پیر , 30 نومبر 2020
ensdur

بائیس کروڑ بھیڑیں اور گڈریا | ملک سراج احمد

تحریر: ملک سراج احمد
پاکستان کی سات دہائیوں کی سیاسی تاریخ میں فوجی حکمرانوں کے اقتدار اور ناتواں جمہوری حکومتوں کے مابین آنکھ مچولی نے پاکستان کی عوام کے سیاسی مزاج کو بھی پختہ نہیں ہونے دیا۔ہم نے دیکھا کہ نوے کی دہائی میں عوام نے جس وزیراعظم کو دوتہائی اکثریت سے نجات دہندہ کے طورپر منتخب کیا اسی وزیراعظم کے معزول ہونے پر مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔اس کے بعد جس فوجی آمر کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہا گیا اسی کی مستعفی ہونے کے لیے سول سوسائٹی اور وکلا نے ایک بھرپور اور بے مثال تحریک چلائی ۔کیا اس متضاد سیاسی رویے پر عوام کو مورد الزام ٹھہرایا جانا چاہیے۔یہ ایک ایسا سوال ہے کہ جس کا جواب تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔عوام کے اس عمومی سیاسی رویے کو سمجھنے کے لیے بہت سے دیگر معاملات جس میں خاص طورپر معیشت شامل ہے کو دیکھنا پڑے گا۔بھوک کے ہاتھوں پریشان یہ بائیس کروڑ بھیڑیں بنیادی طورپر سبز چراگاہوں اور میٹھے پانی کی تلاش میں در بدر سرگرداں ہیں۔ گڈریے کے روپ میں جس نے جس طرف ریوڑ کو ہانک دیا اس طرف چل پڑے کہ شائد پیٹ بھرنے کو سبز چارہ مل جائے۔المیہ یہ کہ اس بدنصیب ریوڑ کا ہر بار گڈریا توتبدیل ہوتا رہا مگر قسمت تبدیل نا ہوسکی۔
برٹش ایمپائر کے زوال سے دنیا میں جو نئے ممالک وجود میں آئے پاکستان کا شمار بھی ان ممالک میں ہوتا ہے۔اور کم وبیش پاکستان کا حال بھی اپنے ساتھ آزاد ہونےو الے ممالک سے مختلف نہیں ہے۔تھوڑے بہت فرق کے ساتھ سب ممالک کا ایک ہی جیسے حالات ہیں۔بنیادی نکتہ یہ کہ ان ممالک میں عوام کو بہتر معیار زندگی حاصل نہیں ہوسکا۔کمزور معیشتیں ، زوال پذیر سرکاری ادارے، فکری انحطاط،قومی اجتماعی سوچ کا فقدان،بجائے قوم بننے کے رنگ، نسل، زبان، مذہب اور مسلک کی بنیاد پر تقسیم شدہ معاشرہ ، اوسط درجے کی سیاسی قیادت یعنی کم وبیش سب کے مسائل ایک ہی جیسے ہیں۔پاکستان ہی کی مثال لے لیں جہاں پر سیاسی جماعتیں اور سیاسی اشرافیہ جمہوریت کی گردان میں مصروف رہتی ہے مگر ان سیاسی جمہوری جماعتوں میں بنیادی طورپر آمریت رائج ہے۔شخصیات کے گرد گھومتی سیاسی جماعتیں اور ان کے نظریات کا پرچار ان جماعتوں کے کارکنوں پر لازم ہے۔اپنی جماعت کے سربراہ سے اختلاف رائے کو پارٹی سے غداری کے طورپردیکھا جاتا ہے۔
یہ بھی توایک المیہ ہے کہ پاکستان کی سیاست کو کسی طورپر بھی مخلص طرز حکمرانی نصیب نہیں ہوسکی ۔فوجی آمرآئے اپنے دور اقتدار میں جمہوری طرز اپنانے کی کوشش کی اور اگرجمہوری حکمران آئے تو انہوں نے فوجی آمروں کی طرح طاقت کے ارتکاز کی کوشش کی۔اور فوجی آمر کے ہر اس طرز عمل اور ہتھکنڈے کو اپنانے کی کوشش کی جس کی بطور اپوزیشن وہ بھرپور مخالفت کرتی رہی اور اس کو عوام دشمنی سے تعبیر کرتی رہی۔جمہوری ادوار میں شخصی حکومتیں قائم رہیں ۔جمہوری طرز حکومت میں شاہانہ طور اطوراپنائے گئے جسے چاہا نواز دیا جسے چاہا دیوار کے ساتھ لگا دیاگیا۔اقتدار کے ایوانوں میں سیاسی میوزیکل چیئر کے اس واہیات کھیل میں واحد حصول شخصی طورپر طاقت کا حصول رہا اور عوام کی فلاح وبہبود کے بنیادی اصول کو پس پشت ڈال دیاگیا۔
ایک لمحے کے لیے سوچیں کہ بطور قوم ہمارا قومی بیانیہ کیا ہے۔اس سوال کے کئی جواب آپ کے دماغ میں آئیں گے۔اس کی وجہ یہ کہ بطورقوم ہمارا قومی بیانیہ تشکیل ہی نہیں ہوسکا۔کبھی ہم لادین سرخ قوت کو گرم پانیوں سے دور رکھنے کے لیے جدوجہد کرتے رہے تو کبھی دہشت گردی کے خلاف کسی اور کی مسلط کردہ جنگ میں اپنے ہمسائیوں کے ساتھ ہراول لشکری کا کردار ادا کرتے رہے۔اور اگر کبھی رونا بھی رویا تو اس بات کا کہ ہم اتحادی ہیں ہمیں مال غنیمت میں سے اپنا مقرر کردہ حصہ نہیں مل رہا۔ظلم تو یہ ہواکہ کچھ مدت بعد جب خطے کا معروض تبدیل ہوا تو ابدی دشمن کو ملک کے وسیع تر قومی مفاد میں گرم پانیوں تک رسائی کی باقاعدہ دعوت دی گئی۔
تھوڑی دیر کو سوچیں کہ گزشتہ سات دہائیوں کی جدوجہد کے بعد ہم نے اب تک کیا حاصل کیا۔ان سات دہائیوں میں ملک دو ٹکڑے ہوگیا۔مشرقی اور مغربی سرحدیں باڑ لگانے کے باوجود غیر محفوظ ہیں۔معاشی طورپر آج بھی گرداب میں پھنسے ہوئے ہیں۔قرضوں میں دبی معیشت اب آخری ہچکیاں لے رہی ہے۔معاشی ابتری نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کردی ہے ۔آج بھی کروڑوں لوگ پینے کے صاف پانی ، دو وقت کے کھانے اور بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہیں۔کروڑوں بے روزگار نوجوانوں کی فرسٹریشن کا شکار ایک فوج موجود ہے جس کی الجھنیں آے روز بڑھ رہی ہیں۔بجائے قوم بننے کے رنگ نسل اور زبان کی بنیاد پر روز بروز تقسیم کا عمل جاری ہے ۔لمحہ فکریہ ہے کہ ہم جمع نہیں ہورہے ہم تقسیم ہورہے ہیں۔اور کس قدر تقسیم ہوں گے بالآخر تقسیم ہوتے ہوتے جواب صفر آنا ہے۔
ریوڑ اپنے گڈریے سے جدا ہوجائے تو بھٹک جاتا ہے۔اس کو یا تو منزل نہیں ملتی یا پھر جنگل کے بھیڑئیے ایک ایک کرکے کھاجاتے ہیں۔بے سمت اور رہنما کے بغیر ریوڑ کو سمت دینے کی ضرورت ہے۔ملک کی سیاسی اشرافیہ کو ٹھیک ہونا ہوگا۔مل بیٹھ کر ایک قومی لائحہ عمل تشکیل دینا ہوگا۔قومی زندگی گذارنے کے لیے جو دستاویز مرتب کی گئی ہے اس دستاویز کو گڈریا تسلیم کرکے اس کی اہمیت اور تقدس کو تسلیم کرنا پڑے گا اس گڈریے کی دی گئی ہدایات کے مطابق زندگی گذارنی ہوگی۔ہمیں بالآخر اس گڈریے پر اعتماد کرنا ہی پڑے گا کیونکہ جب ریوڑ میں کوئی بھیڑ زخمی ہوتی ہے اور چلنے کے قابل نہیں رہتی تو یہ گڈریا ہی ہوتا ہے جو اس بھیڑ کو کندھے پر اٹھا کر ریوڑ کے ساتھ چلتا ہے اور منزل مقصود پرپہنچ کر اس کا علاج کرتا ہے۔یہ کبھی نہیں ہوا کہ ریوڑ کی کوئی بھیڑ زخمی ہوئی ہو تو گڈریا اس کو زخمی حالت میں چھوڑ کر آگے بڑھ جائے۔اور جو ایسا کرتا ہے تو جان لیں کہ وہ گڈریا نہیں ہے۔طے کرلیں کہ گڈریا جدھر کو ہانک دے اس طرف چل پڑنا ہے کیونکہ گڈریے کی نشاندہی پر آنے والی چراگاہ سے سب بھیڑوں کو یکساں طورپر سبز گھاس اور پانی یکساں طورپر میسر ہوگا۔سب یکساں طورپر محفوظ ہوں گے۔سب کو ایک جیسا موسم اور ایک جیسے ہی حالات میسر ہوں گے۔
برائے رابطہ 03334429707
وٹس ایپ 03352644777

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

علی قاسم گیلانی کی ضمانت منظور، 16 ایم پی او کے تحت مقدمہ بھی خارج

لاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ نے پیپلزپارٹی کے رہنما یوسف گیلانی کے صاحبزادے علی قاسم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے