جمعہ , 10 جولائی 2020
ensdur
CORONAVIRUS PAKISTAN
243599
  • Sindh 100900
  • Islamabad 13829
  • KP 29406
  • Punjab 85261
  • Balochistan 11052
  • GB 1619
  • AJK 1485
  • DEATH 5058

ترجمان ہو تو ایسا | سرفراز انور صفی

تحریر: سرفراز انور صفی
بات ذرا کچھ دن پرانی ہے، لیکن ہے بڑی چسکیلی۔

بیگم نوازش علی کے نام سے ایک کریکٹر کئی سال پاکستان کے بڑے نیوز چینل ” آج ” پر کامیاب ترین پروگرام کی میزبانی کرتا رہا، بیگم نوازش علی کا اصلی نام علی سلیم ہے ، ان کا دعویٰ ہے کہ پی پی پی کی قیادت پر جنسی ہریسمنٹ کا الزام لگانے والی سنتھیا رچی ان کی بیسٹ فرینڈ ہے اور وہ دونوں کئی راتیں ایک ہی کمرے میں اکٹھے سو چکے ہیں، علی سلیم کا دعویٰ ہے کہ سینتھیا ان کے ساتھ ہر طرح کی بات شئیر کر لیتی ہیں، سینتھیا نے اُن سے یہ بات بھی شئیر کی تھی کہ وزیراعظم عمران خان مبینہ طور پر اُس کے ساتھ ایک رات گزارنا چاہتے ہیں لیکن سینتھیا نے کبھی بھی اُن کے ساتھ رحمان ملک کی جانب سے ریپ کیے جانے پر کچھ نہیں بتایا ۔ علی سلیم کا کہنا ہے کہ سنتھیا رچی ان کے انتہائی قریب رہی ہیں اور اگر وہ انہیں یہ بتا سکتی تھیں کہ عمران خان نے انہیں ہمبستری کی پیشکش کی ہے تو پھر وہ یہ بھی بتا سکتی تھیں کہ رحمان ملک نے ریپ کیا تھا۔ علی سلیم نے وضاحت کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ وہ رحمان ملک کو قطعاً پسند نہیں کرتے، رحمان ملک بینظیر بھٹو کے سکیورٹی انچارج تھے اور بینظیر کے قتل میں ان کی بھی تحقیقات ہونا چاہیے تھیں۔
صاحبو ! کالم میں وزیراعظم سمیت بیگم نوازش علی کا ذکر ایسے ہی آ گیا ، اصل میں ہم بات کرنا چاہتے ہیں سندھ حکومت کے ترجمان جناب مرتضٰی وہاب کی جو ان دنوں کورونا پازیٹیو ہیں لیکن یہ وہی مرتضیٰ وہاب ہیں جنہوں نے سینتھیا رچی کے پی پی پی پر حملوں کو ناکارہ بنایا اور سینتھیا کو لینے کے دینے پڑ گئے ۔
یوں تو سندھ ہائیکورٹ بھی مرتضیٰ وہاب کو سندھ حکومت کے لئے کام کرنے سے روک چکی ہے لیکن جو کام کرنا جانتے ہیں ، انہیں لمبے چوڑے محکمہ جات ، عہدوں اور آسائشوں کی ضرورت نہیں ہوتی ۔
پاکستان ایئر فورس کی جانب سے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کا واقعہ ہو یا کراچی کی سکیورٹی صورتحال ، مرتضیٰ وہاب کو قدرت نے اتنی توفیق دی ہے کہ وہ پاک فوج کے حق میں ڈٹ کر بات کریں اور ساتھ ہی ساتھ اپنی پارٹی کا بھی بھرپور دفاع کریں ، کون نہیں جانتا کہ میڈیا سالہا سال سے سندھ حکومت پر ایک ہی وار کرتا آ رہا تھا کہ اندرون سندھ حالات بہت خراب ہیں ، وہاں کوئی ڈھنگ کا ہسپتال ہے نہ سکول کالج ۔۔ بھوک پیاس سے بچے مرنے کی بھی بے بہا کہانیاں تھیں لیکن جب مرتضٰی وہاب نے سندھ حکومت کی ترجمانی کا مورچہ سنبھالا ، میڈیا بھی اپنے کیے پر شرمندہ شرمندہ سا نظر آیا ، مرتضیٰ وہاب نے سندھ کا اصل چہرہ دنیا کو دکھایا اور سب کو بتایا کہ پروپیگنڈہ اور سچائی میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے ۔ کوئی شک نہیں کہ مرتضیٰ وہاب کی ہی وہ ساری ایفرٹ تھی جس کے باعث پوری دنیا نے سندھ حکومت کو کورونا وائرس کے ساتھ پوری دلیری سے لڑتے دیکھا اور سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کے لئے اقوام متحدہ سے بھی خراجِ تحسین آیا ، یہ بات بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ مرکزی حکومت نے سندھ سے خاص مخالفت کا ” کبڈی میچ ” شروع کیا ہوا ہے لیکن مرتضیٰ کے ہوتے وفاقی حکومت کا ہر وار ، ہر میزاءل راستے میں ہی پھٹ جاتا ہے ، مرتضٰی نے بارہا پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت کو نہ صرف آئینہ دکھایا بلکہ بعض اوقات اچھے مشورے بھی دیئے ، ایک طرف جہاں پورے ملک میں کورونا مریضوں کے علاج کے لئے ہوس کے پجاریوں نے اپنی تجوریوں کی طرح منہ بھی کھولے ہوئے وہاں دوسری جانب مرتضیٰ وہاب اکثر اوقات قوم کو دکھاتے رہے ہیں کہ سندھ حکومت کیسے اپنے مریضوں کو پورا علاج مفت فراہم کر رہی ہے ، یہی نہیں بلکہ سندھ حکومت کے ترجمان نے دنیا کو یہ بھی بتایا ہے کہ ان کے صوبہ میں دل ، جگر ، گردوں سمیت ہر طرح کے امراض کا علاج مفت ہوتا ہے ۔
کوئی شک نہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا پیسہ موجودہ حکومت احساس پروگرام کے نام سے عوام میں بانٹ رہی ہے لیکن مرتضیٰ وہاب ہی وہ چاک و چوبند سیاستدان ثابت ہوئے ہیں جو سندھ میں ایسے پی ٹی آئی رہنماوں کو ننگا کرنے میں کامیاب ہوئے جو مبینہ طور پرغریبوں کی اس چھوٹی سی رقم میں سے بھی حصہ وصول کرتے تھے ۔۔
آخر میں عرض ہے تو فقط یہ کہ ہم مرتضیٰ وہاب کے ترجمان ہیں اور نہ ہی سندھ حکومت سے کوئی سروکار ہے ، مدعا صرف اتنا ہے کہ ان دنوں مرتضٰی وہاب کورونا کی بیماری میں مبتلا ہیں اور ٹی وی سکرینز پر بہت کم نظر آتے ہیں ، کئی دن سے ان سے بات بھی نہیں ہو سکی ، بطور صحافی ہمارا فرض ہے کہ کبھی کبھار ایسے سچوں کا بھی ذکر کر لیا کریں جن کے بارے میں پڑھ کے دوسروں کو کچھ سیکھنے کا موقع ملے ، ہم یہ نہیں کہتے کہ وفاقی حکومت کے پاس ترجمانوں کی کمی ہے ، تمام ایک سے بڑھ کرایک ہیں لیکن ہماری دعا ہے کہ پی ٹی آئی کو بھی مرتضیٰ وہاب جیسا ترجمان ملے اور وہ جلد از جلد اپنے شہباز گلوں سے جان چھڑوا لے جو آئے دن اپنی اول فول باتوں کے باعث صحافیوں سے بے عزتی کرواتے رہتے ہیں جبکہ ان کی ایسی حرکتوں سے سلیکٹرز کی کمزور ترین حکومت بھی ریت کی دیوار ثابت ہو رہی ہے ۔۔۔
ہماری دعا ہے کہ مرتضیٰ وہاب جلد از جلد صحت یاب ہوں اور پھر سے اپنے مورچوں میں ڈٹ جائیں ، بیشک وہ فوزیہ وہاب جیسی عظیم ماں کے سپوت ہیں جن کی حکمت ، دانائی اور سیاسی سبک رفتاری پر شہید بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری بھی نازاں ہیں ۔ ” میریا ڈھول سپاہیا ! تینوں رب دیاں رکھاں ۔ “

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

دوسروں کا بچا ہوا کھانا جمع کرنے والا ہیرو | پروفیسر عبدالشکور شاہ

تحریر: پروفیسر عبدالشکور شاہ وادی نیلم، جنوری کا مہینہ، ہرطرف برف، ایک کمرے میں 60 …

ایک تبصرہ

  1. May Allah give him speedy recovery and long life

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے