منگل , 22 ستمبر 2020
ensdur

بلوچستان کے بنیادی غم | سفرندیم زہری

تحریر: سفرندیم زہری

بلوچستان قدرتی طور معدنیات سے مالامال شہہ رگ خطہ ہے جہاں جتنے معدنیات ملے ہیں وہاں بلوچستان کو اتنے درد وغم انکے بدلے ملے ہیں خون کی ندیاں اس خطے کی حقوق پر گرفت مضبوط کرنے کےلیے بہائے گئے ہیں عالمی طاقتوں کی نظریں جب سے اس خطے پر صوبے کی قدرتی دولت زیرزمین معدنیات پر پڑی ہیں اتنے ہی خون کی آبشاریں بہاکر اپنی ندیوں کی سیرآبی سے انانیت کے چمن کےپھول آبیاری کیے ہیں اور جن کو آج بھی بلوچستان میں امن کی خوشبو محسوس ہوتی ہے دراصل ان پھولوں کی کیاریوں میں اس صوبے کی بےبس بےساکی کے خاموش بدن روحوں کی لہو سے غنچے بازاروں میں مہک رہے ہیں یہ بات سب پر نمایاں ہےکہ بلوچستان میں انسانی حقوق بری طرح سے پامال ہیں بلکہ کیے گئے کیےجارہے ہیں جسکی مثال کہیں کسی اور صوبے میں نہیں ملتی.

آج بھی بلوچستان کی پسماندگی کو دوحصوں میں تقسیم کرکے ازالہ کیاجاسکتا ہے پھر بھی دونوں جانب تباہی بربادی بسی ہے مغربی بلوچستان مشرقی بلوچستان کےفرضی نام سے مسائلستان کو مدنظر رکھیں تو بلوچستان کی اور مغربی بلوچستان کے دونوں جانب پسماندگی غربت کےلکیر سے بھی نیچے حالات دکھتے ہیں مغربی بلوچستان میں کرینوں کےزریعے انسانیت کو لٹکادی جاتی ہے جس کو دیکھ کر لگتانہی کہ انسانیت کی آخری خواہشات رسومات بھی ڈھنگ سے پوری کی جاتی ہیں بلکہ انگریزی دور میں جنگ آذادی کےبعد ہندوستان میں لوگوں کو درختوں کے ذریعے پھانسی دی جاتی تھی مشرقی بلوچستان میں کی بھی حالت کچھ مختلف تو نہیں حالات زندگی جبری گمشدگی کا مقصد لوگوں کوزیادھ سے زیادھ تکلیف دینے کا عالم ہے بدقسمتی سے سیاسی جماعتوں کےریل ڈیل کےزریعے چارافراد گھرپہونچ جاتے ہیں تواسکے تین گناھ پھر آسمان کھاجاتی ہے بلوچستان کے اعلی ایوانوں کےنمائندے بھی اسی صوبے سے منتخب ہوتے آرہے ہیں بلکہ منتخب کرائے اور کرائے پر کیےجاتے ہیں پہلے معاہدے طےپاتے ہیں پھر کرائیے کے طور مقدس ایوان میں پانچ سال تک رسائی دی جاتی ہے سمجھ سے بالاتر ہیکہ نوجوانوں کو قلم تھمانے کےبجائے بندوق چلانے والوں کا اور انہیں ریاست سےبغاوت کرانے والوں کا بھی گناھ سب کےسامنے ہیں اربوں روپے کے سالانہ بجٹ نہ سڑک نہ تعلیم نہ روزگار نوجوان مدتوں تک روزگار کو ترس کر ڈگریاں جلا کر کراچی شاہراہ تنگ سڑکوں پر تشنگی شکم بجھانے کے لئے ایک بن بلائے موت کے سامنے جل کر خاکسترد ہونےکےباوجود کس منہ زبان سے بلوچستان کے ارکان کرائیہ دار اسمبلی ممبران دعوےکرکے تھکتے نہیں.

بلوچستان کے اندر قلم کاغذ کےبجائے اکثریت طبقے کے ہاتھوں میں بندوق روسی امریکی مختلف ممالک کے جدید، ٹیکنالوجی ہتھیار دیکھ کر دکھ سا رہتا، ہے کہ جسطرح بطور فخر ہتھیار کےنمائش سوشل میڈیا پر دیکھتا، ہوں تودکھ سا رہتا ہے کہ ان ہاتھوں میں جدید طرز کے قلم کاغذ کا مضبوط پانی میں گھل ملنے والی کاغذ کچے سیاہی کے پکے رنگین سیاہی معاشروں میں پھیلتی جو شعور ترقی خوشحالی کے لئے مفید میسر ہوتے ورنہ یہ بےشعوری نفرت پسماندگی کی تاابد سوچ کی زندھ عکاسی ہے جہاں صحت کےلیے تندرستی ہسپتال ہونے چاہیے تھے وہاں منشیات کے کش لگانے کے مضبوط قلعے کچے قلعے پکے وارث چھوٹے وارث درمیانے وارث میسر رہتے ہیں منشیات کی کاروبار چوراہوں پر مسجد مندر کلیساؤں کے سامنے بکتے ہیں جہاں بدگمانی سے بچے سادھ پرور، لوگوں کی سادگی سے بھرپور فوائد لوٹے جارہے ہوتے ہیں، بلوچستان کی سیاسی جماعتوں بشمول پارلیمانی سیاسی جماعتوں نے بھی کبھی بھی زوردار طریقے سے بلوچستان میں بلوچستان کی انسانی حقوق کی پسماندگی کی زبون حالی کی آواز اٹھانے سے چشم بدور چشم پوشی کے لیے سرٹیفکیٹ جاری ہونے کےحقدار ہیں صوبے کے اندر تمام سیاسی جماعتوں نے اپنی سیاسی دکانداری شہرت کےلیے حصول اقتدار کےلیے وھ سب کچھ کرچکے کرجاتے ہیں کہ سیاست کی موجودھ میت دیکھکر جنازھ پڑھنے کےلیے محض نوجوانوں کاسہارا صرف جمہوریت قومیت کےنام حقوقیت مزھب کےنام اسلامیت کی نفاذ نافذی کےلیے استعمال کیےجانے لگے ہیں سیاست کے نام نوجوانوں کو دھوکہ دغا ہزاروں جھوٹے طفلانہ نعرےاور منشوروں کے سوا عملی سیاست عزت نفس کی سیاست عوام کی حقوق صوبے کے بنیادی مسائل سے نظریں چرانے کے منظر کشی تک تصویر ہر جگہ آویزاں ہیں رنگ برنگی جھنڈیوں کےدرمیان صرف سفید پوشاکی کاٹن کلف تین رنگ تین غیر سیاسی رنگین طبقات نے نظریات فلسفات افکار کو دفنانےکےلیے ہمہ تن راتوں رات دستیاب ہوتے نظرآتے ہیں مگر نظریات کی سیاست اتنے بڑے وسیع رقبے پر افغانستان کےبارڈر سے ایران بارڈر تک اور انکے درمیان بلوچستان میں نظریاتی سیاسی ورکرز کےدرمیان لمبی لمبی دیواروں کےپیش نظر ہم جیسے سیاسی ورکرز اپنے گھر سے مین شاہراھ تک بھی دیکھنے کےقابل نہیں ہیں. پھرنہجانے سیاسی جھوٹے غیرنظریاتی نظرآتوں کو پورا بلوچستان واضع صاف نظر آرہی ہوتی ہے بلوچستان کی بنیادی مسائل کو بھی سیاست کے دوغلے جمہوری غیرجمہوری بنیادوں پر سیاسی جماعتوں نے لسانی زبانی بنیاد پر اقوامیت مزھبیت جمہوریت آمریت کے کارخانوں میں تقسیم کیے گئے ہیں ہرپانچ سال بعد نئے دعوے نئے منشور قوم پرستی جمیوریت پرستی مزھب پرستی کےنام سے سامنے لائے جاتے ہیں یہاں کے لوگوں کو نوجوانوں کو زبانی کلامی طور، اکساکر ووٹ کے فولادی بظاہر پلاسٹکی ڈبوں کو بھرنے کےبعد پتہ نہیں چلتا، کہ کون ووٹ کی طاقت سے کون ہمارے حقوقِ پر معاہدہ شدھ پالیسی کے تحت جیت کر پھر پانچ سال سے ایک سال پہلے انکو عوام کی حقوق مہنگائی غربت بےروزگاری کئی سال پہلے فوت شدگان کی ایصال ثواب کےلیے زہن وسیع ہوجاتے ہیں بلوچستان تجربات کے حوالے سے ایک کالونی اور صوبے کے عوام کالونی میں رہائش پذیری ہیں جب کالونی مالک چاہے سیاسی گیم چنجرز کےلیے کالونی نہیں کالونی کے رہائشیوں کو تبدیلی کےموثر اقدامات دےسکتے ہیں یوم آذادی سے لیکر آج تلک بلوچستان پر اپنے ہی صوبے کے کرائےدار ارکان اسمبلیوں کے ارکان منتخب کرائے جاتے ہیں کیےگئے ہیں کیے جائینگے پھر بھی وھ کونسی بنیادی حقوق ہیں جو آج تک کسی سیاسی جمہوری قومپرستی مزھب پرستی کے دعویداروں نے نہیں لےسکے تو اب کیسے لیکر دیں گے بلوچستان کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو سیاسی انقلاب کےپیچھے دوڑنے کےبجائے زہنی فکر سوچ کی متفقہ نظریے کےزریعے پرامن قلم کاغذ کی طاقت سے انقلاب کی ضرورت کو مدنظر رکھکر جدوجہد کےلیے رفتہ رفتہ جدوجہد کرنی چاہیے جمہوریت کےنعرے آدمی کے نعرے قومپرستی کے مزھب پرستی کے نعروں کےپیچھے ایک مکمل وسیع نوجوان نسل کو بےراھ بنجاروں کی طرح خاک چھانتے دیکھے ہیں جب سیاسی جماعتوں میں ہرالیکشن میں نشستیں الاٹ ہونے کی نمبر گیم دیکھکر لگتا تونہیں کہ اس نمبر گیم نشستوں کے پیچھے جوتیار ملتے ہیں انکے ملنے پیچھے دراصل آپکے ہمارے محرومیت کو مزید بڑھانے کے معاہدات طے شدھ ہیں اور ایسے معاہدات کےپس پردھ محروم طبقات کی حقوق کی کوئی ترجمان نہیں ۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

نواز شریف اتنے بھی “بھولے” نہیں | نصرت جاوید

بسااوقات واقعتا گھبرا جاتا ہوں۔ چند مہربان پڑھنے والے بہت اشتیاق سے اہم ترین سیاسی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے