اتوار , 20 ستمبر 2020
ensdur

بلدیاتی نظام میں خواتین کی موثر شرکت | عروسہ کھٹی

تحریر: عروسہ کھٹی

بلدیاتی نظام میں خواتین کی موثر شرکت سیاسی عمل کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ بنیادی عوامی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔خواتین کا قومی، صوبائی اور بلدیاتی حکومتوں میں موثرکردار ہی ملک کی ترقی کا ضامن ہے۔

بلدیاتی حکومتوں کی کارکردگی پہ لکھنے سے پہلے پاکستان کی موجودہ آبادی کے اعدادوشمار لکھنا ضروری ہے تاکہ مسائل کی نوعیت کو سمجھنے میں آسانی ہو۔آبادی کے لحاظ سے پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے۔جس کی ایک محتاط اندازے کے مطابق آبادی ۲۱۲ملین یعنی بائیس کروڑ بیس لاکھ سے زیادہ ہے۔ اتنی بڑی آبادی والے ملک میں بنیادی سہولیات مہیا کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ خواتین اس آبادی کا آدھا حصہ ہیں جوکہ گیارہ کروڑ  دس لاکھ ہے۔

مگر ان گیارہ کروڑ دس لاکھ خواتین کی ملک کی ترقی میں شرکت آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ پاکستان اس وقت عالمی اقتصادی فورم کی جانب سے جاری کردہ گلوبل جینڈرگیپ رپوٹ ۰۲۰۲ع یعنی عالمی صنفی امتیازکی رپوٹ میں ۳۵۱ ممالک میں سے ۱۵۱ ویں نمبر پر آیا ہے۔جو خواتین کی شرکت کے حوالے سے افسوسناک خبرہے۔۳۵۱ ممالک میں سے صرف یمن اورعراق ایسے دو ممالک ہیں جن سے ہم بہتر ہیں۔ رپوٹ کے مطابق پاکستان خواتین کی معاشی سرگرمیوں میں شرکت کے حوالے سے ۰۵۱ ویں، تعلیم میں ۳۴۱ ویں، صحت میں ۹۴۱ ویں اورسیاست کے میدان میں ۳۹ نمبر پر ہے۔ رپوٹ کے مطابق دوسرے ایشین ممالک ترقی میں ہم سے کہیں آگے ہیں۔وہیں پاکستان کافی عرصے سے عالمی  ترقی کے معیار پر پیچھے گیا ہے۔ پاکستان کی ۶۰۰۲ع میں درجہ بندی ۲۱۱ویں نمبر پر تھی جو بہتر ہونے کے بجائے اور خراب ہوئی ہے۔

جس ملک کی آدھی آبادی کو گھربٹھادیاجائے،انہیں معیاری تعلیم مہیا نہ کی جائے،ان کے حقوق کی بات نہ کی جائے اور خواتین کی صلاحیتوں کو نظر انداز کیاجائے، وہ ملک کیسے ترقی کرسکتاہے؟

سندھ کی ترقی کی صورتحال بھی اسی طرح ہے۔ اس وقت سرکاری اعداد  و شمارکے مطابق سندھ کی آبادی پانچ کروڑ کے قریب ہے،یہ اوربات ہے کہ سندھ حکومت، سیاسی جماعتیں اور قومپرست جماعتوں کا آبادی کے اعداد وشمارپر بڑے اعتراضات ہیں۔اسی آبادی کا آدھا حصہ خواتین پر مشتمل ہے۔ سندھ ترقی کی مختلف درجہ بندیوں پر بہت پیچھے ہے اور افسوس یہ ہے کہ سندھ پاکستان کے دوسرے صوبوں خاص طور پر پنجاب سے بہت پیچھے ہے۔

تعلیم جو دنیا میں ترقی کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے، اس کی کارکردگی میں سندھ نے ترقی  نہیں کی بلکہ صورتحال خراب ہوئی ہے۔اقتصادی سروے کی  ۹۱۰۲ع کی رپوٹ کے مطابق سندھ میں خواندگی کی شرح ۳۶فیصد تھی جو بڑھنے کے بجائے ۲۶فیصد ہوئی ہے۔

اسی طرح تعلیم حاصل کرنے میں لڑکیاں لڑکوں کے مقابلے میں کم ہیں۔اسکول چھوڑنے کا تناسب بھی لڑکیوں میں زیادہ ہے۔یہ اعدادوشماراور تجزئے ہمیں بتاتے ہیں کہ خواتین کی شرکت ہر شعبے میں نظرانداز ہورئی ہے۔جس کی بڑی وجہ یہ ہے کے ہم پدرشاہی نظام میں رہتے ہیں اور شعوری یا لاشعوری طور پر خواتین کی ترقی کونظرانداز کیا جارہاہے۔ملک کی آدھی آبادی کو کچن تک محدود کردینا  اور انہیں ملک کا کارآمد شہری سمجھنے کے بجائے بوجھ سمجھنے سے ملک ترقی کرنے کے برعکس پسماندگی، جہالت اور تنگ نظری کے سمندر میں ڈوب جائے گا۔

پاکستان ایک وفاقی جمہوری ملک ہے اور آئین کے آرٹیکل بتیس اور ایک سو چالیس اے کے مطابق ملک میں تین سطحوں پر حکومتی نظام رائج ہوگا۔وفاقی، صوبائی اور بلدیاتی نظام۔ پاکستان بدقسمتی سے جب سے آزاد ہوا ہے تب سے زیادہ عرصہ آمریت کے ادوار دیکھ چکا ہے یا پھر اس کے سائے تلے رہا ہے۔جس کی وجہ سے جمہوری حکومتیں اپنا آئینی مدہ پورا کرنے سے پہلے سازشوں کا شکار ہوتے ہوے گرادی گئیں۔

مارشل لا میں بلدیاتی انتخابات کرائے گئے مگر غیرجماعتی بنیادوں پر۔ آئین شکنی  اور اپنے مفادات کو تحفظ دینے کے لئے یہ ساری سازشین کی گئیں۔ اس ساری صورتحال کا اثر ملک کی ترقی پہ پڑا  اور ہم آگے نہیں بڑھ پائے۔جمہوری ادارے جس تسلسل سے گذرتے ہوے پروان چڑھتے وہ عمل رک گیا۔

جمہوری طرزحکمرانی میں بلدیاتی اداروں کا اہم کردار ہوتاہے، مگر بدقسمتی سے جمہوری حکومتوں نے بلدیاتی اداروں کو وسائل اور اختیارات نہیں دئیے۔جس کی وجہ سے نچلی سطح پر ادارے نہیں بن پائے۔نچلی سطح پرفیصلاسازی میں عوام کی آواز نہ ہونے کے برابر ہے۔اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد ہرصوبے نے مقامی حکومت کے حوالے سے قانون سازی کی ہے اور ہر صوبے کے اندر اس کی وزات بھی قائم کی ہے۔ جس کے تحت پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پارٹی بنیادوں پر  انتخابات بھی کرائے گئے۔لیکن اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ جمہوری حکومت میں سپریم کورٹ کے حکم پر مقامی الیکشن کرائے گئے۔

اٹھارویں آئینی ترمیم  کے بعد وفاق سے اختیارات اور وسائل صوبوں کومنتقل ہوئے مگر صوبوں نے اختیارات ضلعی اور یوسی لیول پر منتقل نہیں کئے۔سندھ لوکل گورمنٹ ایکٹ ۳۱۰۲ع کے قانون میں تعلیم، صحت، زراعت اور ترقیاتی کام مقامی حکومت کے دائرے اختیار سے باہر تھے۔ جس سے ادارے مقامی سطح پر مستحکم نہ ہوسکے۔

اسی سارے عمل کے دوران خواتین کی شرکت کو یقینی بنانے کے لئے خواتین کی بائیس فیصد مخصوص نشستیں بھی رکھی گئیں۔پچھلے مقامی الیکشن میں مخصوص نشستوں پر وہ خواتین لائی گئیں جو سیاست میں فعال نہیں تھیں اور نہ ہی ان کا کوئی تجربا تھا۔ جس کی وجہ سے ان کی شرکت موثر نہ بن سکی۔ زیادہ تر خواتین کو یہ بھی خبر نہ تھی کہ ان کی زمہ داریاں کیا ہیں اور خواتین کی  اس سارے سیاسی عمل میں شرکت کیوں کر ضروری ہے۔

زیادہ تر خواتین ایسی تھیں جن کی رابطاکاری کی صلاحیت نہ ہونے یا کم ہونے سے وہ عوام کے مسائل سننے،  سمجھنے اور اسے حل کرنے میں کوئی اہم کردار ادا نہ کرسکیں۔

گاؤں کی سطح پر لوگوں کے کیا مسائل ہیں، لوگوں کی ترجیحات کو سمجھنا  اور موجودہ سہولیات کے بہتر استعمال کے حوالے سے بات چیت کرنا  وغیرہ میں خواتین غائب نظر آئیں۔کچھ علاقے ایسے بھی تھے جہاں خواتین کی شرکت صرف رسمی طور پر تھی۔

الیکشن کمیشن پاکستان کی جانب سے ۶۱۰۲ع میں کی جانے والی اصلاحات میں ایک اہم نکتہ یہ بھی تھاکہ مخصوص نشستوں کے علاوہ ساری سیاسی جماعتیں پانچ فیصد نشستوں پر خواتین کو ٹکٹ دیں۔

اب سیاسی جماعتوں کو مخصوص نشستوں کے علاوہ مقامی الیکشن میں عورتوں کو چیئرمین، میئر وغیرہ کے اہم عہدوں پر ٹکٹ دینے چاہییں تاکہ خواتین اس سیاسی عمل سے گذرنے کے بعد بہت کچھ سیکھ سکیں گی اور ان کی شرکت معنی خیزبنائی جاسکتی ہے۔

پاکستان کے دوسرے صوبوں پنجاب اور خیبرپختونخواہ  میں پی ٹی آئی کی حکومت نے مقامی حکومتوں کو مطعل کردیا۔اس سے ایک سیاسی پارٹی کی سوچ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ایک اتنے بڑے سیاسی عمل کو پی ٹی آئی حکومت نے اپنی آئینی و قانونی مدت بھی مکمل کرنے نہیں دی۔ حالانکہ سندھ میں مقامی حکومتوں نے اپنی مدت مکمل کی ہے اور سندھ اسیمبلی سندھ لوکل گورمنٹ ایکٹ ۳۱۰۲ع میں موجودہ تجربات کی روشنی میں قانون میں ترامیم کرنا چاہتی ہے۔ سندھ حکومت الیکشن کمیشن آ ف پاکستان اور مختلف فورمز پر پیش کردہ خواتین کی سفارشات کو ضرور مدنظر رکھیں تاکہ خواتین کی موثرشرکت کو زیادہ سے زیادہ یقینی بنایا جا سکے۔

اس طرح کی قانون سازی سے سندھ حکومت کو نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں پذیرائی ملے گی۔ سندھ حکومت نے لوکل گورمنٹ  ایکٹ ۳۱۰۲ع کو جب عملدرآمد کیا تو انہیں بہت سی  معلومات، تجربات، مسائل،ناکامیاں اور کامیابیاں ملی ہونگی۔ یہ  بہترین  وقت ہے کہ سندھ حکومت انہی تجربات کو مدنظر رکھتے  ہوے لوکل گورمنٹ ایکٹ میں وسائل اور اختیارات کی منتقلی کا  متوازن قانون تشکیل دے۔ جس میں؛ تعلیم، صحت، زراعت، کمیونٹی ڈولپمینٹ، ٹرانسپورٹ وغیرہ جیسے اہم کام شامل ہوں اور  عورتوں کی شرکت  کو یقینی بنایا جائے تاکہ نچلی سطح پر  اداروں کو مستحکم بھی کیا کاسکے۔

قانون میں بلدیاتی  نمائندوں اور صوبائی منتخب نمائندوں کے کاموں اور زمہ داریوں کا تعین بھی واضح ہونا چاہیے تاکہ عوام قانون سازی اور  پالیسی سازی کے لئے صوبائی منتخب نمائندوں سے ملے اوربنیادی سہولیات کے لئے بلدیاتی نمائندوں سے۔

دوسری طرف خواتین پدرشاہی نظام کی وجہ سے یہ سمجھتی ہیں کہ ان کا کام صرف گھر کے اندر کھانا پکانے تک محدود ہے۔ ملک کی سیاست، معیشت، تعلیم، صحت، روزگار، ترقی اور امن  سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ سوچ نہ صرف عورتوں بلکہ مردوں میں بھی موجود ہے۔ ایسی سوچ کے خاتمے کے لئے سیاسی جماعتوں کو سیاسی شعور اور آگاہی کے مستقل پروگرام چلانے ہونگے۔اس طرح کے سیاسی تعلیمی پروگرام ملک میں جمہوری روایات کو مستحکم کریں گے۔

مختلف ممالک کی خواتین سربراہان نے اس مشکل ترین وقت  میں اپنی  قائدانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے کورونا جیسی خطرناک وبا کا مقابلہ کیا اور اپنے ملکوں کو بحرانوں سے باہر نکالا۔یہ بات ثابت کرتی ہے کہ عورتیں بھی کسی سے کم نہیں ہیں اور ان کی سیاست میں شرکت ملک کو  ترقی دلوائے گی۔

جب تک خواتین کی شرکت کو مصنوعی انداز سے نکال کر معنی خیز نہیں بنایا جائے گا  تب تک خواتین سیاست میں مطلوبہ کردار ادا نہیں کرسکیں گی۔جیسے قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا ہے کہ کوئی قوم تب تک ترقی نہیں کرسکتی جب تک ان کی عورتیں ان کے ساتھ کھڑی نہ ہوں۔

خواتین تعلیم اور سیاست میں حصہ لیں گی تبھی ملک برابری، عدل و انصاف کی بنیاد پر ترقی کر سکے گا۔خواتین کی شرکت کے بغیر ہمارا ملک گلوبل جینڈرگیپ یا ترقی کے دوسرے معیارات پر ہمیشہ ۱۵۱ نمبر پر آ ئے گا یا پھر ہم  جہالت کے نئے داستان لکھیں گے۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

میثاق جمہوریت ۔ 2 کی ضرورت

تحریر: سید مجاہد علی اتوار کو اسلام آباد میں ملک کی تمام اپوزیشن پارٹیوں کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے