ہفتہ , 8 اگست 2020
ensdur

بلدیہ ٹاؤن فیکٹری میں آتشزدگی حادثہ نہیں، 20 کروڑ بھتہ نہ دینے پر آگ لگائی گئی: جے آئی ٹی رپورٹ

بلدیہ ٹاؤن فیکٹری سانحے کی تحقیقات کیلئے بنائی گئی جوائنٹ انوسٹی گیشن (جے آئی ٹی) کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2012ء میں پیش آتشزدگی کا یہ واقعہ دہشتگردی تھا۔

تفصیل کے مطابق سانحہ بلدیہ فیکٹری کی جے آئی ٹی جو 27 صفحات پر مشتمل ہے۔ سندھ حکومت کی جانب سے یہ رپورٹ بروز پیر مورخہ 06 جولائی کو جاری کی جائے گی۔

جے آئی ٹی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری میں آگ 20 کروڑ روپے بھتہ نہ دینے پر لگائی گئی تھی۔ فیکٹری سے بھتہ ایم کیو ایم کے حماد صدیقی اور رحمان بھولا نے مانگا تھا۔

رپورٹ کے مطابق واقعے کے مقدمے اور تحقیقات میں ملزمان کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ دہشتگردانہ کارروائی کو ایف آئی آر میں پہلے قتل کہا گیا، پھر حادثہ قرار دے دیا گیا۔

ابتدائی تحقیقات میں ایف آئی آر یا تفتیش میں کہیں بھتے کا ذکر نہیں کیا گیا۔ جے آئی ٹی نے گزشتہ ایف آئی آر واپس لینے اور دہشتگردی کی دفعات کے تحت نیا مقدمہ درج کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم نے ایف آئی آر میں رحمان بھولا، حماد صدیقی اور زبیر چریا اور دیگر افراد کے نام ڈالنے کی سفارش کی ہے۔

رپورٹ میں مقدمے کے مفرور ملزمان کو بیرون ملک سے واپس لانے، تمام ملزمان کے پاسپورٹ منسوخ کرنے اور نام ای سی ایل میں ڈالنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ جے آئی ٹی رپورٹ میں واقعے کے تمام گواہوں کو تحفظ فراہم کرنے کی سفارش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ فیکٹری مالکان سے بھتہ کےعوض خریدا گیا حیدر آباد کا 1 ہزار گز بنگلہ واپس مالکان کو دیا جائے۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی مزید مہنگی کردی گئی

فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی مہنگی کردی گئی ہے، بجلی کے نرخوں میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے