ہفتہ , 17 اپریل 2021
ensdur

تاریخ کا زندہ بھٹو | مصطفیٰ علی بیگ

تحریر: مصطفیٰ علی بیگ
“میں تاریخ میں مرنے کی بجائے فوج کے ہاتھوں مرنے پر ترجیح دوںگا. ” یہ الفاظ پاکستان کے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے تھے جنھیں 4اپریل 1979 کو راولپنڈی ڈسٹرکٹ جیل میں پہ تختہ دار پر چڑھایا گیا. بھٹو کو 3 ستمبر 1977 میں اپنے سیاسی مخالف نواب محمد کے “قتل کی سازش” میں گرفتار کیا گیا تھا .بھٹو کو لاہور ہائیکورٹ کےجسٹس صمدانی نے متضاد اور ناکافی ثبوت ہونے پر رہا کیا تھا ، جس کی جسٹس صمدانی کو قیمت ادا کرنا پڑی ا ور اسے فورا ہی عدالت سے ہٹا دیا گیاتھا.18مارچ 1978 کو چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مولوی مشتاق حسین نے وزیر اعظم پاکستان جناب ذوالفقار علی بھٹو کو نواب محمد قتل کیس میں سزائے موت سنائی۔ یہ فیصلہ حیرت انگیز نہیں تھا کیونکہ یہ آمر ضیاء الحق کی خواہشات کے مطابق تھا جو بھٹو کو پاکستان کے سیاسی منظر نامے سے ہٹانے کے لئے مستقل طور پر کام کر رہا تھا .
بشیر ریاض صاحب لکھتے ہیں کہ معروف برطانوی وکیل سر جان میتھیو اس مقدمے کی سماعت کے لئے پاکستان تشریف لائے۔ ان کا بیان تھا کہ اگر اس طرح کا معاملہ برطانوی عدالتوں میں پیش کیا جاتا تو اسے فوراہی خارج کردیا جاتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ چیف جسٹس کے متعصبانہ رویہ نے یہ حقیقت واضع کردی کہ بھٹو کے خلاف فیصلہ دیا جائے گا۔ سابق امریکی اٹارنی جنرل رمسی کلارک نے اسے “کینگرو عدالت” اورمقدمہ کا مذاق قرار دیا۔ مسٹر کلارک نے لکھا کہ”استغاثہ کا مقدمہ مکمل طور پر ایسے گواہوں پر منحصر تھا جنھیں حراست میں میں لے کر اعتراف جرم کروایا گیا اور زیادہ گواہیاں سنی سنائی باتیں تھی جو معتبرشہادت نہیں ہوتی.”
جن لوگوں نے یہ سوچا کہ وہ ذوالفقار علی بھٹو کا نام ختم کرسکتے ہیں وہ بہت ناکام ہوگئے ذوالفقار علی بھٹو آج بھی اپنے نظریے کی وجہ سے زندہ ہے ، جبکہ ان کو قتل کرنے والوں کے نام بھی غائب ہوچکے ہیں۔
ذوالفقار علی بھٹو نے گرفتاری کے بعد ، حراست میں رہتے ہوئے کبھی بھی یہ تاثر نہیں دیا کہ انہیں کوئی تکلیف یا مایوسی کا سامنا ہے. ذوالفقار علی بھٹو جانتے تھے کہ انہیں بخشا نہیں جائے گا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اپنا مقدمہ قانونی بنیادوں پر لڑنے کے بجائے تاریخ میں اپنا نام درج کرنے کا فیصلہ کیا۔ عدالت کے سامنے ان کے دلائل تاریخ کے لئے تھے عدالت کے لئے نہیں۔ یہ دلائل اسیری کے دوران لکھی گئی کتاب ” اگر مجھے قتل کیا گیا “میں شائع ہوئے ۔
ذوالفقار علی بھٹو کی المناک موت نے پاکستانی معاشرے کو سیاسی طور پر مکمل تقسیم کر دیا اور یہ تقسیم اب بھی اس ملک کو سیاسی استحکام سے محروم رکھے ہوئے ہے۔ جس طرح عدالتوں نے ذوالفقار علی بھٹو کے مقدمے کو چلایا اور جس طرح اس مقدمے کے دوران قانون کی دھجیاں بکھیری گئیں یہ اب تاریخ کا حصہ بن گئی ہیں۔یہ ایک ایسا مقدمہ تھا جس کو آج تک عدالتی نظیر کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکا.
ذوالفقار علی بھٹو کو پاکستان کی سیاست میں کئی اعتبار سے ممتاز مقام حاصل ہے۔ وہ بلا شبہ مقبول لیڈر تھے انہوں نے پاکستان کو ایک متفقہ آئین دیا جو کہ اب بھی مختلف قطع و برید کے باوجود قائم ہے۔ اور بہت سارے مہم جووں کی خواہشات کے باوجود ان میں جرات نہیں ہوئی کہ اس کو ختم کر دیں یا مکمل طور پر تبدیل کریں۔ ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی جماعت پیپلزپارٹی کا سیاسی منشورتھا روٹی ، کپڑا اور مکان جس نے شروع ہی سے مقبولیت حاصل کی اور لوگوں کو ان کے بنیادی حقوق کی طرف راغب کیا۔ اگرچہ وہ خود جاگیردار تھے لیکن انہوں نے پاکستان کے غریب عوام کو آواز دی اور جاگیرداروں کے سامنے آواز اٹھانے میں ان کی مدد کی ۔انہوں نے اس ملک کے نیچے دبے ہوئے لوگوں کو بہتر مستقبل کی امید ، وقار اور مقصد کا احساس دیا.
سیاسی قیادتوں کو ختم کرنے کے لیے یا بدنام کرنے کے لیےاب بھی عدالتوں کو احتساب کے نام پر استعمال کیا جا رہا ہے ۔ ہماری تاریخ کا سبق ہے کہ عوامی رہنماؤں کو متنازع عدالتی فیصلے نہیں بلکہ صرف عوامی عدالتیں ہی ختم کر سکتی ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کو جنرل ضیاء الحق مار نہ سکے اور بھٹو تاریخ میں زندہ رہنے کو ترجیح دیتے ہوئے امر ہو گیا۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

محکمہ داخلہ نے کالعدم ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی کا شناختی کارڈ بلاک کردیا گیا

کالعدم تنظیم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی)کے سربراہ سعد رضوی کا شناختی کارڈ بلاک …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے