منگل , 22 ستمبر 2020
ensdur

بیروت دھماکے، آزادی فلسطین کے خلاف صیہونی سازش | پروفیسر عبدالشکور شاہ

تحریر: پروفیسر عبدالشکور شاہ
لبنان کے شہر بیروت میں ہونے والے تباہ کن حملوں سے کچھ دیر پہلے اسرائیلی وزیر اعظم نے ان دھماکوں کے بارے اپنے ٹویٹر پیغام میں اشارے دیے تھے۔حملوں کے فورا بعد مغرب اور مغرب نواز میڈیا نے بغیر کسی رپورٹ یاتحقیق کے آزادی فلسطین کے لیے بر سر پیکار جماعت حزب اللہ پر الزامات کی خبریں چلانی شروع کر دیں۔حزب اللہ یا فلسطین کی آزادی کی جدوجہد میں مصروف کسی بھی جماعت پر الزامات لگانا آزادی فلسطین کے لیے سرگرم جماعتوں کو دہشتگردی سے جوڑنے کی یہودی سازش ہے۔ اسرائیل میڈیا کے زریعے آزادی فلسطین کی جدوجہد کو عرصہ دراز سے متنازعہ بنانے کی مذموم کوششوں میں مصروف رہا ہے۔ اسرائیلی ایجنسیاں عرب ممالک میں دہشت گردی کی کاروائیوں میں ملوث رہی ہیں۔حزب اللہ یا حماس اگر اتنی طاقتور ہوتی تو وہ اپنے ازلی دشمن اسرائیل کے خلاف کاروائی کرتی،اسے لبنان میں اپنے ہی لوگوں کا نشانہ بنانے کی کیا ضرور ت تھی۔اسرائیل عرب ممالک کو فلسطین کاز سے الگ کرنے کے لیے ایسی کاروائیاں کرتا ہے اور کسی حد تک وہ عرب ممالک کی آزادی فلسطین سے وابستگی اور حمایت ختم کرنے میں کامیاب بھی ہو چکا ہے۔عرب ممالک اپنے باہمی اختلافات اور اندرونی خانہ جنگی کے زریعے اتنے کمزور کر دیے گئے ہیں کے اب انہیں آزادی فلسطین کے بجائے اپنے مستقبل کی فکر ستائے جا رہی ہے۔ عرب ممالک کے نئے بنتے ہوئے اتحاد نے بھی مسئلہ فلسطین کو نظر انداز کیا ہے۔ ایران اسرائیل تعلقات کے آغاز کی خبروں نے آزادی فلسطین کے لیے سرگرم جماعتوں کو پریشان کر دیا۔ انہوں نے ایران اسرائیل تعلقات کو پروان چڑھنے سے روکنے کے لیے ایران کے ساتھ رابطے کیے جن کی وجہ سے عرب ممالک کی ناراضگی کاسامنا کرنا پڑا۔اسرائیل ہمیشہ سے وقت لینے کی حکمت عملی پر کاربند رہتے ہوئے اسرائیل اور فلسطین کے مابین طے پانے والے معائدوں کو روندتا آیا ہے۔ اسرائیل کو یورپی ممالک کے ساتھ کچھ عرب ممالک کی حمایت بھی حاصل ہے۔ اسرائیل نے عرب ممالک کو ان کے داخلی مسائل کے ساتھ خارجی عوامل کے ساتھ اتنا الجھا دیا ہے کہ اب آزادی فلسطین ان کی ترجیحات میں شامل دکھائی نہیں دیتا۔ شام ہو یا عراق، مصر ہو یا لبنان حتی کہ سعودی عرب کو بھی دہشت گرد حملوں کا نشانہ بنوا چکا ہے۔ اب عرب ممالک اسرائیل کے خلاف کوئی مشترکہ اتحاد تو درکنار وہ کوئی مشترکہ بیانیہ بھی جاری کرنے سے قاصر ہیں۔ لبنان کے شہر بیروت میں حولناک دھماکے بھی اسرائیل کی آزادی فلسطین کو دہشت گردی سے جوڑنے اور عرب ممالک کو حماس، الفتح اور حزب اللہ کے خلاف میدان میں لانے کی ایک کڑی ہے۔ اسرائیل کی جانب سے ایسی دہشت گرد کاروائیوں کے خطے پر دیرپا اثرات مرتب ہوں گے۔ ایسے دہشت گرد حملوں کا ایک مقصد عرب ممالک کو فلسطین کاز سے الگ کرنا اور فلسطینیوں کو ملنی والی عرب امداد کو بند یا اس میں خاطر خواہ کمی لانا ہے۔ عرب ممالک کی حمایت کے بغیر فلسطینی مزید بے بسی اور لاچاری کا شکار ہو جائیں گے۔ اسرائیل پہلے ہی ٹرمپ انتظامیہ کے زریعے یورپی ممالک سے ملنے والی فلسطینی امداد کم کروانے میں کامیاب ہو چکا ہے۔ فلسطینی ستر سال سے زیادہ عرصے سے آزادی کی جدوجہد میں مصروف عمل ہیں۔ فلسطین پر عرب ممالک کی بدلتی ترجیحات اور اندرونی اختلافات نے اسرائیل کو پھلنے پھولنے کابھر پور موقعہ فراہم کیا ہے۔ اسرائیل نواز امریکہ بھی ماضی سے بڑھ کر اسرائیل کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ موجودہ امریکی قیادت نے ماضی سے کہیں زیادہ نہ صرف اسرائیل کی حمایت کی ہے بلکہ اس کی امداد بھی کئی گنا بڑھا دی ہے۔یروشیلم کو اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کرنا اور اپنی ایمبیسی کی وہاں منتقلی جیسے اقدامات نے اسرائیل کو مزید سفاک بنا دیا ہے۔ امریکہ اسرائیل کے زریعے اپنے اسلحے کے تجربات فلسطینیوں پر کرنے میں بر سر پیکار ہے۔ بیروت پر انسانیت سوز حملوں کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے مگر اس کو حزب اللہ یا آزادی فلسطین کی کسی جماعت سے جوڑنا اسرائیل کی گھناؤنی سازش ہے جو کچھ سالوں بعد عراق کے کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق جھوٹ پر مبنی رپورٹ سے ملتی جلتی ثابت ہو گی۔

برائے رابطہ 03214756436

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

نواز شریف اتنے بھی “بھولے” نہیں | نصرت جاوید

بسااوقات واقعتا گھبرا جاتا ہوں۔ چند مہربان پڑھنے والے بہت اشتیاق سے اہم ترین سیاسی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے