اتوار , 20 ستمبر 2020
ensdur

بلوچستان، سوشل میڈیا پر کمنٹس سے ملازمت سے برخاستی کی سبب بن سکتی ہے، نوٹیفکیشن جاری

رپورٹ: گہرام اسلم بلوچ

دو دن قبل جان سرکار کی جانب سے محکمہ (  ایس اینڈ جی ، اے ،ڈی) سے ایک حکم نامہ جاری ہوا جس میں  یہ کہا گیا ہے کہ آج کے بعد  گورنمنٹ  آف بلوچستان  کا کوئی بھی سرکاری ملازم  کوسوشل میڈیا استعمال کرنے پہ پابندی ہوگی، جس سے ریاستی اور حکومتی مفادات کو شدید خطرات لائق ہے۔ شاید  اب جام سرکار کو یہ شک ہوگیا ہوگا کہ اب انکے اپنے ارد گرد سے اُنکی سرکار کی بدعنونیاں پاش ہونے کا خدشہ ہے یہ انکے خلاف سازشیں جنم لی رہی ہیں؟

اگر ایسا ہے تو ایسے حکم نامے ( نوٹیفکیش) جاری کرانے سے قبل متعلقہ  ادارے کو ( اسلامی جمہوریہ پاکستان) کے آئین کے آرٹیکل 19 اور 19،اے ، کا مطالعہ کرنا ضروری تھا کیونکہ اظہار آزادی رائے اور جاننے کے حق  کا اظہار کرنا ہر شہری کا بہادی انسانی حق ہے جسکی  اجازت ملکی آئین بھی دیتی ہے۔   عجلت سے جاری  کئے اس سرکاری حکم نامے سے حکومت اور حاکم وقت  ناقدین مزید  منظم انداز میں دلائل کیساتھ تنقید کا نشانہ بنانے میں حق با جانب ہوں گے۔

ایک ایسے وقت میں حکومت بلوچستان کی جانب سے ایسے نوٹیفیکشن جاری کرانے سے عام فہم شہریوں کے  ذہن میں کئی سوالوں نے جنم لیا ہے، کیونکہ  اگر اس سے قبل تھوا  پھیچے مُڑ کر دیکھا جائے تو  معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ سرکار کو ، پاکستان تحریک انصاف  کے نقش قدم پر چلنے کی تہانہ دیا جاتا تھا  کہ وہ وہ اپنے اردگرد کے تمام ہمنواؤں کو  تیزی سے ٹوئیٹر  اکاؤنٹس کھلوانے کی تربیت دی جاتی تھی  مگر آخر اب ایسا کیا ہوگیا ہے کہ ٹوئیٹر سرکار جیسے منظم سوشل میڈیا ٹیم کو محض چند مھٹی بھر عناصر ، ناقدین   وٹساپس گروپس سے گھبرانے لگا ہے ؟

جتنی تیزی سے  بلوچستان حکومت سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے ہر   بُرے   اور ( بڈ گورنسس) کو بہتر طرز حکمرانی ثابت کرانے میں  لگا ہوا تھا ، تو  مستقبل قریب میں بلکل ایسا نہیں لگ رہا تھا کہ اتنی جلدی مایوس ہوکر اپنے بنائے گئے  منظم سوشل میڈیا ٹیم کو بہت جلد غیرہ مسلح کریگی۔( واضع رہے   کہ  سوشل میڈیا پر متعدد ایسے سرکاری ملازم تھے جو اپنے وہ سمجتھے تھے وہ حکومت کی کارکردگی کی تعریف کیا کرتے تھے)

اسی  نوٹیفکیشن کے ردعمل میں  بلوچستان ایمپلائز اینڈ ورکرز گرینڈ الائنس کا سوشل میڈیا پر موقف:

بلوچستان حکومت کی سرکاری ملازمین کو ان کے جائز حقوق نہ دینے ان کو خاموش کروانے کے لیے پابندیاں لگا دی گئی ہیں۔ مختلف محکموں میں سروس سٹرکچر،الاؤنسز کا فرق،سرکاری ملازمین کے رہائش مسئلہ،پنشن،ریٹائرمنٹ،تعلیم و صحت, ان مسئلوں کا حل کرنے کے بجائے ان کو دھمکیاں دی جارہی ہیں ان پر پابندیاں لگائی جارہی ہیں۔.

مختلف محکموں ایس اینڈ جی اے ڈی،سیکرٹریٹ،خزانہ،تعلیم ،صحت صحت،ویٹرنری، زراعت، بھتہ خوری،بی اینڈ آر میں ہونے والی اربوں کی کرپشن، بدعنوانیا،نااہلی کے خلاف حکومت خاموش ہے جس کی شدید مذمت کی جاتی ہے.

اپنے مطالبات کے حق میں 3ستمبر 2020 کو کوئٹہ سیکٹریٹ چوک پر احتجاجی دھرنا دیا جائے گاجب تک مختلف محکموں کے ملازمین کا مسئلہ حل نہیں ہوا،تب تک جاری رہے گا.تمام ملازمین سے شریک ہونے کی اپیل کی جاتی ہے۔

اگر ایسا ہوگیا تو ملازمین کے اس نوعیت  کے احتجاج سے  نمٹنے کے لیے آج سے حکمت عملی  بنانا ہوگا کیونکہ  پچھلے سال  کوئٹہ  میں اساتذہ نے اپنے مطالبات کے حق میں چند گھنٹے کے لیے  مذکرہ  بالا چوک  بلا کیا تو پورا شہر   کی معامولات زندگی محال ہوکر رہ گیا۔

ملازمین کی اس ردعمل سے یہی  ظاہر ہوتا ہے کہ  ملازمین  کی سوشل میڈیا پر پابندی عائد کرانے کا    کا ایک وجہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ  ملازمین اپنے جائز مطالبات کے حق میں  سوشل میڈیا  کا حق استعمال کرنا چاہتے ہیں اور  حکومت کا م سرکاری ملازمین کا  سوشل میڈیا پر پابندی ناگزیر ہوچکا ہے۔

نا سوشل میڈیا پر پابندی سے موجودہ حکومت کی   مایوس کن  کارکردگی پوشیدہ ہوسکتا ہے اور نا ہی  احتجاج سے اس نظام میں بہتری کے امکانات موجود ہیں۔ بہتر یہی ہوگا کہ  ملازمین سوشل میڈیا پر کسی سیاسی پوسٹ یا کمنٹ کرنے سے گریز کریں ، کیونکہ اس سے وہ اپنے  سے ہاتھ دھو نا پڑتا ہے۔

اگر سرکار اپنے ماتحت ملازمین کو دبانے کے لیے اتنی بڑی اقدام اُٹھانے کی ٹہان  لے سکتی ہے  تو  اُنکے جائز مطالبات ماننے  کے لیے  کیوں لچک کا مظاہرہ نہیں کرتے ہوئے مزاکرات کا راستہ نہیں اپناتا ہے۔؟  ایسے نول کرونا وبا کے دور میں ایسے بڑے پیمانے پر احتجاج سے ناصرف  کووڈ 19 کے احتیاطی تدابیر  کی نفی ہوسکتی ہے بلکہ صوبے میں مزید  کیسز بڑھنے کا خدشہ موجود ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ حکومت   ملازمین کو  سڑکوں پہ نکلنے سے روکنے کہ پالیسی پہ توجہ دیں۔ ویسی اسوقت کئی ملازمین سڑکوں پر ہیں۔

 نوٹ:    میں   بلوچستان بیسڈ جرنلسٹ ہوں حال ہی میں شعبہ ابلاغیات سے ماسٹر کرچکا ہوں ۔ اسوقت  مختلف میڈیا ہاؤسس میں بطور فری لانس  مختلف سیاسی سماجی موضوعات پہ  لکھتا ہوں۔  زمانہ طالب علمی سے طلبا سیاست سے وابستگی کی وجہ سے  ،تعلیمی مسائل پہ قلم کشائی میرا پسندیدہ موضوعات میں سے ایک ہے۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

عاصم باجوہ نے بلوچستان میں سازش کی، نواز شریف

پیپلز پارٹی کی میزبانی میں منعقد آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے