جمعرات , 25 فروری 2021
ensdur
اہم خبریں

بلاول گلگت بلتستان جیت چکا ہے | احسان ابڑو

تحریر: احسان ابڑو

گلگت بلتستان کے انتخابات میں بس اب چند ہاتھ ہی لبِ بام رہ گئے ہیں مگر پیپلز پارٹی کے پرجوش، ولولہ انگیز نوجوان قائد بلاول بھٹو زرداری نے جس طرح پچھلے تین ہفتوں میں اس جنتِ نظیر خطے کو دنیا کی توجہ کا مرکز بنادیا ہے اور جس طرح انہوں نے دنیا کو اور خصوصاً پاکستانیوں کو یہ باور کرایا ہے کہ دنیا کے حسین ترین خطوں میں سے ایک ایسا خطۂ زمیں پاکستان میں بھی موجود ہے اور باوجود ملکوتی حسن کے یہ خطۂ زمیں اور یہاں کے لوگ زندگی کی ہر بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے طوفانی اور انتہائی جاندار پرخطر انتخابی مہم چلا کر ملک کے حکمرانوں اور دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی مجبور کردیا کہ وہ گلگت بلتستان میں آ کر نہ صرف اپنی اپنی جماعتوں کی کامیابی کے لیے سردھڑ کی بازی لگائیں بلکہ اس علاقے کو اس کی جغرافیائی اور سیاحتی اہمیت اور حیثیت کے مطابق اس کا حق دیں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پچھلے تین ہفتوں سے جس طوفانی انداز میں گلی گلی، قریہ قریہ، گاؤں گاؤں پرخطر و پرخاب راستوں پہ زمینی سفر کرکے گلگت بلتستان کی عوام سے خود رابطہ کیا اور ان کے مسائل اور تکالیف کا مشاہدہ کیا ہے وہ اس لحاظ سے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ ان سے پہلے ان کے نانا شہید ذوالفقار علی بھٹو وہ واحد سیاسی لیڈر تھے جو ان دور دراز اور پرخطر راستوں سے ہوکر اپنے لوگوں کے دکھ درد بانٹنے انہیں سہولیات پہنچانے ان تک پہنچے تھے اور آج جب بلاول اپنے نانا کے نقشِ پا پہ چل کر ان مشکلات کے مارے نظر انداز کیئے گئے لوگوں تک پہنچے تو ہر جگہ گلگت بلتستان کے لوگوں نے چیئرمین بلاول کو اپنے دلوں میں جگہ دی، اور دنیا کو واضح پیغام دے دیا کہ انتخابات کے نتائج چاہے جو بھی آئیں بلاول ان انتخابات سے پہلے ہی گلگت بلتستان کی عوام کا نہ صرف انتخاب بن چکے ہیں بلکہ وہ ان کے دلوں کو بھی تسخیر کر چکے ہیں، اگر میں کہوں کہ انتخابات سے پہلے ہی بلاول بھٹو زرداری گلگت بلتستان کو جیت چکے ہیں تو یہ بےجا نہ ہوگا۔

کل رات ایک گلگتی دوست فہیم آغا سے بات کرتے اور گلگت بلتستان کے انتخابات کے ڈائنامکس کو سمجھتے ہوئے میں نے اندازہ لگایا کہ پہلی بار گلگت بلتستان کو پاکستان کے قومی انتخابات جتنی اہمیت اور حیثیت صرف اور صرف چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی طوفانی اور شاندار انتخابی مہم کی وجہ سے حاصل ہوئی ہے۔ اس وقت پاکستان کے تمام بڑے میڈیا ھاؤسز کے لوگ گلگت بلتستان کے انتخابات کی کوریج کے لیئے وہاں موجود ہیں، ملک کی تمام چھوٹی بڑی سرکاری اور اپوزیشن جماعتیں اپنی اپنی کامیابی کے لیئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہیں، عوام کو اپنے منشور ور پروگرام کے بارے میں آگاہ کر کے ان کے ووٹ حاصل کرنے کی تگ و دو کرنے میں جُتی ہوئی ہیں مگر ان جماعتوں میں ایک جماعت جو بدقسمتی سے پاکستان کی حکمران جماعت ہے کے لوگ صرف اور صرف مخالفین کی کردار کشی کے ذریعے، مخالفین کی ماؤں بہنوں، بیٹیوں کی حرمتوں کی کردار کی توہین اور مخالفین پہ مغلظات کا طوفان برپا کرکے اپنی کامیابی کے دعوے کر رہی ہے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایسے ہی اخلاق باختہ، گھٹیا لوگوں کے بارے میں بلکل درست کہا تھا کہ گندے وزیر گالیاں دے کر اپنے مخالفین کی کردار کشی اور عورتوں کے بارے میں انتہائی نازیبا الفاظ استعمال تو کر رہے ہیں مگر اس گندے وزیراعظم کے گندے وزیروں کو انشاء اللہ گلگت بلتستان کے عوام انتخابات میں بدترین شکست دیکر ان کی گندی زبان اور سوچ کا بھرپور جواب دیں گے۔

گلگت بلتستان کے انتخابات اس بار صرف سیاسی مخالفین کے درمیان نہیں ہو رہے بلکہ یہ انتخابات پاکستان، گلگت بلتستان کے عوام کے سیاسی، اسلامی جمہوری انسانی، اخلاقی اقدار اور نظریات کے درمیان بھی ہو رہے ہیں ، ایک طرف وہ قوتیں ہیں جو سیاست میں اخلاق، برداشت، رواداری، ایک دوسرے کی عزت، ایک دوسرے کے نظریات و نقطۂ نظر کو اہمیت دینے پہ یقین رکھتی ہیں تو دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو سیاست میں نفرت، انتقام، گالم گلوچ، عدم برداشت، کردار کشی، ھٹ دھرمی، تکبر، گھنڈ، ضد اور اناپرستی کے پیروکار ہیں۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کئی دہائیوں سے ایک دوسرے کے سخت نظریاتی مخالف رہے، ایک دوسرے کے خلاف انتہائی سخت مؤقف اختیار کرتے اور اسیمبلی کے فلور اور ملک کی سڑکوں پہ ایک دوسرے کے خلاف برسرِ پیکار بھی رہے مگر ان جماعتوں کی باہمی لڑائیوں نے اچانک ایسا موڑ لیا کہ سیاست میں کٹر دشمن جماعتوں نے ایک ساتھ میثاقِ جمہوریت بھی سائن کیا، اختلافات پھر ہوئے مگر آج پھر ملک کے امن، سلامتی، استحکام جمہوریت کی مضبوطی اور تسلسل کی خاطر دونوں جماعتیں نہ صرف ایک پلیٹ فارم پہ کھڑی ہیں بلکہ آج دونوں جماعتوں کی نوجوان لیڈرشپ کے درمیان ملکی سیاست کی تاریخ کی سب سے بہترین انڈرسٹینڈنگ موجود ہے جو یقیننا پاکستان کے سیاسی مستقبل جمہوریت کے استحکام اور ملک کی تعمیر و ترقی کے لیئے انتہائی دور رس اثرات مرتب کرے گی۔

آج گلگت بلتستان کے انتخابات پاکستان کی سیاسی تاریخ کے اس کٹھن اور نازک سیاسی موڑ پہ انتہائی اہمیت اختیار کر چکے ہیں، یہ انتخابات ملک کے سیاسی مستقبل کا تعین کرنے میں اہم ثابت ہوں گے، انتخابی نتائج اگر یک طرفہ طور پر حکومتی جماعت کی حق میں آئے تو یہ پاکستان کی سیاست اور جمہوریت کے لیئے انتہائی تباہی کن بھی ہو سکتے ہیں کیوں کہ اب تک کے انتخابی جائزوں میں پیپلز پارٹی مسلم لیگ ن اپنی حریف اور حکومتی جماعت کے مقابلے میں ثبقت حاصل کیئے ہوئے ہیں مگر جس طرح وزیراعظم عمران خان اور ان کی گالم گلوچ برگیڈ گلگت بلتستان کے انتخابات میں انتخابی ضابطہ اخلاق کی دھجیاں اڑا رہے ہیں، حکومتی اختیارات استعمال کرکے انتخابی نتائج پہ اثر انداز ہونے کی کوششیں کر رہے ہیں اور گلگت بلتستان کی نگراں حکومت اور الیکشن کمیشن حکومتی گماشتوں اور کٹھ پتلیوں والا کردار ادا کر رہی ہیں یہ خطرہ لاحق ہوگیا ہے کہ گلگت بلتستان کے انتخابات بھی پاکستان کے 2018 کے قومی انتخابات کی طرح چوری کیئے جا سکتے ہیں اور اسی لیئے ہی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پچھلے تین ہفتوں سے گلگت بلتستان میں ڈیرے ڈال کر بیٹھ گئے ہیں اور بار بار کہ چکے ہیں کہ وہ انتخابات کسی کو چوری کرنے نہیں دیں گے نتائج لیکر ہی واپس آئیں گے۔ میرے ذاتی خیال میں مریم نواز سمیت پی ڈی ایم کی ساری قیادت کو گلگت بلتستان کے انتخابات والے دن سے لیکر مکمل نتائج آنے تک گلگت بلتستان میں ڈیرے ڈال کر بیٹھنا چاہیے تاکہ وزیراعظم اور ان کے نوسربازوں کے ٹولے کا انتخابات چرانے کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکے۔

گلگت بلتستان کے انتخابات کے نتائج سے بے پروا پیپلز پارٹی کے دلیر پرعزم و عوام دوست قائد چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے صرف تین ہفتوں میں اپنی انتھک محنت، شبانہ روز کوششوں سے گلگت بلتستان کے عوام سے اپنے اٹوٹ رشتے اور تعلق کو نہ صرف عملی طور پر ثابت کیا ہے بلکہ اپنے تمام حریفوں اور ناقدین کو یہ واضح پیغام دے دیا ہے کہ نتائج چاہے کچھ بھی ہوں وہ انتخابات سے قبل ہی الیکشن اور گلگت بلتستان کے عوام کے دلوں کو وہ جیت چکے ہیں۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

کیا عثمان بزدار استعفیٰ دیں گے؟ | سید مجاہد علی

تحریر: سید مجاہد علی مسلم لیگ (ن) اور مریم نواز کے شور شرابے کو سیاسی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے