پیر , 30 نومبر 2020
ensdur

تصادم کی طرف گامزن | آفتاب احمد گورائیہ

تحریر: آفتاب احمد گورائیہ

پی ڈی ایم کی تحریک جس طرح آگے بڑھ رہی ہے اور دو ہی جلسوں کے بعد تحریک جس نہج پر پہنچ چکی ہے اس سے سیاسی صورتحال سخت گرما گرمی کا شکار ہو چکی ہے، اپوزیشن کو خود بھی شائد اس چیز کا اندازہ نہیں تھا کہ تحریک اس قدر تیز رفتاری سے آگے بڑھے گی۔ اپوزیشن رہنماوں کی جلسوں میں کی جانے والی تُندوتیز تقریروں اور حکومت کی جانب سے گھبراہٹ میں کیے جانے والے اقدامات نے سیاسی ماحول میں شدید تناو کی سی کیفیت پیدا کر دی ہے۔
حکومت نے جس غیر سیاسی انداز میں معاملات کو ہینڈل کرنے کی کوشش کی ہے اور گوجرانوالہ اور کراچی کے جلسوں کے بعد حکومت نے گھبراہٹ میں جو ردعمل دیا ہے اس نے اپوزیشن کا کام آسان کردیا ہے۔ اپوزیشن کی تحریک کا مقصد ہی حکومت کو پریشانی اور گھبراہٹ میں مبتلا کرنا ہوتا ہے تاکہ وہ حکومت سے اپنے مطالبات منوانے کے لیے راہ ہموار کر سکے۔ سیاسی حکومتیں اس طرح کی سچویشن میں بڑی سمجھ بوجھ سے کام لیتی ہیں اور کسی بھی ایسے فیصلے سے گریز کرتی ہیں جس سے ان کی کمزوری یا گھبراہٹ ظاہر ہو۰ لیکن لگتا ہے کہ حکومت دو جلسوں سے ہی گھبرا چکی ہے اور بوکھلاہٹ میں ایسے فیصلے اور اقدام کر رہی ہے جو حلومت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کا باعث بن رہے ہیں۰ حکومتی مشیر اس کو محاذ آرائی کے جس راستے پر لے کر جا رہے ہیں اس کا فائدہ اپوزیشن کو ہو تو ہو، حکومت کو اس کا سراسر نقصان ہی ہو گا۔
تحریک کے پہلے مرحلے میں ابھی صرف جلسے کیے جا رہے اور حکومت کو معلوم ہونا چاہیے کہ جلسوں سے حکومتیں نہیں جایا کرتیں، جلسوں سے اپوزیشن صرف اپنی طاقت کا اظہار کرتی ہے اور کارکنوں اور عوام کو متحرک کیا جاتا ہے۰ حکومتوں کو خطرہ اُس وقت ہوتا ہے جب کوئی تحریک جلسوں سے نکل کر ایجی ٹیشن کے مرحلے میں داخل ہوتی ہے جبکہ موجودہ اپوزیشن تحریک ابھی اُس مرحلے میں داخل نہیں ہوئی۰ سنجیدہ سیاسی حکومتیں پہلے مرحلے میں ہی اپوزیشن کو مذاکرات کے ذریعے انگیج کرنے کی کوشش کرتی ہیں تاکہ تحریک کو ایجی ٹیشن کی طرف جانے سے سیاسی طور پر روکا جا سکے لیکن موجودہ حکومت نے پہلے دن سے ہی اپوزیشن کے لیے اپنے تمام دروازے بند کیے ہوئے ہیں جو کہ انتہا درجے کا غیر سیاسی رویہ ہے۰ جوں جوں اپوزیشن کی تحریک آگے بڑھے گی حکومت کو مذاکرات کی اہمیت کا احساس ہو گا لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی ہو گی اور پھر اپوزیشن کو مذاکرات کی میز پر لانا نہایت مشکل ہو گا اور اُس وقت اپوزیشن اگر مذاکرات پر آمادہ ہو گی تو اپنی شرائط پر۰
حکومت کے اب تک کیے جانے والے اقدامات اور وزیراعظم کے تلخ رویہ سے ظاہر یہی ہو رہا ہے کہ حکومت تصادم کی راہ اختیار کرنا چاہ رہی ہے کیونکہ حکومت کی طرف سے اپوزیشن کو دباو میں لانے کے لیے کیے جانے والے تمام تر اقدامات انتہائی نوعیت کے ہیں۰ عام طور پر اس طرح کے انتہائی اقدامات تحریکوں کے عروج پر جانے کی صورت میں کیے جاتے ہیں نہ کہ تحریکوں کے آغاز میں کیونکہ تحریک کے شروع میں ہی کیے جانے والے ایسے اقدامات اپوزیشن کو دباو میں لانے کی بجائے تحریکوں کو بہت جلدی عروج پر لے جاتے ہیں۰
غداری کے مقدمے، کارکنوں کی پکڑ دھکڑ، کنٹینر لگا کر جلسے روکنے کی کوششوں سے لے کراچی جلسے کے بعد آئی جی سندھ کا ایک وفاقی ادارے کی جانب سے اغوا کا انتہائی اقدام اور اس کے بعد ہونے والے تمام واقعات نہایت سنگین صورتحال کا اشارہ دے رہے ہیں۰ ان تمام اقدامات کے علاوہ جس طرح حکومت کے وزرا اور درجنوں ترجمان جس طرح سارا دن باری باری دھڑا دھڑ پریس کانفرنسوں میں مشغول رہتے ہیں اس سے بھی سیاسی کشیدگی میں بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے۰ اپوزیشن کا کوئی رہنما ایک بیان دیتا ہے اور پھر حکومتی جانب سے پریس کانفرنسوں کی ایک سیریز شروع ہو جاتی ہے جن میں سوائے پچھلی حکومتوں پر الزام تراشی اور وہی گھسے پٹے الزام دہرانے کے کوئی نئی بات نہیں ہوتی۰ ایسا لگتا ہے کہ حکومت کے پاس سوائے پریس کانفرنسوں کے اور کوئی کام ہی نہیں ہے۰ حکومت کی اس روش سے اپوزیشن اور حکومت کے درمیان کشیدگی میں اضافہ تو ہوتا ہی ہے اس سے امورِ مملکت بھی متاثر ہونے سے نہیں رہ سکتے۰
کیپٹن صفدر کی گرفتاری کے لیے ایک وفاقی ادارے کی جانب سے آئی جی سندھ کو یرغمال بنانے کے واقعہ نے تاریخ کا ایک سیاہ باب رقم کیا ہے۰ ایک وفاقی ادارے کی جانب سے صوبائی ادارے کو فتح تو کر لیا گیا لیکن اس سارے معاملے میں ریاست ہار گئی ہے۰ تاریخ میں یہ واقعہ اور اسکے ذمہ داروں کے نام سیاہ حروف سے لکھے جائیں گے۰ اس واقعہ کے بعد سندھ پولیس کے افسروں اور اہلکاروں کی جانب سے جو ردعمل سامنے آیا ہے وہ نہ صرف وفاقی حکومت کے لیے لمحہ فکریہ ہے بلکہ سول بالادستی کی تحریک کے لیے پہلا قطرہ بھی ہے۰
اس واقعہ پر سندھ حکومت اور چیرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے سخت ترین ردعمل سامنے آیا اور بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے پریس کانفرنس میں کھلے الفاظ میں اس واقعہ کی مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ یہ بات ناقابل برداشت ہے کہ کسی بھی ڈسپلنڈ فورس کی اس طریقے سے توہین کی جائے۰ بلاول بھٹو زرداری کی پریس کانفرنس پر آرمی چیف کی جانب سے فوری ردعمل سامنے آیا اور آرمی چیف نے کور کمانڈر کراچی کو فون کر کے اس معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا۰ اس کے ساتھ ہی آرمی چیف نے چیرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کو بھی فون کیا اور اس سارے معاملے کی تحقیقات کا یقین دلایا۔

بظاہر اس سارے کھیل کا مقصد وفاقی حکومت کی جانب سے پی ڈی ایم کی جماعتوں کے درمیان غلط فہمی پیدا کرنا تھا لیکن اس مقصد میں اس واقعہ کی پلاننگ کے ذمہ دار بری طرح ناکام رہے۰ جس کسی مشیر نے بھی وفاقی حکومت کو یہ غلط مشورہ دیا ہے اس نے وفاقی حکومت کے لیے بدنامی کا سامان ہی پیدا کیا ہے۰ اس سارے معاملے میں وفاقی حکومت اور اس کے گماشتوں کو سوائے شرمندگی کے کچھ بھی حاصل نہیں ہو سکا۰
حکومت کی جانب سے اٹھائے جانے والے انتہائی اقدامات کا دلچسپ ترین پہلو یہ ہے کہ یہ تمام تر اقدامات ایک ایسی پارٹی کی حکومت کی جانب سے اٹھائے جا رہے ہیں جس کا اپنا ماضی احتجاجی سیاست سے بھرا ہوا ہے جس میں ایک سو چھبیس دن کا دھرنا، آئے روز کیے جانے والے جلسے، جلوس، گھیراو جلاو، سول نافرمانی سے لے کر اسلام آباد بند کرنے کی دھمکیاں تک شامل ہیں۰ پی ٹی وی کی عمارت پر قبضہ اور پارلیمنٹ ہاؤس کے جنگلے توڑنے جیسے کارنامے بھی تحریک انصاف نے ہی سرانجام دئیے تھے لیکن حکومت میں آنے کے بعد اپوزیشن کے لیے عدم برداشت کا جو رویہ اس حکومت نے اپنایا ہے وہ نہایت نامناسب اور جمہوری قدروں کی نفی ہے۰
موجودہ حکومت کے مشیر اس کو تیزی سے محاذ آرائی کی اس بند گلی کی طرف لے کر جا رہے ہیں جہاں تصادم ہوتا ناگزیر نظر آ رہا ہے۰ یاد رہے 1999 میں میاں نواز شریف کے ساتھی اور مشیر بھی قدم بڑھاؤ نواز شریف ہم تمہارے ساتھ ہیں کا نعرہ لگایا کرتے تھے لیکن جب آزمائش کا وقت آیا تو کڑاکے کڈ دینے کا مشورہ دینے والا سید مشاہد حسین ایک دن بھی ساتھ نہ چل سکا تھا۰ نواز شریف نے جب قدم بڑھائے اور مڑ کر دیکھا تو کوئی نظر نہ آیا سب ق لیگ کی نذر ہو چکے تھے۰ عمران خان کو بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کہیں ان کے ساتھ بھی ایسا ہی نہ ہو جائے۰ عمران خان کے تو زیادہ تر مشیر ویسے بھی یا تو غیر سیاسی لوگ ہیں یا باہر سے امپورٹ شدہ جن کی ہمدردیاں اور وفاداریاں صرف اقتدار کی چکاچوند تک ہی محدود ہوا کرتی ہیں۰
وزیراعظم نے کنونشن سنٹر میں اپنی ٹائیگر فورس سے خطاب کرتے ہوئے جو لب و لہجہ اختیار کیا اور جس طرح منہ پر ہاتھ پھیر پھیر کر اپوزیشن کو للکارتے رہے یقیناً یہ لب و لہجہ ایک وزیراعظم کے شایان شان نہیں تھا۰ وزیراعظم جوشِ خطابت میں اپنے اختیارات سے بھی تجاوز کرنے کی بات کر گئے جب انہوں نے کہا کہ اب کسی کو پروڈکشن آرڈر نہیں ملے گا تو ان کو معلوم ہونا چاہیے تھا کہ پروڈکشن آرڈر سپیکر کا اختیار اور رکن اسمبلی کا حق ہوتا ہے تاکہ اس کے حلقے کے عوام نمائیندگی سے محروم نہ رہیں اور اس میں وزیراعظم کسی طور مداخلت نہیں کر سکتا۰ دوسری بات وزیراعظم نے عدلیہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہی کہ اپوزیشن رہنماوں کے کیسوں کو جلد نمٹایا جائے اور ان کو جلد از جلد سزائیں سنائی جائیں اور ایسا کہتے ہوئے یہ بالکل بھول گئے کہ بے شک ظاہری طور پر ہی سہی لیکن عدلیہ وزیراعظم کے ماتحت نہیں بلکہ آزاد ہے۰ بلاول بھٹو زرداری نے بالکل ٹھیک کہا ہے کہ اب تو اس سلیکٹڈ حکومت نے دکھاوے کے طور پر بھی جمہوری ہونے کا دعوی ترک کر دیا ہے۰
دوسری طرف سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے وزیراعظم کی تقریر کے فورا بعد احتساب عدالتوں کو ہدایت کی ہے کہ کیسوں کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کی جائے، لمبی تاریخیں نہ دی جائیں اور کیسوں کو جلد از جلد نمٹایا جائے جو کہ ایک اچھی بات ہے لیکن یہ زیادہ اچھی بات ہوتی اگر یہ فیصلہ وزیراعظم کی تقریر سے پہلے لے لیا جاتا تاکہ عدلیہ کے بارے ڈکٹیشن لینے کا تاثر پیدا نہ ہوتا۰ اس سے بھی زیادہ اچھی بات یہ ہو گی کہ عدلیہ صرف اپوزیشن رہنماوں کے کیسوں تک ہی محدود نہ رہے بلکہ حکومت کے میگا کرپشن سکیبڈلز جن میں فارن فنڈنگ کیس، پشاور بی آر ٹی کرپشن کیس، مالم جبہ ریزارٹ میگا کرپشن کیس، بلین ٹری کرپشن کیس، ادویات سلیکنڈل، چینی آٹا کرپشن کیس اور بے شمار دوسرے کرپشن کیس جو گزشتہ کئی سالوں سے سٹے آرڈرز کے پیچھے چھپے ہوئے ہیں ان کے بارے بھی جلد فیصلہ کر دیا جائے تاکہ نہ تو یکطرفہ احتساب کا تاثر پیدا ہو اور نہ ہی عدلیہ کی نیک نامی اور غیر جانبداری پر کوئی آواز اٹھا سکے۰
پی ڈی ایم کی تحریک کا تیسرا جلسہ 25 اکتوبر کو کوئٹہ میں ہونے جا رہا ہے۰ اس کے بعد پشاور اور ملتان میں بھی جلسے ہونے ہیں۰ جلسوں کے بعد تحریک کا اگلا اور فیصلہ کن مرحلہ لانگ مارچ پر مشتمل ہے اور اس موقع پر حکومت اور اپوزیشن میں تصادم کا اندیشہ موجود ہے کیونکہ تحریک کے قائدین کے مطابق جنوری سے پہلے پہلے اس حکومت کو چلتا کر دیا جائے گا جبکہ حکومت کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ اپوزیشن کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۰ وزیراعظم کی طرف سے تو یہاں تک کہا جا رہا ہے کہ اب آپ نیا عمران خان دیکھیں گے جس کی ایک جھلک کراچی والے واقعہ میں دیکھی بھی جا سکتی ہے۰ اپوزیشن اور حکومت کے ارادوں کو دیکھتے ہوئے یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ اگلے دو ماہ پاکستان کی سیاست کے لیے نہایت ہنگامہ خیز ثابت ہوں گے۰ اپوزیشن آخری معرکے کے لیے صف بندی کر چکی ہے جس سے نمٹنے کے لیے حکومتی حلقوں میں حکمت، دانشمندی اور سیاسی سوچ کا فقدان نظر آتا ہے۰ ڈنگ ٹپاو قسم کے مشیران اور ترجمان جن کا نہ کوئی سیاسی بیک گراونڈ ہے اور نہ کوئی سیاسی نظریہ، یہ لوگ نہ صرف حکومتی حکمت عملی پر حاوی ہیں بلکہ ویراعظم بھی انہی کے مشوروں کے زیراثر نظر آتے ہیں۰ اگر حکومت انہی لوگوں کے مشوروں پر چلتی رہی تو حکومت کے لیے ایک بڑے امتحان کی صورت پیدا ہو جائے گی جس سے نکلنا پھر اس حکومت کے لیے مشکل ہو جائے گا۔

Please follow on Twitter @GorayaAftab

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

خواب گاہ میں ریت | افشاں احمد

تحریر: افشاں احمد اردو زبان کے متعلق بات ہو تو ذہن غیر ارادی طور پر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے