ہفتہ , 17 اپریل 2021
ensdur

بھاری جہیز تلے ایک اور عائشہ مرگئی | صبحین عماد

تحریر: صبحین عماد

گھر بیچ کرغریب کب تک بیاہے گا بیٹیاں

کب تک یہ جہیز یونہی کھائے گا بیٹیاں

ایسا ہی چلن سماج میں رہا تو ایک دن

پھر سے باپ زندہ دفنائے گا بیٹیاں

بھاری جہیز تلے ایک اور عائشہ مرگئی ۔۔

کیوں ہوتی ہیں بیٹیاں ایسی کیوں ہر ایک کا دکھ اپنے اندر سمیٹ کے خود ہی ٹوٹتی بکھرتی رہتی ہیں نہ آہ بھرتی ہیں نہ شکایت کرتیں ہیں نا سوال کرتی ہیں ،کہاں سے آجاتی ہے اتنی ہمت ان میں کہاں سے یہ اتنا صبر لاتی ہیں کون سا دکھ ہوتا ہے جسے برداشت بھی برادشت نہیں کر پاتا کیوں یہ بیٹیاں زندگی کی دوڑ اپنے ہی ہاتھوں سے کاٹ دیتی ہیں کبھی سوچا ہے کسی نے اس بت پھر بھی کبھی غور کیا ہے ،

بچپن سے لے کر ابتک ہم ایک ہی بات سنتے آرہے ہیں کہ جہیز لینا دینا ایک لعنت ہے ایسی رسم و رواجوں کو ختم کرو لیکن آج اکیسوی صدی میں آکھڑے ہوئے ہم پر یہ ریت ،رسم ،رواج ،روایات نہ بدل سکیں ،کتنی ہی معصوم جانیں ،اس جہیز کی بھینٹ چڑھ گئیں لیکن آج بھی ہم بس تماشائی ہیں ۔

جہیز کی لالچ اور سسرال کی ستائی ایک اور ہوا کی بیٹی نے خود کو ہر ایک فکر سے آزاد کردیا انسانوں سے منہ موڑ لیا ۔

اس نے بس یہ کہا ہے کہ وہ خدا سے ملنا چاہتی ہے۔ لیکن عائشہ کے والد لیاقت علی کے بیان سے خودکشی کی جو وجہ سامنے آئی ہے وہ جہیز کی مانگ ہے۔ عائشہ کی کہانی کوئی ایک کہانی نہیں ناجانے ایسی کتنی ہی عائشہ روزانہ یہ انتہائی قدم اٹھانے کا ارادہ کرتی ہوں گی لیکن پیرمیں بندھی رشتوں کی زنجیر شاید روک لیتی ہوگی عائشہ کی کہانی بھی ان بہت ساری عورتوں کی کہانیوں ہی جیسی ہے جو جہیز کے لالچی خاوند اور ساس سسر کے ہاتھوں ستائی جاتی ہیں۔

عائشہ کی کہانی میں اس کا شوہر راجستھان کا رہنے والا ہے وہ جہیز کی بار بار فریاد کرتا اور کچھ نہ پانے پر عائشہ کو اس کے والدین کے پاس احمد آباد چھوڑ جاتا تھا اور ہر والدین کی طرح عائشہ کے والدین کے لیے کسی قیامت سے کم نہیں ہوتا کہ ان کی بیٹی کو اس کا شوہر یوں گھر چھوڑ جائے ماں باپ جان لگا دیتے ہیں ایک بیٹی کے سکھ کی خٓاطر لیکن یہ ظالم سفاک دل رکھنے والے کہاں سمجھتے ہیں کہ کسی کی بیٹی تو ہے وہ لیکن اس سے پہلے انسان بھی تو ہے ۔

بار بار شوہر کے یوں ٹھکرائے جانے پراس بار عائشہ نے خودکشی کی دھمکی بھی دی شوہر کو کہ شاید میری موت کی دھمکی سے اس کے دل میں بھی رحم آئے شاید میری محبت کا زرا سا احساس ہوجائے لیکن جن کے دل کالے پتھر جیسے ہوں انہیں کہاں کچھ سنائی یا دکھائی دیتا ہے ، اس سفاک انسان نے اس پر بھی کہا کہ مرنا ہے تو جاکر مرجا اور مرنے کا ویڈیو بھیج دے۔

اور پھر ہر مان ٹوٹ گیا پھر رہ کیا گیا جس کے لیے وہ رک جاتی تب بھی عائشہ کتنی فرمابردار تھی شوہر کی بات نہیں ٹالی اور سابرمتی ندی میں کود گئی۔

عائشہ نے ویڈیو پیغام بھی دیا کہ شوہر کو مرنے کے بعد ہی سہی لیکن اس کی محبت کا احساس تو ہو ،وائرل ویڈیو سے تو صاف ظاہر ہے کہ ہر عورت کی طرح وہ بھی محبت کی ماری ہوئی تھی ایک عورت مانگتی ہی کیا ہے عزت ،محبت اور احساس۔

شوہر کو تو وہ چاہتی ہی تھی ،یہ محبت کی انتہا ہی تو تھی کہ اس کی محبت نا ملنے پر آج زندگی سے ہی منہ موڑ لیا مگر شوہر جہیز کا لالچی دنیا کے رنگوں میں کھو کر اس نے ہیرے کو گنوا دیا ،

یہ تو ایک عائشہ کی کہانی ہے جو ہمارے سامنے آگئی ہے ورنہ اس ملک میں روزانہ نہ جانے کتنی ہی بیٹیاں ہیں جو جہیز کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں، ان کی خبر تک کسی اخبار کی سرخی نہیں بن پاتی اور ان کے والدین رورو کر خاموش ہوجاتے ہیں۔

میرا بس ایک یہی سوال ہے کہ کون اس کا حساب دے گا ؟ کسی کے پاس اعدادوشمار ہیں کہ کتنی عائشائوں نے خودکشی کی ہے؟ کتنی ہیں جو کنواری بیٹھی ہوئی ہیں، کیوں کہ ان کے والدین جہیز نہیں دے سکتے؟ کیونکہ ان کے الدین سسرال والوں کے پپسے سے منہ بند نہیں کرسکتے تو یہ غریب کی بیٹیاں گھر مین بیٹھے بیٹھے ہی اپنے بالوں مین چاندی اترتے دیکھتی ہیں کون کرے اس سب کا حساب َ؟مجھے نہیں لگتا کہ ان سوالوں کے جواب کسی کے پاس ہوں گے کیونکہ ہم اس پر نا بات کرتے ہیں نا فکر کرتے ہیں یہ ایک عائشہ پر آج ہم بات کررہے ہیں اور اب ہم جب تک خاموش ہی رہیں گے جب تک کے دوسری عائشہ اپنی زندگی نہیں ہار جاتی ۔

ظلم کرنے والے تو ظلم کر جاتے ہیں یہ تک نہیں سوچتے کہ جس کا جاتا ہے کوئی اپنا اسکا کیا حال ہوتا ہوگا جانور بھی پالو تو محبت ہوجاتی ہے پر ناجانے کیوں یہ کیسے انسان ہیں جنہیں انسان سے محبت تو دور نہ ہمدردی ہوتی ہے نا رحم آتا ہے آسان تو نہیں ہوتا نہ جوان جنازے کو کندھا دینا ظالموں کو کہاں خبر ہے کہ یہ جوان موت کے جنازے کسقدر بھاری ہوجاتے ہیں یہ جہیز کی مانگ کرنے والوں سے بس یہی ایک التجا ہے کہ اب کی بار جہیز مانگنے جائیں تو بھیک کا کٹورا ساتھ لے جائیں۔

کوئی تو ایسا رواج لاوٗ۔۔اے زمانے والوں

جس سے بیٹیاں جیت جائیں اور جہیز ہار جائیں۔

 

 

 

 

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

میری گلی سے کوویڈ بھی ڈرتا ہے | وسعت اللہ خان

تحریر: وسعت اللہ خان پچھلے ایک برس کے دوران روزمرہ زندگی میں ایک شے ایسی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے