منگل , 4 اگست 2020
ensdur
اہم خبریں

ایف اے ٹی ایف کا دباؤ اور نیب | افضال چوہدری ملیرا 

تحریر: افضال چوہدری ملیرا
ایف اے ٹی ایف یا پھر فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ایک بین الحکومتی ادارہ ہے جسے 1989ء میں جی سیون ممالک نے ابتدائی طور پر منی لانڈرنگ روکنے کے لیے بنایا تاکہ ملک سے لوٹے گئے سرمایہ کی غیر قانونی طور پر دوسرے ممالک میں ترسیل کو روکا جا سکے لیکن نائن الیون کے بعد اس میں دہشت گردی فنانسنگ کو بھی شامل کر لیا گیا کیونکہ مالی معاونت کے بغیر دہشت گردی نہیں ہو سکتی دشمن ممالک ایک دوسرے کے ملک میں موجود دہشت گردوں اور کلعدم تنظیموں کی مالی معاونت کرتے ہیں اور یوں وہ اپنے ناپاک عزائم میں سرخرو ہو پاتے ہیں اور یہ سب کرنے کے لئے پانی کی طرح پیسہ بہایا جاتا ہے جیسا کہ آپ پاکستان میں موجود کالعدم تنظیم بی ایل اے کو ہی دیکھ لیں جس کی مالی معاونت میں اس قدر اضافہ ہو چکا ہے کہ اس کے افراد اپنی ذاتی گاڑیاں خریدنے لگے ہیں۔
ایف اے ٹی ایف  نے تین لسٹیں تشکیل دی ہوئی ہے جن ممالک کو وائٹ لسٹ میں رکھا گیا ہے وہ بالکل محفوظ ہیں اور ٹھیک طریقے سے کام کر رہے ہیں جو ممالک گرے لسٹ میں ہیں ان کو مختلف ٹاسک اور تجاویز دی جاتی ہیں کہ آپ نے اپنے اداروں کو کیسے مضبوط کرنا ہے اور اس طرح کے قانون پاس کر کے آپ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی فنانسنگ پر قابو پا سکتے ہیں جب کہ جو ممالک منی لانڈرنگ اور دہشت گردی فنانسنگ کو جان بوجھ کر ختم نہیں کرنا چاہتے یا پھر نہیں کر پاتے انہیں پھر بلیک لسٹ میں ڈال دیا جاتا ہے ابھی تک دو ممالک شمالی کوریا اور ایران بلیک لسٹ میں ہیں جس کے بعد ان پر مختلف تجارتی اور سفری پابندیاں وغیرہ لگائی گئی ہیں اور لوگوں کی ان ممالک میں انویسٹمنٹ بھی نہ ہونے کے برابر ہے
اب جہاں تک بات ملک خداداد پاکستان کی ہے تو ماضی میں 2012ء سے 2015ء تک پاکستان گرے لسٹ میں رہا اور ایک بار پھر سے جون 2018ء میں پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کر لیا گیا جس کے بعد پاکستان کو مختلف ٹاسک دیے گئے جن میں کچھ حد تک پیشرفت ہوئی اور اس پیشرفت نے پاکستان کو بلیک لسٹ ہونے سے بچائے رکھا لیکن اس میں اتنی سکت نہیں تھی کہ پاکستان گرے لسٹ سے نکل کر وائٹ لسٹ والے ممالک کی فہرست کا حصہ بن جائے۔
اب اگست کے پہلے ہفتے تک پاکستان کو کچھ معاملات پر قانون سازی کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے گیارہ معاملات میں سے چار پر فوری طور پر  قانون سازی کرنی ہے جن میں سے ایک بل اسمبلی میں  لایا جا چکا ہے اور باقی تین بل بھی جلد لائے جا رہے ہیں یہ قانون سازیاں ایف اے ٹی ایف کی علاقائی تنظیم ایشیاء پیسیفک گروپ کے پاس جائیں گی اور پھر یہ علاقائی تنظیم ایک رپورٹ تیار کرے گی جو ایف اے ٹی ایف کو بھیجی جائے گی اس کے بعد ایف اے ٹی ایف حتمی فیصلہ کرے گی کہ پاکستان کو گرے لسٹ میں ہی رکھنا ہے یا یہ اقدامات پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال کر وائٹ لسٹ میں شامل کرنے کے لئے کافی ہیں لیکن اگر پاکستان بد قسمتی سے ان ٹاسکس کو پورا نہیں کر پاتا تو پھر اسے بھی شمالی کوریا اور ایران کی طرح بلیک لسٹ کر دیا جائے گا اور مختلف پابندیاں عائد کی جائیں گی جس کا  بھارت ایک عرصے سے خواہشمند ہے اور ہر ممکن کوشش کر رہا ہے کہ کسی طرح ایک بار پاکستان اس فہرست کا حصّہ بن جائے بلیک لسٹ ہونے کے نتائج کا اندازہ ہم ایران کی موجودہ صورت حال سے لگا سکتے ہیں۔
چونکہ یہ ملکی سلامتی کا معاملہ تھا تو اس قانون سازی کے لئے حکومت نے اپوزیشن سے رجوع کیا لیکن اپوزیشن نے حیران کن طور پر ملکی مفادات کو ذاتی مفادات پر فوقیت دی اور کہا کہ اس قانون سازی کے ساتھ ساتھ نیب قوانین میں بھی کچھ ترامیم کریں اپوزیشن کے اس اسرار پر ایک کمیٹی بنی اور سب سے زیادہ حیران کن اور مضحکہ خیز بات یہ تھی کہ کمیٹی میں اپوزیشن کے جو اراکین شامل تھے ان میں سے بیشتر پر نیب کیسز چل رہے ہیں مطلب یہ کہ بلی کو دودھ کی رکھوالی پر بٹھا دیا گیا اپوزیشن نے 35 تجاویز حکومت کے سامنے رکھیں جن میں سے چند میں بیان کرتا ہوں جن سے آپ کو ان کے اصل مقصد اور نیت کا اندازہ ہو جائے گا چیئرمین نیب کی مدت ملازمت کم کر دیں، منی لانڈرنگ کو نیب نہ دیکھے، ایک ارب سے زیادہ کی کرپشن ہو تو نیب پکڑے، سرکاری عہدے پر فائز لوگوں پر کرپشن ثابت ہونے کی صورت میں انہیں دس سال کی بجائے پانچ سال کے لیے نااہل کیا جائے، سزا سے پہلے گرفتاری نہ ہو وغیرہ وغیرہ اپوزیشن کی ان تجاویز کے بعد حکومت اور اپوزیشن میں ڈیڈ لاک پیدا ہو گیا ہے اور حکومت نے  اپوزیشن کی حمایت کے بغیر بل پارلیمنٹ میں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔
ان شرائط سے آپ لوگوں کو اپوزیشن کی بدنیتی کا اندازہ تو ہو گیا ہو گا کیونکہ یہ شرائط اپوزیشن کی نیت کا منہ بولتا ثبوت ہیں اپوزیشن چاہتی ہے کہ نیب منی لانڈرنگ کو نہیں دیکھے اگر نیب منی لانڈرنگ کو نہیں دیکھے گا تو پھر کروڑوں روپے خرچ کرنے کا مقصد کیا محض ایک نمائشی اور بے اختیار ادارہ بنانا تھا؟ اصل میں اپوزیشن اراکین نیب کو ایک معزور اور مفلوج ادارہ بنانا چاہتے ہیں اور وہ ننانوے کروڑ روپے کی کرپشن کی کھلی آزادی گرفتاری سے چھٹکارا اور نااہل افراد کو اگلے الیکشن تک اہل کروانا چاہتے ہیں دیکھنا یہ ہو گا کہ انہیں پاکستان کی سلامتی زیادہ عزیز ہے یا پھر کرپٹ لیڈران کی کیونکہ اگر پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکل جاتا ہے تو یہ صرف تحریک انصاف کی حکومت اور اس کے اتحادیوں کی نہیں بلکہ اپوزیشن سمیت پورے ملک کی جیت ہو گی اور اس کا کریڈٹ بھی انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی طور پر تمام سیاسی جماعتوں کو جائے گا میں امید کرتا ہوں کہ اپوزیشن اپنے ذاتی مفادات پس پشت رکھتے ہوئے پاکستان کے سر پر لٹکتی بدنامی کی اس تلوار سے چھٹکارا حاصل کرنے میں حکومت کی مدد کرے گی۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

پی ٹی آئی سوشل میڈیا ٹیم ہیڈ عمران غزالی وزارت اطلاعات کے ‘ڈیجیٹل میڈیا ونگ’ کے جنرل مینجر مقرر

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت کے میرٹ پر تعیناتیوں کے دعوے اقربا پروری …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے