اتوار , 20 ستمبر 2020
ensdur

بین الاقوامی جریدے میں عاصم باجوہ پر الزامات کی بازگشت

احمد نورانی کی معاونِ خصوصی وزیر اعظم برائے اطلاعات اور سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین جنرل ر عاصم سلیم باجوہ کے اثاثوں سے متعلق ایک خبر فیکٹ فوکس نامی ویب سائٹ پر سامنے آ گئی۔ جس میں کروڑوں ڈالرز کی کمپنیوں کا جنرل صاحب کی اہلیہ اور بچوں کے نام پر براہ راست ہونے کا ذکر تھا۔ جس کے بعد کافی دیر تو یہ خبر چھپانے کی کوشش کی گئی تاہم یہ نہ ہو سکا اور مریم نواز نے اس کو سیاسی بیانیے کا حصہ بنا لیا جس کے بعد جو سلسلہ شروع ہوا وہ تھم نہ سکا۔
اس کے رد عمل میں باجوہ صاحب نے ایک وضاحتی پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے ان کمپنیوں کے وجود تو مانا لیکن ان سے منسوب کاروبار کے حجم کو رد کر دیا۔ کچھ ہی دیر بعد مشیر اطلاعات کے عہدے سے مستعفی ہونے کا بھی اعلان کر دیا لیکن سی پیک اتھارٹی کی چیئرمین شپ بدستور اپنے پاس رکھی۔ وزیر اعظم کی جانب سے یہ کہتے ہوئے استعفا رد ہو گیا کہ وہ عاصم باجوہ کی اثاثوں سے متعلق وضاحت پر مطمئن ہیں۔ اور اب ان کے پاس دنوں عہدے موجود ہیں۔
تاہم، لگتا یہ ہے کہ کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ میڈیا کے آف دی ریکارڈ حلقوں میں طاقت کے کئی دھڑوں کے بارے میں افواہیں گرم ہیں۔ تو آج Asian Review Nikkei میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں یہ کہا گیا ہے کہ سی پیک کے سربراہ یعنی جنرل ر عاصم سلیم باجوہ پر استعفا دینے کے لئے دباؤ ہے۔ یہ دباؤ کس طرف سے ہے؟ اس حوالے سے جریدے کا کہنا ہے کہ پاکستانی میڈیا میں یہ سوالیہ خیال سرگرم ہے کہ طاقتور جنرل ر باجوہ کے اثاثوں کے حوالے سے خبر برابر کے طاقتور حلقوں کی اشیر باد کے بغیر نہیں دی جا سکتی۔
مضمون میں لکھا گیا ہے کہ سی پیک کی سربراہی پر ایک ایسے شخص کی موجودگی جس پر بڑے اثاثے نامعلوم ذرائع اور اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے بنانے یا ان میں مدد دینے کا الزام ہو اس پورے منصوبے پر سوال تو اٹھاتا ہے۔ دوسری جانب سیاسی طور پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے اور اس کو کوئی نہ کوئی راہ تو دینا ہوگی۔
ساتھ ہی مضمون میں وارسا کے ایشیئن ریسرچ سنٹر برائے وار سٹڈیز کے محقق کا بیان شامل کیا گیا ہے جو کہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی ایلیٹ سی پیک کو ہر حال میں اختلافات کے باوجود پورا کرنا چاہتے ہیں۔ ساتھ ہی ولسن انسٹیوٹ کے ایشیا پروگرام کے ڈپٹی ڈائریکٹر کیوگلمین کا بھی تجزیہ اس میں شامل کیا گیا ہے۔ جس میں ان کا کہنا ہے کہ کرپشن کا سکینڈل عاصم باجوہ کو سی پیک پر کام کرنے سے نہیں روک سکے گا۔ یہ انہوں نے اس سیاق و سباق میں کہا کہ چین اور پاکستان دنوں ممالک میں انہیں سی پیک کے حوالے سے اعلیٰ درجے پر جانچا جاتا ہے۔
اب تازہ ترین طور پر وزیر اعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہہ دیا ہے کہ جسے جنرل عاصم باجوہ کی منی ٹریل پر اعتراض ہے وہ جا کر عدالت میں جے آئی ٹی کے لئے درخواست دے دے۔

بشکریہ نیا دور

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

عاصم باجوہ نے بلوچستان میں سازش کی، نواز شریف

پیپلز پارٹی کی میزبانی میں منعقد آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے