منگل , 13 اپریل 2021
ensdur

جب پیر علی محمد راشدی نے جنرل ایوب خان کو پاکستان کا بادشاہ بننے کا مشورہ دیا

تحریر: ملک سراج احمد

فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے نام پیر علی محمد راشدی کے خط کا متن

منجانب

پیر علی محمد راشدی

سفارت خانہ پاکستان

منیلا، فلپائن

27 جولائی 1961

جناب عالی!

میں حضور کے یکم جولائی کے نوازش نامے کے لیے تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔ یہ خط میری آئینی تجاویز کے جواب میں ہے۔ آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ یہ بادشاہت کتنی بھی اچھی چیز کیوں نہ ہو مگر آج کے زمانے میں اس کی طرف دوبارہ رجوع کرنا بے موقع معلوم ہوتا ہے۔

اگر آپ اجازت دیں تو میں یہ کہنے کی جسارت کروں گا کہ اس خط کے ساتھ منسلک میرا تھیسس اس نکتے کی وضاحت کرتا ہے کہ اب مجھ پر یہ کھلا ہے کہ میرے پہلے نکتے کی وضاحت نہ کرنے کے باعث اس میں ایک خلا رہ گیا تھا۔

مجھے آپ کی انصاف دوستی سے امید واثق ہے کہ آپ میری ان گزارشات کے مطالعے کے لیے بھی چند لمحے نکال لیں گے تاکہ اس سلسلے میں جو کچھ میں عرض کرنا چاہتا ہوں وہ بھی آپ پر واضح ہو سکے ۔ مجھے یہ بھی امید ہے کہ قابل احترام کابینہ کی کمیٹی میری زیرنظر گزارشات پر غور کرتے وقت میری ان معروضات کو بھی زیر غور رکھے گی جو میں پہلے سے ارسال خدمت کرچکا ہوں۔

صدر عالی قدر! اس گفتگو کو سمیٹتے ہوئے میں اس امر کی اجازت چاہوں گا کہ میں آپ سے بلاواسطہ طور پر چند باتیں عرض کر سکوں۔ میرے جذبات اور حب الوطنی کا احساس مجھے مجبور کرتے ہیں کہ اپنا دل کھول کر آپ کے سامنے رکھ دوں۔ سیاست ایک طرح کی ریاضت ہے اور مجھے اس کے چند گوشوں کا علم ہے، میں نے اس میں کبھی دھوکا نہیں کھایا، آپ مجھ پر اعتماد کریں۔

حضور والا میں بصد احترام یہ عرض کروں گا کہ جب تک ملک میں بادشاہت رائج نہ کی جائے یہ ملک اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہو سکتا ۔ اگر کسی ایسے نظام کے رائج کرنے کی سعی کی گئی جو بادشاہت سے کم درجے کی شے نکلا تو مجھے اندیشہ ہے کہ یہ چلے گا نہیں کیونکہ یہ غیر فطری ہو گا اور یہ یوں ہم اپنی تاریخ سے غلطی کرنے اور سیکھنے کے باب میں ایک اور پیراگراف کا اضافہ کریں گے اور یوں ہمارا تصادم اور غیر یقینی صورت حسب سابق جاری رہے گی۔ اس کے برعکس ہم اپنا آخری صحت یابی کا وہ موقع بھی ضائع کر دیں گے جو آپ نے فراہم کیا۔ یہ ہماری بڑی بد قسمتی ہو گی۔ (یہ جناب صدر آپ کے اور آپ کے ناچیز خادم کے مابین ہے )

یہ گزارشات میں ذاتی سطح پر کر رہا ہوں۔ مجھے آپ کی ذاتی دشواریوں کا علم ہے۔ اگر آپ میری تجویز مان لیں تو بلاشبہ یہ آپ کی طرف سے ایک عظیم قربانی ہو گی۔ یہ امر کانٹوں کا تاج پہننے کے مترادف ہو گا اور یوں شاید آپ کا وہ ذہنی سکون بھی متاثر ہو جس پر آپ کی شاموں کا حق ہے ، یوں شاید اس آپ کے اپنے خاندان کی آزادی بھی قربان کرنی پڑے اور اس باعث شاید آپ ہدف تنقید بھی بن جائیں اور آپ کے بارے میں بعض غلط فہمیاں بھی پیدا ہو سکتی ہیں ، لوگ ناشکر گزاری بھی کر سکتے ہیں ، یوں آپ اندھیرے میں جست لگائیں گے ، آپ کو خدشات کا سامنا بھی ہو گا اور آپ کے رستے میں بے شمار مشکلات بھی آئیں گی۔ یہ سب کچھ اور اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ممکن ہے لیکن میں اس سلسلے میں اتنا ضرور عرض کروں گا کہ میرے خیال میں اس مشکل صورت حال سے نپٹنا بھی ممکن ہے۔

حضور والا! اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ سب امکانات موجود ہیں تو بھی مجھے آپ جیسے سپاہی اور محب وطن سے یہ توقع نہیں کہ وہ ان مشکلات کے سامنے ہتھیار ڈال دے اور پھر سے اس سارے ملک کو بے یقینی کے عفریت کے حوالے کر دے ۔ اس ملک کو جس نے آپ سے بے پناہ محبت کی ہے۔ اگر آپ کو آخر کار یہی کچھ کرنا تھا تو پھر آپ نے ہمارے دلوں کو امید کی روشنی سے کیوں منور کیا۔ ہمارے دلوں کو خوشیاں کیوں عطا کیں اور ہمیں خوش آئند مستقبل کی نوید کیوں دی؟ آپ کو یہ تو علم تھا ہی کہ ہم مکمل تباہی کی طرف تیزی سے گامزن ہیں۔ پھر آپ ہمیں اپنے انجام تک پہنچنے دیتے اور یوں ہماری یہ اذیت تو ختم ہوتی آپ نے ہمیں آخری مرحلے میں کیوں روک لیا۔ اور ہمارے دلوں کو پھر سے زندہ رہنے کی امید دلا کر ہماری اس اذیت کے دن کیوں بڑھا دیے؟

سپرد خاک ہی کرنا تھا مجھ کو

توپھر کاہے کو نہلایا گیا ہوں

آپ خیال فرمائیں کہ اگر آپ کا موجودہ تجربہ ناکام ہو گیا تو پھر کیا ہو گا۔ اس تجربے کو درمیان میں چھوڑ دینے سے اس ملک کے لیے وہ آخری موقع بھی ضائع ہو جائے گا جو اسے ملا ہے؟

مجھے اس میں بالکل کوئی شبہ یا خدشہ نہیں کہ میری دی ہوئی تجویز قابل غور اور قابل عمل ہے۔ حضور والا! کیا آپ اس تجویز کو درج ذیل شرائط پر قبول کرنے کو تیار ہوں گے۔

1۔ اگر ملک کے سیاست دانوں کی بھاری اکثریت جس میں وہ سیاست دان بھی شامل ہیں جو ایبڈو کیے جا چکے ہیں (سوائے ان کمیونسٹوں کے جو ہر اس تجویز کے خلاف ہیں جو پاکستان کے استحکام میں ممد ہوں ) اگر تحریری طور پر میری تجویز کی توثیق کر دیں تو کیا آپ اسے شرف قبولیت بخشیں گے؟

2۔ اگر قومی سطح پر میری تجویز اور دوسری تجاویز کی بنیاد پر استصواب رائے کروایا جائے تو مجھے یقین ہے کہ قوم کا فیصلہ ہمارے حق میں ہو گا؟

3۔ بین الاقوامی برادری میں جو ممالک ہمارے دوست ہیں جن میں امریکہ بھی شامل ہے ، اس امر کی پیشگی منظوری دے سکتے ہیں۔

4۔ قومی اور بین الاقوامی پریس کی حمایت بھی اسے حاصل ہے؟

5۔ اس خاص موضوع پر پاکستان میں کسی منتخب جگہ استصواب رائے کروا لیا جائے؟

اگر آپ مجھ سے متفق ہوں اور مجھے اس بات کا موقع دیں اور مناسب سہولتیں فراہم کریں تو مجھے پوری امید ہے کہ تقریباً چھ ماہ میں، میں لوگوں تک اپنی بات پہنچا دوں گا اور مذکورہ بالا بیشتر شرائط بھی پوری کردوں گا۔

مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں۔ مجھے یہ بھی ممکنات میں سے نظر آتا ہے کہ اگر اس مقابلے میں کوئی متبادل اسکیم سامنے آئے تو میں پارلیمنٹ سے اسے رد کروا لوں گا۔ بشرطیکہ پارلیمنٹ ذہنی طور پر مفلوج لوگوں کی نہ ہو۔ مگر اس کے لیے میری دو شرائط ہیں۔

اول تو یہ کہ پارلیمنٹ کے اراکین عمومی سوجھ بوجھ رکھتے ہوں۔ روشن دل ہوں اور حب الوطنی کے جذبے سے عاری نہ ہوں۔

دوم یہ کہ مجھے ان کے درمیان کام کرنے کے لیے مناسب موقع فراہم کیا جائے ،اس کامیابی میں میرا کوئی کمال نہیں ہو گا۔ میں ناچیز ہوں اور اپنی حدود پہچانتا ہوں۔ یہ سب کچھ اسی باعث شرف قبولیت پائے گا کہ ہمارے ملکی حالات میں ہماری تربیت، روایت اور افتاد ذہنی کے پیش نظر آئینی بادشاہت کے نظام کے علاوہ چارہ نہیں۔

حاصل کلام یہ ہے جناب والا کہ ہمارے ملک کو ایک باپ کی ضرورت ہے ، انہیں کسی ایسے صدر کی ضرورت نہیں جواپنی بقا کے لیے بار بار ووٹ مانگنے کا محتاج ہو۔

نہایت عجز و انکسار کے ساتھ

میں آپ کا خادم

(دستخط)

پیر علی محمد راشدی

سیاست اور صحافت کے طالب علموں کے لیے پیر علی محمد راشدی کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ ون یونٹ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرنے والے پیر راشدی کی زندگی ہنگامہ خیز رہی ہے۔ 57 سے 61 تک فلپائن اور پر 1961 سے 1962 تک عوامی جمہوریہ چین میں سفارت کے فرائض سرانجام دینے والے پیر علی محمد راشدی کی ذہانت کے متعلق مسلم لیگ سندھ کے صدر عبداللہ ہارون کہا کرتے تھے کہ راشدی اس قدر باصلاحیت ہے کہ مجھے ہندوستان کا بادشاہ بنوائے گا یا پھر جیل میں ڈلوائے گا۔

پاکستان میں بادشاہت کے قیام کے حق میں جنرل ایوب خان اور ان کے وزیرخارجہ منظور قادر کے نام پیر علی محمد راشدی کے خطوط میں سے ایک خط کا متن پیش خدمت ہے۔ جس کا لب لباب یہ ہے کہ ایک سفیر ایک فوجی آمر کو اس بات پر قائل کر رہا ہے کہ بادشاہت رائج کیے بغیر ملک اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہو سکتا۔

اور یہ تجویز بہرحال اس قدر تو قابل غور ہے کہ اس پر کئی بار خطوط کا تبادلہ ہوا اور اس کے مختلف پہلو زیربحث لائے گئے۔ خدا جانے جنرل ایوب نے اس تجویز پر من و عن عمل کیوں نہیں کیا تاہم جس طریقے سے جنرل ایوب نے صدارتی الیکشن لڑا وہ بھی کسی شاہی رویے سے کم نہیں تھا۔

حاصل کلام یہ کہ پاکستانی سیاست کا المیہ ہے کہ جب شاہ کو ایسے مصاحب نصیب ہوتے ہیں تو پھر سیاست میں ایسی ہی نوٹنکی ہوتی ہے جو اس وقت بھی جاری ہے۔ عوام حیران و پریشان نوٹنکی دیکھنے میں مصروف ہیں۔ پیر علی محمد راشدی ایک شخصیت کا نام نہیں ہے بلکہ یہ مروجہ سیاست کا ایک کردار ہے اور یہ کردار ہر بار ہر نئے دور میں کسی نئے نام سے اپنے عہد کے شاہ کے اردگرد نظر آتے ہیں۔

برائے رابطہ 03334429707

وٹس ایپ 03352644777

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

پیپلزپارٹی نے پی ڈی ایم عہدوں سے استعفے مولانا فضل الرحمن کو بھجوا دیئے

پیپلز پارٹی نے اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم سے علیحدگی کے فیصلے پر مرحلہ وار …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے