جمعرات , 4 مارچ 2021
ensdur

بیانیہ کی لڑائی اورپستے عوام | خرم اعوان

تحریر: خرم اعوان

پاکستان تحریک انصاف اور اس کے سربراہ موجودہ وزیراعظم اپوزیشن (پی ڈی ایم) کا بیانہ ختم کرتے کرتے، اپنا بیانہ اور بحیثیت حکومت اپنی شناخت کھوتے جا رہے ہیں۔ چند ایک ٹی وی چینلز کو چھوڑ کر باقی تمام ایک ہی گردان لگائے بیٹھے ہیں کہ (پی ڈی ایم) ختم ہو گئی، پاکستانی سیاست سے غیر متعلقہ ہو گئی۔ میری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ نواز شریف گوجرانولہ کے جلسے میں چند نام لیتا ہے اب تک حکومت کے ریڈار میں ہیں۔ جب سے پی ڈی ایم وجود میں آئی ہےاُس وقت سے اب تک حکومت اور وزیراعظم کے حواس پہ سوار ہے۔ یہی تو اپوزیشن چاہ رہی تھی کہ وہ ”ڈسکس“ ہو، اور وہ ہو رہی ہے۔اب پھر سے حکومت کی جانب سے پی ڈی ایم کی لے دے ہو رہی تھی ۔ حکومت کے مطابق اپوزیشن سو رہی تھی تو جناب اپوزیشن نے صرف سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو اسلام آباد کے میدان سے سینیٹ کے لیے کیا اتارکر اپنے جاگتے ہوے ہونے کا ثبوت دیا اور اب ہر جانب سینیٹ اور اسلام آباد کی سیٹ ہی موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔

سینیٹ یہاں تک وزیراعظم کے حواس پہ سوار ہو گیا ہے کہ شیریں مزاری گمشدہ لوگوں کے لواحقین سے ملنے گئیں اور انہیں یہ یقین دلایا گیا کہ آپ لوگ ابھی چلے جائیں وزیراعظم آپ لوگوں سے 15 مارچ کے بعد ملیں گے۔ کیونکہ 3 مارچ کو سینیٹ الیکشن ہیں پھر چیئرمین سینیٹ کا الیکشن ہے یہ سب مکمل ہو گا تقریباً 15ارچ تک تو پھر وزیراعظم گمشدہ لوگوں کے لواحقین سے ملیں گے۔ اس وقت تک اگر کوئی مرتا ہے تو مرتا رہے۔ یہ اپوزیشن بہت ظالم ہے ،جو ایک کارڈ کھیلتی ہے اور دور ہو کر بیٹھ جاتی ہے سارا تماشہ حکومت اس کے حواری خود شروع کر دیتے ہیں۔ یہ تو وہی پنجابی کی مثال ہو گئی (لاواں گٹے تے پئی پٹے)۔ کیونکہ ابھی تک نہ تو گیلانی صاحب اور نہ ہی پارٹی ووٹ مانگنے کے لیے متحرک ہوئی ہے تو یہ حال ہے،کہ حکومت ووٹ اکٹھے کرتی پھر رہی ہے۔ جہانگیر ترین میدان میں ایک مرتبہ پھر کود چکے ہیں۔ یعنی عمران خان اور جہانگیر ترین رابطے میں ہیں۔ اگر نہیں تو حفیظ شیخ صاحب کا جہانگیر ترین سے خودسے مدد مانگنے پر عمران خان کو حفیظ شیخ کی سرزنش کرنی چاہیےتھی کیونکہ شیخ صاحب اُسی عطار کے لونڈے سے دوا لینے پہنچے ہیں یہ تو وہی بات ہو گئی ایک خزانے کا چور ہے اور دوسرا خزانے کا وزیر ہے۔ جو پارٹی یہ دہائی دیتے نہیں تھکتی تھی کہ عمران خان نے اپنے اور پرائے میں فرق نہیں رکھا، جو جرم کرے گا عمران خان اسے نکال باہر کرے گا،یہ اچھا نکال باہرکیاہے بھئی واہ مزا آ گیا۔

دوسرا عمران خان کے سر پر سینیٹ الیکشن ایسے سوار ہے کہ اس پریشانی کو بھانپتے ہوئے کسی چاہنے والے نے کہا ہو گا کہ وزیراعظم آپ پریشان نہ ہوں آپ سینیٹ پر توجہ دیں یہ نیشنل اسمبلی کی سیٹ ہم آپکو (ن) سے نکال کر دیتے ہیں جس پر عمران خان نے کہا ہو گا ٹھیک ہے جو ٹھیک لگے کرو۔ اس اجازت کے بعد (ن) سے سیٹ نکالنے والے صاحبان نے ایسی سیٹ نکالی کہ عمران خان کے گلے میں ڈال دی۔

ہم بھی اسی پنجاب میں الیکشن دیکھتے رہے ہیں،یہاں پر طاقتور امیدوار اور پارٹیاں پولنگ اسٹیشن کے سٹاف کو کبھی کبھارغائب کرتے ہوتے تھے اور ہیں، مگر وہ تین یا زیادہ سے زیادہ پانچ پولنگ اسٹیشنز نہیں ہوتے تھے ۔ اکثر دیرہونے پر عمر رسیدہ اور دوور دراز کا الیکشن عملہ اپنے ٹھکانے پر جا کر کچھ دیر آرام کر کے تو پھرنتیجہ الیکشن کمیشن کے حوالے کرتے تھے۔ مگر یہاں سو فیصد پکا نتیجہ چاہیے تھا تو ایک دو یا پانچ نہیں بلکہ 23 پولنگ اسٹیشن کا عملہ غائب ہو جاتا ہے۔ اور جو لوگ اس سب کو کسی اور طاقت کی جانب سے جوڑنا چاہ رہے ہیں تو جناب یہ خالص لوکل ایڈمنسٹریشن کا کارنامہ ہے۔ وہ نادیدہ قوتیں صرف وہاں سامنے آئیں گی یا حرکت میں آئیں گی جب عمران خان خطرے میں ہو گا۔ اور اس سیٹ کے ہارنے یا جیتنے سے عمران خان کی سیٹ کوکوئی فرق نہیں پڑتا ۔ اس لیے یہ سول بیورکریسی کا کارنامہ ہے یہ ان کی نااہلی ہے۔ کچھ لوگ یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ فوج کو شامل نہیں کیا گیا اس لیے یہ سب ہوا ہے تو جناب رینجرز تو موجودتھی، کیا رینجرز SHO شاہدرہ کے ماتحت تو نہیں ہے ۔

تو جناب یوسف رضا گیلانی اور سیالکوٹ کا (75این اے ) کا انتخاب اس کی اہمیت کچھ نہیں ، اگر اپوزیشن دونوں جیت جاتی ہے تب یہ کہا جائے گا کہ حکومت اپنی اہمیت کھو رہی ہے، عوام کا اور عوامی نمائندگان کا اعتماد حکومت پر نہیں رہا۔ اگر ہار جاتی ہے تو اپوزیشن کہے گی کہ ہم نہ کہتے تھے کہ یہ دھاندلی کی پیداوار حکومت ہے، ان کو غیب سے مدد حاصل ہے۔ ان کو آٹا چور، چینی چور فنڈ کر رہے ہیں۔ یہ پیسے عمران خان نے ۔ اپنے فرنٹ مینوں کے ذریعے کمائے ہیں ۔ ساتھ ہی عمران خان کے ساتھ ملک کے ادارے بھی ملے ہوئے ہیں ، اس کے پیچھے سے سپورٹ ختم نہیں ہوئی اس کے ساتھ عدلیہ بھی ملی ہوئی ہے جس نے ایک مرتبہ پھر سے نظریہ ضرورت کےتحت فیصلہ دیا ہے اور مقتدرہ تو ہے ہی۔ مقصد صرف اور صرف ان نادیدہ قوتوں کو جن کا ادراک تو سب کو ہے انھیں سب کے سامنے ظاہر کرنا ہے۔ انھوں نے براہ راست نام لینے روکا تھا۔ مگر اگر حکومت اپنی نااہلی سے انھیں بار بار ظاہر کرے تو اس بات کو بیان کرنے سےاپوزیشن کوکوئ نے نہیں روک سکتا، اور اپوزیشن کی تو ڈیمانڈ پہلے دن سے ہے کہ حکومت اور عمران خان سے نہیں بلکہ انھیں لانے والوں سے بات کرنا ہے، ان سے ڈیل کرنا ہے۔

یوسف رضا گیلانی کے الیکشن میں اپوزیشن جانتی ہے کہ وہ جیت نہیں سکتے۔ مگر بات یہ دیکھنی ہے کہ حکومت کے کتنے ووٹ کم ہوتے ہیں ۔ حفیظ شیخ سینیٹر تو 165 پر بھی بن سکتے ہیں مگر (پی ڈی ایم) کی کوشش ہو گی کہ وہ اپنے ٹوٹل 158 ووٹس میں کچھ ووٹ اور جمع کر لیں بے شک وہ تین سے چار ہی کیوں نہ ہوں اور دوسری کوشش یہ ہو گی کہ حفیظ شیخ کو 172 ووٹوں سے کم ووٹ ڈلیں تاکہ اپنی واہ واہ اور حکومت کے غائب ووٹوں پر اپنے بیانیے کی جیت کا ڈنکا بجایا جائے۔

اس لیے خاطر جمع رکھیں سفر ابھی لمبا ہے اور یہ (پی ڈی ایم) اتحاد ایک دو دن کے لیے نہیں بلکہ آنے والے الیکشن کا اتحاد ہے۔ اس اتحاد کا مقصد ہے کہ اپنیrelevancy ہر موقع پر کیسے قائم رکھی جائے، اور آنے والے اگلے الیکشن میں یہ setup نہ ہو۔ حکومت کو یہ دیکھنا ہے کہ یہ سب اکٹھے کیوں ہیں اوراس سے حکومت کے کس پہلو پر اثرانداز ہو رہے ہیں اسے کنٹرول کیا جائے۔ کیونکہ ایونٹ بہت ہیں جیسے یہ ضمنی انتخابات، دوسرا ایونٹ سینیٹ الیکشن ، تیسرا چیئرمین سینیٹ، چوتھا لانگ مارچ، پھر رمضان، عید۔ جولائی میں آزاد کشمیر کے الیکشن ، اکتوبر میں پھر (پی ڈی ایم) متحرک ہو گی۔ ان سب کے درمیان شاید پنجاب بھر کے بلدیاتی الیکشن آ جائیں کیونکہ عمران خان نے علیم خان کو ذمہ داری سونپ دی ہے پنجاب میں بلدیاتی الیکشن کی۔ اور عمران خان شدت سے چاہتے ہیں کہ یہ الیکشن ہو جائیں۔ اور ہو سکتا ہے کہ لانگ مارچ کے بعد شہباز شریف کی ضمانت ہو جائے اور یہ تحریک کچھ ماہ کے لیے Down play کی جانب چلی جائے۔

ہمارے وہ دوست جو سیاست کو ٹی ٹونٹی سمجھتے ہیںاور سوچتے ہیں کہ اپوزیشن کچھ کرتی کیوں نہیں، تو جناب اپوزیشن کے پاس بڑی چار آپشنز ہیں عمران خان کو ہٹانے کی۔

پہلی تحریک عدم اعتماد، یہ کام حکومت کی آئینی مدت ختم ہونے کےقریب آخری چند ماہ میں ہوتے ہیں ، ابھی اڑھائی سال باقی ہیں عدم اعتماد کے ووٹ میں جو ممبر نیشنل اسمبلی حکومتی پارٹی سے ہوتے ہوئے خلاف جائے گا وہ ڈی سیٹ ہو جائے گا۔ اگلی ٹکٹ کس پارٹی سے ہو گی اس کا ابھی اس بیچارے کو کوئی پتہ نہیں۔ تو یہ آپشن اس وقت نہیں ہو سکتی۔

دوسری صورت سپریم کورٹ ہے تو جناب جب تک بینچ نمبر 1 ہے کوئی معجزہ ہوتا نظر نہیں آتا۔ سپریم کورٹ ہے اس لیے اتنا ہی کہوں گا۔

تیسرا مقتدرہ پیچھے سے ہٹ جائے۔ تو جناب مقتدرہ کو (پی ٹی آئی) سے کچھ لینا دینا نہیں انھوں نے تمام انویسٹ مینٹ عمران خان پر کی ہے اس لیے جب اسے خطرہ ہو گا تو درمیان میں آئیں گے۔ اپوزیشن یہی چاہتے ہے کہ یہ پیچھے سے ہٹ جائیں کیونکہ یہ پیچھے سے ہٹیں گے تو اتحادی بھی توڑے جا سکتے ہیں۔ تو جس مقتدرہ نے نواز شریف کو اتنا برداشت کیا وہ اتنی انویسٹمنٹ کر کے لائے گئے عمران خان سے بھی جب تک زچ نہیں ہو جائیں گے اس کو نہیں چھوڑیں گے۔

چوتھی حالت کا تو کچھ علم نہیں، ہونے کواگلے لمحے میں ہو جائے اور نہ ہونے کو آئے تو نہ ہو۔ وہ ہے اللہ کی طرف سے عمران خان کا بلاوا۔ ان کے علاوہ ابھی تک تو مجھے کوئی اور صورت نظر نہیں آ رہی ۔

اپوزیشن اور اپوزیشن کے چاہنے والوں کے لیے سب سے ضروری ہے کہ یہ اکٹھے رہیں۔ اور اپوزیشن کشمیرالیکشن اور بلدیاتی الیکشن اس طرح کے معرکے مل کر لڑے۔ اورحکومت کو بلیڈ کرنے کا کوئی موقع نہ چھوڑے۔ وہ یہ حکومت خود دے گی جیسے مزید مہنگائی، بجلی کے بلوں میں مزید اضافہ۔ ایک اور پہاڑ جو پاکستانی عوام پر ٹوٹنے والا ہے وہ ہے سالانہ چھ لاکھ تک کی آمدنی والے یعنی ماہانہ پچاس ہزار والوں کو بھی ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔ اور مڈل کلاس پر مزید ٹیکس کا بوجھ ڈالا جائے۔ اس کے بعد اس مرتبہ بھی گندم مزید مہنگی ہو گی، آٹا مزید مہنگا ہو گا۔ اب اگر پچاس ہزار ماہانہ کمانے والے کی آمدنی میں سے ایک ہزار یا بارہ سو روپے کٹ جائیں تو اس کے گھر میں تو راشن میں سے بیس کلو آٹا غائب ہو گیا نا۔ تو اپوزیشن خاطر جمع رکھے حکومت انھیں بہت مواقع دے گی یہ اسے بلیڈ کرتے جائیں اور آنے والے جنرل الیکشن کی تیاری کریں جو پہلے بھی آ سکتے ہیں کیونکہ سیاست میں حالات ہر لمحہ بدلتے ہیں۔اپنا بیانیہ دہراتے رہیں اپنی تحریک کو عوام سے جوڑنا شروع کریں ۔ اور حکومت اپوزیشن اور اس کے بیانیے کو مارنے کی بجائے اپنے کرنے کے کام جو آئین نے ان کے ذمہ لگائے ہیں وہ کرے۔ کیونکہ جلد ان کو لانے والے بھی ان کو یہ کہنے والے ہیں کہ کرپشن کے بیانیے کی جان چھوڑیں کیونکہ آپ اس میں ناکام ہو گئے ہیں ، اب گورننس پر توجہ دیں ،عوام پستے جا رہے ہیں وہ اب (حکومت کی جانب سے)کرپشن کا بیانیہ ماننے کو تیار نہیں ۔ کیونکہ گیلانی کا الیکشن ہو یا NA 75 کا گالی تو عمران خان کو لانے والوں کو پڑ رہی ہے اور پڑے گی۔

مصنف کے فیس بک وال سے لی گئی تحریر۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

یوسف رضا گیلانی کو چیئرمین سینیٹ منتخب کرائیں گے: بلاول بھٹو زرداری

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے