اتوار , 1 نومبر 2020
ensdur

بلوچستان کی پریشان حال بیٹیاں

تحریر:یوسف بلوچ

کل کوئٹہ کے سڑکوں پر،کڑکتی دهوپ میں، اداس چہروں میں  ایک امید لے کے بلوچستان کی دو بیٹیاں سراپہ احتجاج تهیں، ان میں سے ایک اپنے بهائی اور دوسرے اپنی شوہر کی بازیابی کے لیے آئی تهی، دونوں میں خاص خاندانی و علاقائی فرق نہیں تها ایک شبیر بلوچ کی بہن اور دوسرا شبیر بلوچ کی بیوی تهی۔

شبیر بلوچ کی اہلیہ نفسیاتی طور پر کنفیوز تهی اسکے ہاتھ میں موجود بینر بهی کنفیوز تهی یہ بینر نما چارٹ کی فوٹو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو ناظرین بهی کنفیوز ہوئے،اس احتجاج میں موجود بلوچستان کی ہر بیٹی کنفیوز ہوئی ،اس لیے ہم بهی کنفیوز ہیں، بظاہر چار انچ لمبا اور ساڑهے تین انچ چوڑا ایک چارٹ، کیسے کنفیوز کرنے کی صلاحیت رکهتا ہے، لیکن چارٹ پر لکهے الفاظ ہر دل کو اپنی طرف کهینچ لیتے ہیں، شبیر بلوچ کی بیوی کہہ رہی تهی “کہ میں خود کو شبیر کی بیوه سمجهوں یا بیوی”؟

ایک نا مکمل جملے کو بیان کرنے کے لیے شبیر کا خاندان آواران سے آیا ہوا تھا، وه آواران جہاں لوگ احساسِ محرومی کا شکار ہیں،جس سے پاکستان کا ہر بچہ سوائے ان طبقے  کے جو سوشل اور الیکٹرونک میڈیا سے دور ہیں شاید انہیں پتا نہ ہو وگر نہ حامد میر کی 7 ستمبر کی نشریات تو سب نے دیکھ لیا ہوگا، آواران کی محرومی، پسماندگی سے لگ ایسا رہا تها کہ کہیں آواران ایک ایسی علاقہ ہو جو گویا آج آزاد ہوا ہو، آج بنا ہو، گورنمنٹ آج تشکیل ہوئی ہو، وہاں کے لوگ صاف پانی بجلی جیسی سہولیات سے محروم  ہیں، صحت اور تعلیم جیسا بنیادی اور انمول تحفے آج تک آواران کے باسیوں کی نصیب میں نہیں آئے، صاف پانی، بجلی، روڈ، صحت اور تعلیم کے پیسے آج تک آواران میں  نہ پہنچ سکے، وه پیسے کہیں کوئٹہ کے رہائشی مکانوں میں آپکو ملیں گے، جعلی بینک اکاؤنٹ سے ملیں گے یا پهر آواران کے لیئے فنڈ بیرونِ ملک اور اندورنِ ملک  جائیدادوں اور کمپنی کی شکل میں  ملیں گے، بلکہ صرف آواران نہیں پورا بلوچستان اسی طرح پسمانده ہے مگر وہاں تک ہماری رپورٹنگ ناکافی ہے، گوادر کو اگر  سمندر نے ترقی دلوائی تو “شکریہ سمندر”، گوادر کے باسی  سمندر کی خاطر بنائی گئی پارک ضرور دیکهیں گے،سمندر کے لیے بنائی گئی روڈ بهی، چین  کی خاطر دیا ہوا  صاف پانی بهی شاید گوادریوں کے کهاتے میں جمع ہو ،گر اسی طرح گوادر کا ساحل  چین کے لیے آباد  رہے تو ہو سکتا ہے گوادر کو ایک یونیورسٹی بهی نصیب ہو،وہاں بلوچستان کی بیٹے اور بیٹیاں صاحب اور صاحب تعلیم بنیں۔

“بلوچستان کی بیٹیوں” نے تعلیم کو چنا ہے،بلوچستان کی بیٹیاں  تعلیم سے استفاده کرکے مستقبل میں بلوچستان کو  محرومیوں سے نکالنے کے عزم میں ہیں ، وه آئنده آواران کو اسی طرح پسمانده نہیں دیکهنا چاہتے،وه بلوچستان کو وہاں تک پہنچانے کے عزم میں ہیں جہاں بلوچستان کا حق بنتا ہے

بلوچستان کی بیٹیاں خاندانی اور معاشرتی قید و بند سے نکل کر حصولِ علم کی خاطر دور دراز علاقوں تک جانے میں کامیاب تو رہے ہیں مگر وه کالجز اور یونیورسٹیز تک نہ پہنچ سکے ہیں جہاں وه ایک خواب لے کے گئے تهے بلوچستان کی بیٹیاں کہیں ہمیں کوئٹہ کے سڑکوں پر دهکے کهاتے ہوئے ملیں گے،کہیں ہم انکی تلاش جیلوں تک کریں گے،کبهی وه سڑکوں پر بهوک ہڑتال میں مشعول  ہونگے  کبهی وه اسپتالوں کے آئی سی یو میں   بے ہوش ہوتے ملیں گے،کبهی  وه اپنے بنیادی حقوق کے لیےسوشل میڈیا میں ہیش ٹیگ چلا رہے  ہونگے اور کبهی وه بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کے گیٹ کے باہر احتجاج کرتے ہوئے ملیں گے۔

بلوچستان کی بیٹیاں تعلیم جیسے عظیم ہستی تک پہنچنے سے بلکل قاصر ہیں، تعلیم کی خاطر آدها کلومیٹر کا سفر طے کرکے کہیں انتظار گاه میں بیهٹے  ہیں کہ کہیں حکومتی گاڑی ہمیں لینے آجائے۔

تعلیم نے انہیں مزاحمت سکهایا ہے،لڑتے لڑتے جیتنے کا ہنر سکهایا ہے،بهوک ہڑتال کرنا،بهوک و افلاس میں زنده رہنے کی برداشت سکهایا ہے، تعلیم نے انہیں جیل بهی دکهائے ہیں،حکمرانوں کو  بیدار کرنا انہوں نے سکهایا ہے،

شاید آنے والے حکمرانِ وقت ان سے کچھ سیکھ  جائیں،شاید بلوچستان کی محرومیوں کا خاتمہ انکی بدولت ختم ہو،شاید ان کی بدولت کل کا بلوچستان  “پسمانده” نہ ہو۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

Slip of Toungue or Slip of mind | لاریب مشتاق

تحریر: لاریب مشتاق ہٹلر کا قول ہے کہ کسی بھی ملک کو شکست دینے کا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے