ہفتہ , 17 اپریل 2021
ensdur

بھٹو نے قربانی دیدی ہے | علی عبداللہ ہاشمی

تحریر: علی عبداللہ ہاشمی

یہ 4 اپریل 1979 کی منحوس شام تھی۔ صبح کے اخبارات

اور ریڈیو ٹیلی وژن کی وساطت سے دنیا بھر میں لوگ جان چکے تھے کہ ذوالفقار علی بھُٹو کو پھانسی دیدی گئی ہے۔ سیہون میں اُلٹی بستی پر ایک ظاہرے درویش ساتھ بیٹھے لوگوں کو بتا رہے تھے کہ

“اولیا اللہ کیمطابق کُن فیکون کے تیسرے دن آسمان پر جب تمام روحوں کو اکٹھا کیا گیا تو انہیں کربلا دکھائی گئی اور ذاتِ واجب کیجانب سے پوچھا گیا کہ

“میری کِبریائی کی سربلندی کیلئے یہ قربانی کون دیگا؟”

کہتے ہیں حُسینؑ ابنِ علیؑ نے اُسی وقت یہ ذمہ اپنے سر لیا تھا۔ اسی طرح تصوف کے سلسلہ ہائے بیشتر میں یہ دلیل راسخ ہے کہ جن ارواح نے وہاں (اُت) صاحبِ قدر کو سجدہ نہیں کیا تھا، اُنکے نصیب میں (اِت) زمین پر بھی سجدہ نہیں ہے اور جنہوں نے اُسوقت نورِ محمدؐ و آلِ محمدؐ کو آدمِ خاکی میں سجدہ کیا، پس وہی ہیں جنکے لیئے دنیا و آخرت میں فلاح ہے۔

اُسوقت زمین پر صرف شیطان اور اسکے حواری جنات اتارے گئے تھے مگر جن روحوں نے شیطان کی پیروی میں سجدہ نہیں کیا وہ اپنے اپنے وقت پر اتریں اور ملعون ہوئیں۔ تاریخِ انسانی کے عظیم ملعونوں میں دشمنانِ محمدؐ و آلِ محمدؐ کے بعد عظیم ترین ملعون ضیاء الحق ہے جس نے اُس شخص کو ناحق قتل کرایا جس نےبہت سے انبیاء سے بھی عظیم کام سرانجام دیا۔”

پاس بیٹھے ایک دانا شخص نے اُسے ٹوکا۔۔

“درویشو کیسی باتیں کرتے ہو؟ انبیاء علیہمُ السلام بیشک افضل ترین مخلوق تھے، اُنکا اخلاق پیہم جبکہ انکی تعلیمات احکاماتِ الہیہ ہیں، بھُٹو جیسا دنیا دار کیسے ان سے آگے بڑھ گیا۔۔”

درویش مُسکرایا، اپنی اُلجھی ہوئی مونچھوں کو اپنے اوپرے ہونٹ سے دائیں بائیں ہٹاتے ہوئے بولا۔۔

“اسمیں کوئی شک نہیں کہ بھُٹو کا انبیاء سے تقابل سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے مگر یہ بھی سچ ہے کہ جو کام بھُٹو نے کیا وہ اللہ کے یہاں انبیاء کے کارناموں سے بڑھ کر تھا۔”

سمجھدار آدمی کی آواز تھوڑی تیز ہوئی اور وہ قدرے تُنک کر بولا،

“آپ وضاحت فرما دیں، اگر آپ دلیل رکھتے ہوں گے تو مجھے لبیک کہنے میں کنجوس نہیں پائیں گے۔۔”

درویش بولا، “بیشک میں دلیل رکھتا ہوں لیکن پہلے تم میرے کچھ سوالوں کے جواب دو۔۔ بولو دو گے؟”

دانا شخص اپنے من ہی من میں آستینیں چڑھاتے ہوئے مکمل اعتماد سے کہتا ہے، “پُوچھیں۔۔”

درویش بولا، “مختصراً یہ بتاو کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار انبؑیاء کو دنیا میں بھیجنے کا مقصد کیا تھا؟”

“فلاحِ انسانیت اور کیا؟” دانا بولا۔

درویش: “بہت اچھے، تو انبیاءؑ نے فلاحِ انسانیت کیلئے کون کونسے کار ہائے نمایاں سرانجام دیئے؟”

دانا: “درویشو (فاتحانہ مسکراہٹ کیساتھ) آج دنیا میں جو کچھ اچھا ہے، سچا ہے، وہ انبیاءؑ ہی کا تو دیا ہوا ہے۔۔”

درویش: اچھا کہ سچا؟

دانا: “جو اچھا ہے وہ سچ ہے اور جو سچ ہے وہ اچھا ہے۔”

درویش: “اگر میں کہوں کہ یہ ضروری نہیں کہ سچ اچھا ہو اور یہ بھی ضروری نہیں اچھی بات سچ ہو، تو پھر؟”

دانا: “بابا جی، آپ بات کو گھُما رہے ہیں۔۔”

درویش: “رمزیہ گفتگو کو بات گھُمانا نہیں کہتے اللہ کے بندے۔ اب دیکھو ناں سرکارِؐ دو عالم کو جبرآئیل نے آسمانوں سے ایک خرقہ لا کر دیا کہ یہ اسکے حقدار تک اُسے پہنچا دیں، سرکارؐ نے پاس بیٹھے صحابہ اکرام سے پوچھا کہ بتاو اگر یہ خرقہ میں تم کو دوں تو تم کیا کرو گے؟

صدیقِ اکبر نے کہا کہ میں سچ بولوں گا، فاروقِ اعظم نے کہا کہ میں عدل کروں گا مگر انہیں خرقہ نہیں ملا۔۔ یہ اُسکو ملا جس نے کہا کہ میں “ستاری” کروں گا، جانتے ہو ستاری کیا ہوتی ہے؟”

دانا: “جی، کسی کے عیبوں پر پردہ ڈالنا (سوچتے ہوئے)

درویش: “اگر انسان کے عیبوں کی پردہ پوشی کرنے والے کو اللہ کیطرف سے خرقہ انعام آتا ہے تو پھر سچ کی کوئی قسم کہیں فتنہ تو نہیں ہوتی؟”

دانا: “بابا جی وضاحت کریں، میں اُلجھ رہا ہوں۔۔”

بابا جی: (مسکراتے ہوئے) “اُسی مردِ حق کی بات سناتا ہوں، خرقہ ملنے کے سالہا سال بعد وہ شخص مسجد میں نماز پڑھ رہا تھا کہ ایک فاسق و فاجر منافق کا قتل ہو گیا۔ قاتل بھاگا اور مردِ حق جو نماز قائم کر چکا تھا کے آگے سے گزرتے ہوئے فرار ہو گیا۔

مردِ حق نے نماز توڑی، مصلّٰے دوسری جگہ ڈالا اور دوبارہ نماز ادا کرنی شروع کر دی۔ نماز ختم کر چکا تو لوگوں نے استفسار کیا، “کیا آپ نے کسی کو فلاں بن فلاں کا قتل کر کے فرار ہوتے دیکھا ہے؟”

تو وہ مومن بولا، “جب سے میں یہاں نماز ادا کرتا ہوں، میں نے کسی کو قتل کر کے بھاگتے ہوئے نہیں دیکھا۔”

دانا: “سبحان اللہ، کیا خوب طریقے سے اس نے ایک مومن کی جان بچائی، کیا کہنے۔۔”

درویش: “صرف جان بچائی؟”

دانا: “میرا مطلب ہے اسکی زندگی، آزادی، خود داری وغیرہ وغیرہ سب کچھ۔۔”

درویش: “اچھا یہ بتاو، آزادی کیا ہے؟”

دانا: “آزادی زندگی کے بعد اللہ کا سب سے بڑا انعام ہے انسانوں پر”

درویش: “اچھا؟ تو پھر ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاءؑ نے غلامی کا خاتمہ کیوں نہیں کیا؟ کیا انہیں اس انعام کی قدر و قیمت معلوم نہیں تھی؟”

دانا: “بابا جی، آپ ایک اور گانٹھ لگا رہے ہیں اب۔ آپکو نہیں لگتا ان باتوں کا آپکے دنیا دار بھٹو کیساتھ کوئی تعلق نہیں؟”

درویش: “صحیح کہا، ہمیں آزاد تو محمد علی جناح نے کرایا مگر سچ بولنا اگر 47 میں ہم واقعی آزاد ہوئے تھے تو ہمارے بنگالی بھائیوں کو محض چوبیس سالوں میں ہم سے آزادی لینے کی ضرورت کیوں پیش آ گئی تھی؟”

دانا: “بابا جی، بنگالی وطن فروش تھے، انھوں نے بھارت کیساتھ ملکر ہماری پیٹھ میں چھرا گھونپا تھا۔”

درویش: “ایک تو ہم لوگ سوچتے نہیں ہیں۔ اچھا یہ بتاو منڈل سے لیکر عبدالحق تک اور بوگرہ سے لیکر فضلِ حق تک سارے بڑے لیڈر مسلم لیگی بنگالی کیوں تھے؟ تم مجھے محمد علی (جناح) کے علاوہ ایک ایسا مشہور بندہ بتاو جسکی آزادی دلانے میں کوئی قابلِ ذکر خدمات ہوں؟”

دانا: “کیوں بابا جی؟ سردار سکندر حیات آیا پنجابی نہیں تھے؟ اور فیروز خان نون؟ کیا ان لوگوں کی کوئی خدمات نہیں تھیں؟”

درویش: “بالکل تھیں، لیکن کیا یہ دونوں آزادی سے پہلے ہندوستان کے بڑے سرمایہ دار، جاگیر دار اور انگریزوں کے خیر خواہ نہیں تھے؟ مجھے ایسے لوگوں کا نام بتاو جنہوں نے انگریزوں سے آزادی لینے کی خاطر جدوجہد کی ہو۔”

دانا: “بابا جی آپکا غفار خان بارے کیا خیال ہے؟ کیا اسکی آدھی زندگی جیلوں کا ایندھن نہیں بنی؟”

درویش: “ہمارے پیارے وطن میں ایک دن ایسا بتاو جب باچا خان کو قومی ھیرو کا درجہ دیا گیا ہو؟ کیا آزادی کے ھیروز کو بھابھڑا بازار جیسے قتلِ عام سے نوازا جاتا ہے؟”

دانا: “وہ تو اسلیئے ہوا کہ باچا خان گاندھی وادی تھے اور پاکستان بننے کے خلاف تھے۔”

درویش: “نوجوان، کیا بھابھڑا بازار کا واقعہ ہندوستان میں ہوا تھا؟ اسوقت تو ھم آزاد ہو چکے تھے۔۔ پھر کیوں مارا گیا پشتونوں کو؟”

دانا: “بابا جی، آپ بات کو باچا خان کیطرف لے گئے ہیں، آپ بتائیں بھٹو نے ایسا کیا کیا جس سے اسکا کوئی مخصوص عمل انؑبیاء کے اعمال سے افضل ہو گیا۔”

درویش: “بھٹو نے پاکستان کے رہنے والے لوگوں کو آزادی دی۔۔”

دانا: “کس سے آزادی دی؟ بنگالیوں سے؟”

درویش: “نہیں انگریز کے تربیت یافتہ فوجیوں سے۔۔ جو آدھا ملک گنوا کر پتلی گلی سے نکل لیئے۔۔

(پھر غصے کو جھٹکتے ہوئے بولتے ہیں)

“ہم ہندوستانی ذات پات اونچ نیچ کے غلام تھے، سینکڑوں سالوں سے چھُوت چھات کے کالے سایوں کے اسیر۔۔ اس نے ہمیں اس گندگی سے آزادی دی۔

وہ لوگ جنکی سو سو نسلوں میں کوئی ایک بیگھہ زمین کا مالک نہیں بنا تھا، اُس نے انہیں زمینوں کے مالکانہ حقوق دیئے اور یہ کام اس نے اپنے ترکے میں آئی زمینیں ہاریوں میں بانٹ کر شروع کیا۔ اس مومن نے انسانوں کو آزاد کیا، انہیں حقِ ملکیت دیا۔

تمھارا باپ تو انپڑھ تھا ناں؟ تم نے اسلیئے کالج یونیورسٹی کا منہ دیکھا کیونکہ بھٹو نے تعلیم کو بنیادی حق قرار دیکر اسے سب لوگوں کیلئے مفت کر دیا۔ جانتے ہو بھائی فضل دین (دانا شخص کا باپ) تمھیں روزانہ کالج بھیجنے کا کرایہ نہیں دے سکتا تھا۔۔ (دانا شخص اپنا سر جھُکا لیتا ہے) جب بھٹو نے محسوس کیا کہ تعلیم کو سب کیلئے کھولنا کافی نہیں تو اس نے تم جیسے غریبوں کو یہ حق دیدیا کہ جس مرضی ٹرانسپورٹ کو روک لو، وہ پہلے تمھیں کالج یونیورسٹی چھوڑے گی، پھر آگے جائے گی۔۔ آج اگر تم سرکاری ملازم ہو تو یہ بھی بھٹو کی دین ہے بیٹا۔۔ تمھاری نسل سے پہلے یہ حق صرف زمینداروں کے بچوں کے پاس تھا۔۔”

یہ کہہ کر درویش اسکی بُشرٹ کی جیب میں دو انگلیاں ڈال کر پیسے اور کاغذات نکال لیتے ہیں، پھر کاغذ اور پیسے واپس کر کے اسکے شناختی کارڈ کو غور سے دیکھتے ہوئے کہتے ہیں۔۔

“جانتے ہو؟ تم پہلی نسل ہو جسے تگڑی زاتوں کی برابری میں کھڑا کیا بھٹو نے۔۔ یہ شناختی کارڈ، تمھارا پاسپورٹ، جو پہلے صرف بڑے لوگوں کا حق تھا اسے عام آدمی تک بھٹو نے پہنچایا۔۔ تمھارا چھوٹا بھائی کبھی بیرونِ ملک جا کر لاکھوں روپے نہ کما سکتا اگر بھٹو نہ ہوتا۔۔” درویش کی آنکھیں بھیگنے لگتی ہیں۔

جانتے ہو۔۔ “اللہ کے پیغمبروں نے انسان کو سب کچھ دیا، مگر غلامی کو حرام قرار کسی نے نہیں دیا جو بھٹو نے کیا۔ بھٹو نے غریبوں اور مساکین کی داد رسی کی، انہیں یہ اعتماد دیا کہ کوئی شخص انہیں دبا نہیں سکتا، کوئی ان پر جبر نہیں کر سکتا، کوئی کسی کو کمتر نہیں کہہ سکتا۔

بھٹو نے تمھارے باپ دادا جنکی سو سو نسلوں میں بھی کوئی عزتدار نہیں تھا۔۔ اُس نے (درویش کی آواز اُکھڑنے لگتی ہے) تمھارے باپ دادا کو عزتدار بنایا۔ اس نے ہندو سماج کے بنائے اصولوں کو چیر کر تمھارے اجداد کو ان لوگوں کے سامنے کھڑا کر دیا جنکے سامنے آنکھ اٹھا کر چلنا صدیوں سے گناہِ کبیرا تھا۔”

“بھٹو نے۔۔” (درویش کی ہچکی بندھ جاتی ہے اور وہ اونچی اونچی ہاڑے مار کر رونا شروع کر دیتا ہے۔۔)

دانا: (اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑا ہوتا ہے اور آگے بڑھ کر درویش کو سنبھالنے کیلئے ہاتھ آگے بڑھاتا ہے جسے وہ جھٹک دیتا ہے۔۔) “بابا جی۔۔ اپنے آپ کو سنبھالیں۔۔ بابا جی۔۔ بابا جی۔۔”

درویش: اُٹھ کھڑا ہوتا ہے اور اونچی آواز میں یہ کہتا ہوا قلندر کی درگاہ کیجانب اُترنے لگتا ہے۔۔

“یا سخی لعل۔۔ تیرے بھٹو نے قربانی دیدی ہے۔ اُس نے اپنا وعدہ پورا کیا، میرے لجپال، بھٹو نے اپنا وعدہ پورا کر دیا ہے۔۔۔ اور پھر ہاڑے لیکر رُندھی ہوئی آواز دور جانے لگتی ہے۔۔

دانا شخص وہیں پر کھڑا درویش کے ہاڑے سنتا رہتا ہے۔۔ الٹی بستی پر ہر دم چلنے والی ہوا ایکدم تیز ہونے لگتی ہے، مٹی کے مرغولے اسکے پیروں سے لپٹنے لگتے ہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے آسمان پر لالی چھا جاتی ہے۔ لوگ توبہ استغفار کرنے لگتے ہیں۔ دانا شخص دھیمی آواز میں کہتا ہے۔۔

“گواھی اُتر آئی ہے۔۔ تیرا بھٹو ناحق قتل ہو گیا۔۔” اور آسمان کیجانب دیکھ کر کہتا ہے.

“یا سخی لعل۔۔ تیرے بھٹو نے قربانی دیدی ہے۔ اُس نے اپنا وعدہ پورا کیا۔۔ اور پھر گریبان کے بٹن چاک کرتا ہوا درویش کے پیچھے پیچھے اُلٹی بستی سے نیچے اُتر جاتا ہے۔۔ دُور سے درویش کے ہاڑوں کی دھیمی دھیمی گونج اسے رستہ دکھا رہی ہوتی ہے۔۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

محکمہ داخلہ نے کالعدم ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی کا شناختی کارڈ بلاک کردیا گیا

کالعدم تنظیم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی)کے سربراہ سعد رضوی کا شناختی کارڈ بلاک …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے