پیر , 23 نومبر 2020
ensdur

تیر نہیں میرے زخم کو دیکھ | قادر خان یوسف زئی

تحریر: قادر خان یوسف زئی

پاکستان کے وجود کے ایک حصے کو الگ کرا دیا گیا تو اندازہ ہوا کہ جسم کے کسی حصے کو کاٹا جائے، تو کتنی تکلیف ہوتی ہے، مگر ہم خاموش تماشہ دیکھنے کے سوا کچھ نہ کرسکے کیونکہ زخم تو اپنوں کے ہاتھوں لگا تھا۔ خیال تھا کہ اب تو سب کو نصیحت ہو چکی اور اب پاکستان کے زخمی جسم پر مرہم رکھنے کی کوشش کی جائے گی لیکن ایسا نہیں ہوا،بلکہ نظریہ ضرورت کے نام پر جمہوری نظام کو نقصان پہنچایا اور غیروں کی جنگ میں بری طرح الجھا کر رکھ دیاگیا۔ ہم نے پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنانا تھا لیکن اشرافیہ کے سیاستدانوں نے سرکس کا شیر بنا دیا، جب دیکھو کسی نہ کسی کے اشارے پر عوام کی اٹھک بیٹھک کرائی جاتی ہے، ان بچاروں کی حالت دیکھ کر رونا آتا ہے۔ شدت پسندی اور کرپشن نے ہمیں ساری دنیا میں رسوا کر دیا، لیکن کسی کو اس کی فکر ہے اور نہ فرصت، سبھی تو اقتدار کے چکر میں پڑے ہوئے ہیں، بس حکومت چاہئے لیکن عوام کی حقیقی خدمت کرنے والا کوئی نہیں۔

یہ درست ہے کہ قومیت، شناخت کیلئے ہے لیکن ملت بھی تو پہچان کیلئے ہے کہ نہیں؟ اب دیکھ لیں کہ گستاخانہ خاکوں کی مذمت کرتے ہوئے، کیا کسی نیخود کی کسی مسلک سے وابستگی ظاہر کی، بلکہ سب ایک آواز ہو کر احتجاج کر رہے تھے کہ، ناموس رسالت ﷺ پر جان بھی قربان ہے۔ اب عوام جس ملک کے بھی ہوں ان کی حکومتیں فروعی مفادات کی وجہ سے عالمی قوتوں و مغرب سے مفاہمت کرتی ہیں، اگرکسی مسلم اکثریتی ملک میں ناموس رسالت ﷺ پر باقاعدہ سفارتی احتجاج و بائیکاٹ نہیں کیا گیا تو اس میں امت مسلمہ کا کوئی قصور نہیں۔ المیوں پر جب ایک قوم بن جاتے ہیں، توپھر ہم اسی طرح ظلم کرنیوالوں کیخلاف صف آراء کیوں نہیں ہوتے؟،گھوم گھام کر تعفن زدہ چہرے ہی خود پر مسلط کرا بیٹھتے ہیں۔ ملک میں انتخابات و موجودہ سیاست پر دل ڈولنے اوربلند بانگ دعوؤں کے دعوؤں پرکلیجہ منہ کو آنے لگتا ہے کیونکہ پاکستان میں اقتدارکی منتقلی کبھی برضا و رغبت نہیں ہوسکی۔ ماضی میں جمہوری حکومتوں کی میعاد بھی پوری نہیں ہوتی تھی، اللہ اللہ کرکے یہ روایت بدلی،تاہم روش نہ بدل سکی، انداز سیاست اب بھی وہی ہے، جس سبب کمزور ترین پارلیمانی نظام کسی بھی وقت گرنے کو جیسے تیار بیٹھا ہے۔میں نہ مانوں کی ضد نے پل صراط پر لاکھڑا کردیا ہے۔

الیکڑونک ووٹنگ، شو آف ہنڈز جیسی آئینی ترمیم کے فیصلوں کے نتیجے میں شاید شفاف انتخابات منعقد ہونے کی شایدکوئی سبیل نکل آئے۔ موروثی سیاستداں ہمیشہ سے جاگیردار، وڈیروں، سرمایہ داروں، سرداروں، خوانین اور بیورو کریٹس کو اپنا ”مائی باپ” بنا لیتے ہیں جو عوام کا مسلسل استحصال کرتے رہے ہیں۔ ”بیرونی آقاؤں ” کی تابعداری ہی کو اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ ریاست و حکومت سے یہ توقع رکھنے میں حق بجانب ہیں کہ وہ دہشت گردی ختم کرائیں، انہیں روزگار کے مواقع مہیا کریں، ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری، جگا، غنڈہ، بھتہ ٹیکس،لوڈ شیڈنگ اور مہنگائی سمیت دیرینہ مسائل سے نجات دلائیں۔ حکومت کے وعدوں اور دعووں کا جہاں تک تعلق ہے تو اس حوالے سے عوام کا تجربہ یہ رہا ہے کہ حکومت جس کام کے کرنے پر جتنا زیادہ زور دیتی ہے، عوام میں اندیشے اس حوالے سے اتنے بڑھ جاتے ہیں کہ حکومت یہ ”کام” نہیں کرے گی۔ حکومت کی آزمودہ راگنی تو یہی ہے کہ’گھبرانا نہیں ہے‘ مگر حکمراں جیسا’حوصلہ‘ کہاں سے لائیں۔ اس لئے تمام جماعتوں سے عوام کو تحفظات ہیں اور کبھی کبھار میڈیا اتحادی جماعتوں کے رہنما تک خود ایک دوسرے سے پوچھتے نظر آتے تھے کہ منظور وسان نے ”خواب” دیکھا کہ نہیں؟ پارلیمنٹ میں کسی بھی بل کی منظوری کے معاملے میں تنقید سب کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔

یقینا دہشت گردی کیخلاف جنگ میں اپنی جانیں قربان کرنے والے سیکورٹی اداروں کے شہید افسروں اور جوانوں کا لہو قوم پر قرض ہے۔تمام عوام افواج پاکستان کے ساتھ ہیں، سب سیاست داں دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ پاک صاف ہیں، لیکن سچ تو یہ کہ مملکت کو اب بھی مسلسل لوٹا جا رہا ہے اور محض مفادات کے لئے اجتماعیت کے ٹکڑے کئے جا رہے ہیں، نام نہاد قوم پرستوں کی مذموم تحریکیں پاکستان کی وحدت کو زخمی کر رہی ہیں۔ فرقہ واریت اور لسانیت کے نام پر خونریزی جاری ہے،تاجر برادری پریشان، تو عوام کا پُرسان حال نہیں، پاکستان کو نظریاتی ہی نہیں دفاعی طور پر کھوکھلا کرنے کی سازشیں عروج پر ہیں، سب بے بسی کے ساتھ اپنے لٹنے کا تماشہ دیکھ رہے ہیں۔ سوچتا ہوں کہ ایسا وقت کب آئے گا، جب ہمیں ایسے حکمران ملیں گے جو قومی اخوت کے حقیقی داعی اور عوام کے غمگسار ہوں۔

فرقہ واریت کا اژدھا ملت کو نگلنے کے لئے کافی نہیں تھا کہ مسالک کے نام پر، امت کو مسلسل ڈسا جارہا ہے، چھوٹے چھوٹے گروہ، ریاست کی رٹ کو مذہب کے نام پر چیلنج کرتے ہیں، ریاست اپنے حق کو سرانجام دے تو تنقید کے منہ کھول دیئے جاتے ہیں، جو کام ریاست کے کرنے کو ہیں، انہیں تھیا کریسی کے سرخیل کرنا چاہتے ہیں، جو کام عوام کو کرنا چاہیے وہ حکومت سے کروانے کے لئے بچوں کی طرح ضد کی جاتی ہے۔ کون کس سمت میں ہے، کس کا کیا بیانیہ ہے، سمجھنے سے قاصر ہیں۔سمجھنا ہوگا کہ ہمیں اپنے اپنے کام، اور ہر ادارے کو اپنا فرض اُن حدود کے تحت عمل درآمد کرنا چاہیے، جو آئین نے دیا۔ آئین میں کسی کو کچھ پسند نہیں تو اسے تبدیل کیا جاسکتا ہے۔

فرقہ واریت، لسانیت، صوبائیت، برادریوں کی گروہ بندیوں اور اقتدار کیلئے چھینا جھپٹی اور سیاسی مفاہمتوں کے ہاتھوں بار بار قربانی دینے والے عوام آخر کب تک اُس اونٹ کی طرح اپنے پیروں پر کھڑے رہ سکتے ہیں جنہیں پہلے ہی شہ رگ پر وار کرکے زخمی کیا جاتا رہا ہے۔مملکت کے مفاد کو غیروں کیلئے قربان کرنے کی کوششیں بہت خطرناک ہیں لیکن ایسا کرنے والوں کو اب تک اس میں ناکامی کا سامنا ہے۔ ملک دشمن اپنے مقاصد پورے کرنے کے لئے پورا زور لگارہے ہیں لیکن یہ وطن عزیز کے لئے قربانی دینے والو کا ثمر ہے کہ اب تک خدائے ذوالجلال سایہ فگن ہے۔

 

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

وبا کے دنوں میں بحران کی پیش گفتہ افواہ | وجاہت مسعود

تحریر: وجاہت مسعود ایک عہد ہے کہ تیزی سے اوجھل ہو رہا ہے۔ موت کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے