منگل , 24 نومبر 2020
ensdur

ایک ہی سکے کے دو رخ | لاریب مشتاق

تحریر: لاریب مشتاق

میں ہمیشہ سے یہی کہتی ہوں کہ سیاست ایک کہانی ہے اور سیاستدان اس کہانی کے کردار. صرف چہرے بدلتے ہیں کردار ایک ہی جیسا  ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تمام کردار ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں. ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہیں. تو پھر میرا ذہن یہ سوال کرتا ہے کہ جب ایک حمام میں سب ننگے ہیں تو کون، کسے، کب، کیسے اور کیوں سزا دے گا؟

اگر ن لیگ اور پیپلزپارٹی کرپٹ ہے تو دودھ کے دھلے ہوئے کوئی تحریک انصاف کے ٹائیگر بھی نہیں ہیں. ایک میڈیا کے سامنے بیٹھ کر دوسرے پر کیچڑ اچھالتا ہے تو دوسرا اگلے ہی لمحےمیڈیا کو اس کے کرتوتوں کے بارے میں آگاہ کر رہا ہوتا ہے. عزیر بلوچ کا ہی معاملہ دیکھ لیں. پیپلزپارٹی والے عزیر بلوچ کو ماننے سے ہی انکاری ہیں اور اگر تحریک انصاف والے ان پر الزام لگائیں تو اگلے ہی لمحے ہی پیپلزپارٹی والے تحریک انصاف کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں. کوئی بھی معاملہ اٹھا کر دیکھ لیں میرے ملک کے سیاستدانوں کا یہی معمول ہے “اگر ہم نے کھایا ہے تو تم بھی تو کھا ہی رہے ہو”.
مجھے سمجھ نہیں آتی کہ سب کھا رہے ہیں اس ملک کو مل کر تو پھر واویلا کس بات کا ہے؟
چپ کر کے خود بھی کھاءو اور دوسروں کو بھی کھانے دو عوام کو بے وقوف بنانا ضروری ہے کیا؟
تحریک انصاف کے آدھے سے زیادہ لوگ اس وقت کرپٹ ہیں جہانگیر ترین، علیم خان، اعظم سواتی، حلیم عادل شیخ، محمود خان اچکزئی، اجمل وزیر، سبطین خان، پرویز خٹک، خسرو بختیار، غلام سرور خان، رزاق داءود، ندیم بابر، عامر کیانی، نور الحق قادری. سب کرپٹ ہیں. ان میں سے کءی اپنے عہدے سے فارغ ہوئے ہیں اور کءی ابھی تک کرسی پر براجمان ہیں.
ان سب پر وہی الزام ہیں جو ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے لوگوں پر ہے.
کسی نے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا، کوئی بی آر ٹی/ میٹرو میں کرپٹ نکلا، کوئی آڈیوٹیپ لیک ہونے کی وجہ سے عہدے سے فارغ ہوا، کسی نے ادویات پر کرپشن کی، کوئی چینی چور نکلا، کسی نے پیٹرول پر کرپشن، کسی نے  مالم جبہ میں اپنا ہاتھ صاف کیا، جب کرپشن ایک نوعیت کی کرنی ہے تو پھر چینخ و پکار اور واویلا کیوں؟
عمران خان کہتے تھے کہ میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا مگر وہ اب اپنی ہی پارٹی کے کارکنوں کی کرپشن پر خاموشی اختیار کر چکے ہیں اور لگ ایسے ہی  رہا ہے کہ وہ سب کچھ چھوڑ چکے ہیں.
یہ زرداریوں اور شریفوں کا ٹولہ ہے جو آتا ہے اور عوام کو بیوقوف بنا تا ہے اور چلا جاتا ہے ان سب نے باریاں لی ہوئی ہیں ضرورت کے وقت کسی کو بھی اپنا باپ بنا لینا اور جب کام نکل جائے تو میڈیا  پر آکر الزام تراشی کرنا.
سیاست اور حکمرانی کا پہلا اصول یہ ہے کہ انسان بننا.. حیوان کبھی بھی حکمران اور سیاستدان نہیں ہو سکتا.
یہ سب انسان نما حیوان ہیں جو اندر اندر دیمک کی طرح ہمارے ملک کو کھا رہے ہیں اور ہمیں پتہ بھی نہیں چل رہا.
عمران خان نے تبدیلی کا نعرہ لگایا تھا یہ کیسی تبدیلی ہے کردار وہی ہیں صرف چہرے بدلے ہیں ایسی تبدیلی مجھے، آپ کو، ہم سب کو نہیں چاہئے.
عمران خان بڑے بڑے ممالک کی مثال دیتے ہیں تو انہیں یہ بھی پتا ہوگا کہ چائنہ میں کرپشن کرنے پر
سزائے موت دی جاتی ہے.
اگر حقیقی تبدیلی لانی ہے تو کردار بھی بدلیں، چہرے بھی بدلیں اور کارنامے بھی بدلیں یہ ہوتی ہے اصل تبدیلی اور یہی تبدیلی ہمیں چاہیے. اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین.

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

اینٹی انکروچمنٹ میں تعینات خاتون اہلکار کا مرد اہلکاروں پر ہراسانی کا الزام

کراچی میں محکمہ اینٹی انکروچمنٹ میں تعینات خاتون اہلکار نے ادارے کے اکاؤنٹینٹ اور دیگر …

ایک تبصرہ

  1. پچھلے چور تھے، لٹیرے تھے.. اور یہ مہا لٹیرے، چور ،جھوٹے اور منافق ہیں کوئی شک 🤔🤔🤔🤔🤔🤔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے