جمعرات , 25 فروری 2021
ensdur
اہم خبریں

تھپڑ۔۔۔۔

تحریر: سعدیہ معظم
آج صبح جب سوشل میڈیا پہ نگاہ پڑی تو ہر طرف حریم شاہ کے تھپڑ کی گونج تھی۔
ایک قبدیل بلوچ بھی تھیں اپنی بے باکی اور دبنگ انداز کی وجہ سے شہرت کی بلندیوں کو پہنچی ہوئی تھیں اور آج یہ حریم شاہ ہیں جو اپنی ٹک ٹاک ویڈیوز سے اتنی مشہور ہوگئیں ہیں کہ کبھی پارلیمنٹ کے دورے پر ہوتی ہیں کبھی کسی سیاست دان کی مہمان ۔
کل تو حد ہی ہوگئی کہ مفتی صاحب کو تھپڑ رسید کردیا اور پھر ہمدریاں بٹورنے کے لئے عورت کارڑ کھیلا ۔
افسوس ہوتا ہے ایسی خواتین پہ جو اپنی بے باکی کو بہادری سمجھتی ہیں ۔بہادری تو یہ ہے کہ آپ اپنے نامناسک حالات میں اپنے معاملات کیسے لے کر چلتی ہیں ۔
میری نظر میں اگر بہادر اور مضبوط عورت ہے تو ان میں ایک منیبہ مزاری صاحبہ ہیں ۔جو ایک حادثے کا ایسا شکار ہوئیں کہ ان کا آدھا دھڑ معزور ہوگیا ان کے شوہر نے معزوری کی وجہ سے انہیں طلاق دے دی ۔لیکن آج وہ اپنی ہمت اور حوصلے کی وجہ سے معاشرے کی خواتین کے لئے ایک مثال ہیں ۔
شمیم اختر جو پاکستان کی پہلی ٹرک ڈرائیور ہیں اور گوجرانوالہ سے تعلق رکھتی ہیں ۔ٹرک اور سامان کی ترسیل کے وقت ان کا واسطہ بھی طرح طرح کے مردوں سے پڑتا ہوگا۔وہ اپنی محنت اور ہمت سے اپنے گھروالوں کی ضروریات پوری کررہیں ہیں ۔
اور پھر ہر وہ عورت جو اپنے ماں باپ کی عزت کے لئے اپنی محبت قربان کردیتی ہے ۔ہر وہ عورت جو غربت اور مفلسی کے باوجود بے جا فرمائشیں کرکے اپنے باپ بھائیوں کو رسوا نہیں کرتی ۔
ہر وہ عورت میرے لئے قابل قدر اور عظیم ہے جو اپنے شوہر کی کم آمدنی کے باوجود اپنی گرہستی چلاتی ہے ۔ایسی تمام خواتین اپنے حالات سے ناصرف سمجھوتہ کرلیتی ہیں بلکہ مقابلہ کرتی ہیں ۔
اب اگر بات کی جائے حریم شاہ اور ان جیسی بےباک خواتین کی تو یہ صرف انتقاماً ایسا کرتی ہیں ،انہیں اپنےگھروں میں جس جس چیز کی کمی دیکھنے کو ملی ہوتی ہے یا گھر کے اصول لاگو کئے گئے ہوتے ہیں ۔یہ اس کے حصول کے لئے کسی بھی حد تک جاسکتی ہیں ۔یہ ان اصولوں کو توڑ کر دکھاتی ہیں ۔یہ درحقیقت ذہنی مریض ہیں ۔
ایسی خواتین کا تعلق زیادہ تر غریب گھرانوں سے ہوتا ہے جہاں باپ بھائی ان کی فرمائشیں پوری نہیں کرسکتے۔تو یہ خود اٹھ کھڑی ہوتی ہے اور ہر جائز نا جائز راستے سے اپنی بےجا ضرورتیں پوری کرنا شروع کردیتی ہے جہاں انہیں اتنا بے باک ہونا پڑتا ہے کہ معاشرے کاایک مخصوص حلقہ انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیتا ہے ۔جب کبھی یہ کسی مشکل میں پہنس جاتی ہیں وہاں یہ عورت کارڑ کھیلتی ہیں ۔افسوس تو اس وقت ہوتا ہے جب ہمارے معاشرے کی خواتین ان سے ہمدردی کا اظہار کرتی ہیں ۔مانا کہ زیادہ تر مرد ہی عورت کے ساتھ غلط رویہ رکھتا ہے۔لیکن اس کا قطعی یہ مطلب نہی کہ مرد کی اس کمزوری کا فائدہ اٹھایا جائے ۔
اس طرح تو ہم اس برائی کو شہ دے رہیں ہیں ۔
عورت کا معاشرے میں ایک اہم کردار ہے۔
باچا خان نے کہا تھا کہ قومیں اس بات سے جانی جاتی ہیں کہ وہ اپنی عورتوں سے کیسا رویہ رکھتی ہیں۔
تو یہ ذمہ داری عوتوں پہ بھی عائد ہوتی ہےکہ وہ حریم شاہ اور اس جیسی خواتین کی حوصلہ شکنی کر یں نا کہ انہیں عورت کارڑ کھیلنے کی کھلی چھوڑ دی جائے۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

کیا عثمان بزدار استعفیٰ دیں گے؟ | سید مجاہد علی

تحریر: سید مجاہد علی مسلم لیگ (ن) اور مریم نواز کے شور شرابے کو سیاسی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے