیں۔ 1940ء کی دہائی متحدہ ہندوستان کے بٹوارے کی دہائی ہے، مذہب سے قومیت بنانے اور پھر اس کی بناء پر تقسیم ہند کی جدوجہد اس طور کامیاب ہوئی کہ مسلم اکثریت والے سندھ’ بلوچستان کیساتھ ساتھ تقسیم شدہ پنجاب اور بنگال (مشرقی پاکستان) پاکستان کا حصہ بنے، این ڈبلیو ایف نامی صوبہ (اب خیبرپختونخوا) میں ریفرنڈم کے ذریعے پاکستان کے حق میں فیصلہ ہوا۔
برصغیر کی ریاستوں کو یہ حق دیاگیا کہ وہ تقسیم سے معرض وجود میں آنے والے بھارت اور پاکستان میں سے کسی ایک ملک میں شامل ہوجائیں، درجنوں ریاستوں نے یہ حق استعمال کیا اور خوشی سے دونوں میں سے کسی ایک ملک میں شامل ہوگئیں۔
تنازعہ تین ریاستوں پر ہوا، نظام صاحب حیدر آباد دکن نے بھارت سے الحاق پر دستخط کئے۔ نواب جوناگڑھ نے پاکستان سے جبکہ مہاراجہ کشمیر نے بھارت سے الحاق کی منظوری دی۔
بھارت نے حیدر آباد دکن پر قبضہ کرکے بزور قوت الحاق کی دستاویزات پر دستخط کروائے، نظام صاحب خواہش مند تھے کہ وہ آزاد مملکت کے طور پر ریاست کا وجود قائم رکھیں۔
جونا گڑھ پر الحاق پاکستان کو مسترد کرتے ہوئے بھارت نے فوجی طاقت سے اس مؤقف کی بنیاد پر قبضہ کر لیا کہ جونا گڑھ میں آبادی کی اکثریت ہندووں کی ہے۔
جموں وکشمیر میں اکثریتی آبادی مسلمانوں کی تھی لیکن مہاراجہ ہندو تھا، یہاں بھارت نے مؤقف اپنایا کہ تقسیم کے فارمولے کے تحت الحاق کا حق حکمران کو ہے عوام کو نہیں۔

یوں اگر تقسیم کے فارمولے کی بنیاد پر ہم دیکھیں تو حیدر آباد دکن اور جونا گڑھ پر بھارت کا قبضہ قطعی طور پر غلط تھا۔ لیکن جو اصول اس نے (آبادی کی بنیاد پر) دکن اور جونا گڑھ کے حوالے سے جواز کے طور پر پیش کیا جموں وکشمیر میں آبادی کے اسی اصول کو نظرانداز کردیا۔

پچھلے بہتر سالوں سے تنازعہ جموں وکشمیر ہی دونوں ملکوں کے درمیان بداعتمادی’ نفرت اور جنگی جنون کے کاروبار کی بنیاد ہے۔
گو اقوام متحدہ میں جواہر لعل نہرو نے استصواب رائے کے حق کو تسلیم کیا لیکن اگر اس قرار داد کو پڑھ لیا جائے تو اس میں بھی بھارت کے حق میں ڈنڈی ماری گئی ہے
پھر بھی چونکہ سلامتی کونسل کشمیریوں کو اپنے مستقبل کے فیصلہ کا حق دے چکی اس طور 5اگست 2019ء کا بھارتی اقدام ہر اعتبار سے غیرقانونی ہے
مگر طاقت اور امریکی سرپرستی ہر دو نے بھارت کو درندہ بنا دیا۔
امریکی فروری2019ء سے باضابطہ طور پر آگاہ تھے کہ بھارت کشمیر کے حوالے سے کیا کرنے جا رہا ہے لیکن انہوں نے سلامتی کونسل کی قراردادوں کی بجائے بھارت کی ہمنوائی کی’ یہی وہ المیہ ہے جسے نظرانداز کیاجا رہاہے۔

بشکریہ: روزنامہ مشرق پشاور

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

بلاول بھٹو زرداری کے بتائے گئے دھماکہ خیز اِنکشافات سچ ہیں یا جھوٹ؟

رپورٹ: امام بخش آپ بلاول بھٹو زرداری کو سخت ناپسند کرتے ہیں یا پھر دل …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے