منگل , 4 اگست 2020
ensdur
اہم خبریں

ایف بی آر حکام “کسی سے ہدایات” لے رہے ہیں: اہلیہ جسٹس قاضی فائز

جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ سرینا عیسیٰ نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر ) کی آزادی اور خودمختاری پر ایک بار بھی سوالات اٹھا دیے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کی جانب سے ایف بی آر کو لکھے گئے دوسرے خط میں سرینا عیسیٰ نے کہا ہے کہ جس شخص نے اے آر یو کے ساتھ مل کر غیر قانونی طور پر مجھ سے متعلق معلومات اکٹھا کیں اسی شخص کو میرے کیس میں اِنکم ٹیکس آفیسر مقرر کر دیا گیا ہے۔

سرینا عیسیٰ کا کہنا تھا کہ 9 جولائی2020 سے ان سوالات کا جواب مانگ رہی ہوں مگر  ایف بی آر حکام میرے پوچھے گئے 12سوالات کا جواب دینے سے قاصر ہیں۔

انہوں نے شکایت کی کہ اپنے ٹیکس ریٹرنس کی کاپی کا مطالبہ کیا تھا جو فراہم نہیں کیے جا رہے، ریحان نقوی جنہوں نے میرے ٹیکس ریٹرن فائیل کیے تھے وہ اب اس دنیا میں نہیں رہے مگر میں 21 جولائی کو خود دوبارہ ایف بی آر میں پیش ہوئی اور جواب الجواب جمع کرایا۔

سرینا عیسیٰ نے کہا کہ ایف بی آر کے بھیجے گئے نوٹسز کی تحریروں میں واضح فرق موجود ہے تاہم دونوں پر دستخط کمشنر ایف بی آر ذوالفقار احمد کے ہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ بات واضع ہو چکی ہے کہ ایف بی آر حکام کسی سے ہدایات لے رہے ہیں۔

واضح رہےکہ سپریم کورٹ نے 19 جون 2020 کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کالعدم قرار دیا تھا جو 10 رکنی لارجر بینچ کا متفقہ فیصلہ تھا تاہم بینچ کے 7 ججز نے جسٹس قاضی کی اہلیہ کے ٹیکس معاملات ایف بی آر کو بھیجنے کا حکم دیا۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

پی ٹی آئی سوشل میڈیا ٹیم ہیڈ عمران غزالی وزارت اطلاعات کے ‘ڈیجیٹل میڈیا ونگ’ کے جنرل مینجر مقرر

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت کے میرٹ پر تعیناتیوں کے دعوے اقربا پروری …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے