ہفتہ , 17 اپریل 2021
ensdur

بھارتی ریاست کیرالہ میں مسلمان جوڑے نے ہندو لڑکی کو گود لیا، جوان ہونے پر اسکی شادی ہندو لڑکے سے کروادی۔ سوشل میڈیا پر دھوم

کیرالہ (عالمی سماچار) ہندوستان کی ریاست کیرالہ میں ایک ہندو لڑکی کو گود لینے والے مسلم جوڑے نے اس کے جوان ہونے پر اس کو مسلمان کرنے کی بجائے اس کی مرضی کے مطابق ہندو مذہب اختیار کرنے کی اجازت دی اور اسکی شادی ایک ہندو لڑکے سے کر دی۔

کیرالہ کے ضلع قصار اگوڈ میں راجیشوری نام کی یہ لڑکی صرف سات آٹھ برس کی عمر میں یتیم ہو گئی تھی، جس کے بعد اسے مسلمان جوڑے عبداللھ اور اس کی بیوی خدیجہ نے گود لے لیا۔

جس کے بعد راجیشوری عبداللہ کے گھر میں ہی اس کے باقی بچوں کے ساتھ پلی بڑھی۔ اس کے دوران عبد اللہ اور اس کی بیوی نے کبھی بھی راجیشوری کو مسلمان ہونے پر مجبور نہیں کیا، وہ جب بائیس برس کی ہوئی تو  اس مسلم جوڑے نے اس کی شادی کا سوچا، پھر کیا تھا۔ عبداللہ نے اس کے لیئے مسلمان لڑکا ڈھونڈنے کی بجائے ہندو لڑکوں کے رشتے ڈھونڈنا شروع کردیے اور ایک اچھے باپ کی طرح اچھے لڑکے کو ہی ترجیح دی، اس اثناں میں کتنے ہی رشتے آئے ٓمگر عبداللہ نے سارے رجیکٹ کر کہ آخرکار ایک لڑکے وشنو پرساد کے بارے میں تسلی ہونے کے بعد رجیشوری اور وشنو پرساد کی شادی کروا دی۔ شادی میں ایک بھی مسلم روایت ادا نہیں کی گئی، راجیشوری نے منیوٹ کے ایک مندر میں شادی کے پھیرے لیئے۔

اتوار کے روز ہوئی اس شادی میں ہندو رسمیں ادا کرنے کیساتھ ساتھ عبداللہ اور خدیجھ نے راجیشوری کو آشیرواد بھی خالص ہندو رسومات کے تحت دیا۔  وہ اپنے اس مسلم ماں باپ کہ پیروں میں جھک کر آشیرواد لینے میں کوئی کباہت محسوس نہیں کر رہی تھی۔

جب یہ خبر اور راجیشوری کی شادی کی تصویریں سوشل میڈیا اور پھر الیکٹرانک میڈیا پر ایاں ہوئیں تو پورے ہندوستان میں عبداللہ اور خدیجہ کے اس مذہبی آزادی اور رواداری کے عمل کو بیحد سراہا گیا۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

محکمہ داخلہ نے کالعدم ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی کا شناختی کارڈ بلاک کردیا گیا

کالعدم تنظیم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی)کے سربراہ سعد رضوی کا شناختی کارڈ بلاک …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے