منگل , 19 جنوری 2021
ensdur

بین الاقوامی سیاست اور پاکستان پیپلز پارٹی | زوہیب حسن ایڈوکیٹ

تحریر : زوہیب حسن ایڈوکیٹ

آج میڈیا پر ایک خبر دیکھی کہ امریکہ نے اپنے نو منتخب صدر جوبائڈن کے بحیثیت صدر زمہ داریاں سنبھالنے کے تقریب میں پاکستان پیپلز پارٹی کے قائدین جناب آصف علی زرداری اور چیئرمین جناب بلاول بھٹو زرداری صاحب کو شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔

یہ کوئ نئی خبر نہیں اور نہ ہی یہ کوئ پہلی بار ہو رہا ہے جناب آصف علی زرداری کو اس سے قبل بھی امریکہ کے سابق صدرو باراک اوبامہ اور ڈونلڈ ٹرمپ کے بطور صدر امریکہ کے زمہ داریاں سنبھالنے کی تقریب میں شرکت کے لیئے مدعو کیا جا چکا ہے۔

بات حمایت ‘ مخالفت ‘ خوش آمد ‘ دوستی اور دشمنی کی نہیں بلکہ پاکستان میں بین الاقوامی مسائل کو سمجھنے اور بین الاقوامی تعلقات میں بیلنس رکھنے کو اچھی طرح سمجھنے اس سے نمٹنے والی سنجیدہ اور اہل سیاسی جماعت کا نام پاکستان پیپلز پارٹی ہے۔

ورنہ یہ بات انتہائ واضح ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے سابق امریکی صدر ٹرمپ کے مقابلہ میں مخالف صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن کی واضح ہمایت کی تھی جو کے بعد میں ٹرمپ صدارتی الیکشن جیتنے میں کامیاب ہوۓ مگر باوجود اس کے امریکہ نے ٹرمپ کے بطور صدر اختیارات سنبھالنے کی تقریب میں جناب آصف علی زرداری صاحب کو مدعو کیا تھا۔

امریکہ کے ساتھ اچھے سفارتی اور معاشی تعلقات کے ساتھ ساتھ جہاں کہی ضرورت پیش آئ وہاں سابق صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری اپنے ملک کے عوامی مفادات اور جذبات کے خاطر امریکہ کے سامنے ڈٹ کے کھڑے بھی ہوۓ۔

نیٹو ایئر بیس کو بند کرنے کا فیصلہ ہو اور امریکہ کے کھلم کھلا مخالفت اور ناراضگی کے باوجود ایران کے ساتھ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ پر دستخط کرنے جیسے اقدامات بھی پاکستان پیپلز پارٹی اور سابق صدر آصف علی زرداری نے اٹھاۓ۔

امریکہ اور روس کے مابین سخت اور سرد مہری پر مبنی تعلقات کا علم سب کو ہے۔ مگر یہی زرداری صاحب ہی تھے جو اپنے دور صدارت میں بطور صدر پاکستان تقریبا 35 سال بعد روس کا سرکاری دورہ کرنے والے پہلے پاکستانی حکمران تھے اسی دورہ میں زرداری صاحب نے روس کے ساتھ کئ اہم عوامی منصوبوں پر دستخط بھی کیئے۔

یاد رہے کہ زرداری صاحب سے قبل آخری بار روس کا سرکاری دورہ کرنے والے بھی کوئ اور نہیں بلکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین جناب زوالفقار علی بھٹو ہی تھے۔

بات ہو رہی تھی بین الاقوامی سیاست کو سمجھنے اور اس سے نمٹنے کے اہلیت رکھنے والی ملک کے اہل سیاسی جماعت کی !

دنیا میں تقریبا 160 ممالک کی ایک تنظیم جس کا نام سوشلسٹ نیشینز ہے میں بھی پاکستان کا نام صرف پاکستان پیپلز پارٹی ہی کی وجہ سے ہے کیونکہ پاکستان پیپلز پارٹی ہی اس ملک کی وہ واحد ایک سیاسی جماعت ہے جو اس بین الاقوامی تنظیم کی رکن ہے۔

مختصر یہ کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور اسکے قائدین بلکہ اس پارٹی کے اچھے خاصے بڑے تعداد میں ورکرز کی سیاسی معاشی اور نظریاتی پر مبنی راۓ اور تبصرہ کو دنیا سنجیدہ لیتی ہے اور اسکا احترام بھی کرتی ہے۔

کبھی بھی جرمنی اور جاپان کے سرحدات کو ملانے والوں ملک میں 12 موسم دریافت کرنے والوں انڈہ مرغی بھینس بکری مرغی سے معیشت درست کرنے والوں اقوام متحدہ کے UNHCR کے کل تعداد جوکہ 47 ہے میں سے 52 ممالک کی حمایت حاصل ہونے والے جیسے بیانات دینے والوں سے دیگر ممالک اپنے سربراہان کے ڈرائیوری کا کام تو لیں سکتی مگر اپنے ملک کے کسی سنجیدہ محفل میں نہیں بٹھا سکتی۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

پی ڈی ایم کا پی ٹی آئی فنڈنگ کیس کے فیصلے میں تاخیر پر الیکشن کمیشن کے سامنے بھرپور پاور شو

پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے میں تاخیر پر پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے