منگل , 19 جنوری 2021
ensdur

ایسڈ…. | سعدیہ معظم

تحریر: سعدیہ معظم
ارے موئی جب دیکھو آئینے کے سامنے کھڑی رہتی ہے یہاں آ کتھا نکال لا ہنڈھیا سے ۔۔۔اماں جان سروتے سے چھالیہ کترتے ہوئے عائشہ کو دوچار صلاواتوں کے ساتھ پکارتی ۔۔۔یہ روز کا ہی معمول تھا عائشہ ناشتے کے برتن دھونے کے بعد کمروں کی جھاڑو اور پھر برآمدے اور آنگن کی دھلائی کرتی ۔۔۔آنگن میں لگے آم کے پیڑ کے عین نیچے اماں جان کی چارپائی بچھی رہتی سرہانے پاندان رکھا رہتا ۔۔۔۔عائشہ گھر کے کام نمٹاتی برآمدے میں اپنا ٹیپ ریکارڑر اونچی آواز میں چلالیتی ۔۔۔اماں جان کو ناگوار تو بہت گزرتا لیکن محبت کے مارے چپ رہتی۔
گھر میں کل تین افراد رہتے تھے عائشہ اماں جان یعنی عائشہ کی دادی اور عائشہ کے والد جوصبح کام پہ جاتے تو شام ہی کی خبر لیتے ۔
اماں جان اتنی ضصیف نا تھی گھر کے کئی کام بھی آرام سے کرلیتی تھیں لیکن انہیں اپنی ضعیفی سے پہلے عائشہ کے ہاتھ پیلے کرنے کی فکر سوار تھی ۔۔عائشہ کی عمر یہی کوئی سترہ اٹھارہ سال رہی ہوگی لیکن اماں جان کو وہ بہت بڑی لگتی تھی انہوں نے اس کے رشتے کے لئے کئی میرج بیورو کی خواتین کو بھی معاوضہ دے رکھا تھا ۔۔
ان سب باتوں سے بے فکر میڑک کرنے کو کوئی بڑا معرکہ سر کرنا سمجھنے والی عائشہ اپنی اٹھکیلیوں سے گھر میں ہروقت رونق لگا کے رکھتی ۔معصوم موم کی گڑیا جیسی لگتی تھی کالے سیاہ بالوں کی بل کھاتی چٹیا کمر پر لہراتی گھر بھر کے کاموں سے فارغ ہوکر آنگن میں رکھی ٹنکی سے اپنا منہ ہاتھ مانجھنے کے بعد برآمدے میں لگے آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر اپنا ہار سنگھار کرنا اس کا پسندیدہ مشغلہ تھا ۔اپنی بڑی بڑی آنکھوں میں کاجل کی موٹی موٹی لکیریں کھیچنے کے بعد اپنے بالوں کو سنوارنے میں اتنا وقت لگاتی کہ آنگن میں بیٹھی اماں جان کی جان جلتی رہتی ۔۔۔ناجانے پہلے زمانے کی عورتیں لڑکیوں کو زیادہ دیر آئینے کے سامنے کھڑے ہونے نہی دیتی تھی ۔شائدوہ یہ چاہتی تھیں کہ لڑکیاں اپنے حسن کی قدروقیمت ناجان سکیں جس دن جان پائیں اس دن سے ان کا پرائے گھر میں گزارا مشکل ہوگا ۔۔۔آہ کیا منطق تھی ایک حد تک درست بھی تھی یہ ثابت کیا عائشہ نے۔۔۔۔
اماں جان کی کوششوں سے عائشہ اپنے گھر کی ہوگئی شوہر کم تعلیم یافتہ تھا اتنی خاص نوکری بھی نا تھی ہاں شام کو اپنے ابا کی کریانہ کی دکان پہ بیٹھتا تھا مکان بھی ابا کا تھا اکلوتا لڑکا ہونے کی وجہ سے اپنی امی بہنوں کاچہیتہ ۔اماں جان خوش تھیں کہ عائشہ اپنے سسرال سے بنا کررکھتی ہے سب کچھ اچھا چل رہا تھا شروع کے دوسالوں میں ایک بیٹا ایک بیٹی عائشہ کی گود میں کھیل رہے تھے ۔عائشہ اپنی نندوں کو بہنیں سمجھتے ہوئے بہت محبت سے رہتی تھی ان کے ساتھ ،ساس بھی ساس نہی ماں لگتی تھی اسے ۔۔۔
کریانہ اسٹور میں ہر طرح کے لوگ آتے ہیں انہی میں ایک خاتون بھی تھیں ۔اسٹور کے سامنے گاڑی روکتی اونچی ہیل پہنے بھینی بھینی خوشبو لگائے ، نکلتی عمر کی وہ خاتون چست سا لباس زیب تن کئے ہوئے دوچار چیزیں خریدتیں اور واپس ہولیتیں ۔روز کا یہی معمول بن گیا ۔اب کچھ بات چیت بھی ہونے لگی محترمہ نئی نئی محلے میں شفٹ ہوئیں تھیں آفس سے واپسی پر گھر کاسودا لینے رکتی تھیں گھر پر بوڑھی ماں ساتھ رہتی تھیں شادی ابھی نہی ہوئی تھی۔۔۔مرد بھی عجیب شے ہے گھر کی مرغی دال برابر لگنے لگتی ہے ۔۔۔یہی عائشہ کے ساتھ ہوا
شوہر کی دلچسپی اس پری وش کی جانب بڑھنے لگی تو عائشہ بہت بری لگنے لگی وہ جو کبھی کسی کام کو منع نہی کرتی تھی اسی کے کاموں میں کیڑے نکالے جانے لگے ماں بہنیں بھی حیران تھیں ۔۔۔کہ ایسا کیا ہوگیا کہ عائشہ کو اس رویے کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔کوئی یہ سمجھ نہی سکا کہ ایک عورت ہی ہے جو اس کے گھر میں آگ لگا رہی ہے ۔
شادی کا لارا دے دے کر وہ پری وش اپنے گھر کا پورا سودا اسی دکان سے مفت میں لینے لگی ۔اپنی اداؤں سے ایک کھیرا کھینچ کر لبھاتی لچاتی باتیں کرکے اس کا دل بہلاتی تھی ۔شادی کرنے کی ایسی شرط رکھی جسے وہ سمجھی یہ دو بچوں کا باپ ہے کہاں اپنے بیوی بچو کو چھوڑے گا اور وہ حسب خواہش اس کے ساتھ کھیلتی رہے گی ۔
یہ اسکی سوچ تھی عائشہ کے شوہر نے طلاق کا فیصلہ عائشہ کے سامنے رکھ دیا اور دونوں بچو سمیت گھر سے نکل جانے کا حکم صادر کردیا ۔ماں بہنیں اس کا منہ تکتی رہ گئیں یا الہی یہ کیا ماجرا ہے کسی سوال کا کوئی جواب دئیے بغیر وہ گھر سے نکل گیا ۔
عائشہ پتھرائی آنکھوں سے ایک ایک کا چہرہ دیکھتی رہی ۔۔۔وجود اندر سے جیسے کوئی تیز دھار آرے سے کاٹ رہا ہو۔۔۔۔لیکن آواز گلے میں گھٹ گئی تھی وہ چیخ چیخ کے رونا چاہتی تھی پر سکتہ طاری تھا۔۔۔اسکا گھر یک دم ایسے ٹوٹا مانو جیسے کوئی کانچ کا کلاس ہاتھ سے چھوڑ کر ریزہ ریزہ ہوگیا ہو۔۔۔وہ دوچار دن لوٹ کے نہیں آیا ۔۔اور طلاق کے کاغزات بھجوادئیے ۔۔۔آخری آس بھی ٹوٹ گئی۔سسرال بھر کی چھیتی شوہر کے دل سے اتر چکی تھی تو پھر کیسے رہ پاتی ۔۔۔ساس نے اماں جان کو بلالیا جو عائشہ اس کے بچے اور ضرورت کاسامان سمیٹ کے گھر لے آئی ۔
وقت کا پہیا چلتا رہا سال بھر بعد وہ آہستہ آہستہ زندگی کی طرف لوٹنے لگی ۔گھر کے کام کرتے آتے جاتے برآمدے کا لگا آئینہ اسے اپنی طرف متوجہ کرتا رہتا ۔وہ شروع میں اس آئینے سے کتراتی رہی دو بچو کی ماں اب اپنے خدوخال سے منکر ہوئی بیٹھی تھی ۔نگاہ بھر کے اپنا آپ دیکھتی اور جھڑک دیتی ۔
اماں جان سے اس کی بے کسی دیکھی نا جاتی اب کتھا پکا کے دیتی تو خاموش رہتی پہلے تو کبھی زیادہ پکانے پتلا رہ جانے پہ اس کی خوب گت منادیتی تھی ۔اس کا ہر وقت کااداس چہرہ دیکھ کر جانے کیا سوجھی کہ اپنے پڑوس کے اسکول میں اس کی نوکری لگانے کی ڈھان لی اسکول کے مالک کی والدہ اماں جان کی اچھی دوست تھیں ۔ان سے بات کی وہ بھلا اپنی سہیلی کی بات کیونکر ڈالتی اپنے بیٹے سے کہ دیا اب چونکہ عائشہ کی تعلیم اتنی ناتھی کہ استانی لگتی تو اسے ریسیپشن پہ بیٹھا دیا گیا ۔
روزانہ کے معمولات میں تبدیلی آئی تو آہستہ آہستہ اس کا دھیان اپنی اجڑی گھرستی سے باہر آنے لگا ۔ایک اچھے ماحول میں کام کرتے سال گزر گیا ۔
پریشانیوں کا محور ہٹا تو چہرہ اپنی چمک لوٹانے لگا حسین عورت تھی ،گھر کے ماحول سے باہر آئی تو جینے کا سلیقہ بھی آنے لگا ۔
کوئی دیکھ کر مان نہی سکتا تھا کہ عائشہ دو بچوں کی ماں ہے ۔لمبے بال اونچا قد بڑی بڑی ہرنی جیسی آنکھیں قسمت اچھی نہی پائی تھی لیکن حسن دل کھول کر دیا تھا رب نے ۔
اسکول کے مینجر اس سے بہت مرعوب تھے ایک دن اپنے کمرے میں بلا کر شادی کا عندیہ دے ڈالا ۔عائشہ نے حسب روایت اپنی اماں جان سے بات کرنے کو کہا۔
پلک چھپکتے میں سارے معاملات طے پاتے گئے ۔دونوں طرف شادی کی تیاریاں زور وشور سے شروع ہوگئیں ۔
عائشہ بہت خوش تھی اب تو اسکول کی جاب بھی چھوڑدی تھی روز بازار کے چکر لگتے تھے ۔برآمدے میں لگا آئینہ اسے یہ جتا تا تھا کہ وہ بہت خوب صورت اسے اپنی خوب صورتی کو نگھارنا چاہیے ۔
یونہی ایک دن صحن برآمدہ دھوکر آئینے کے سامنے بیٹھی اپنے بالوں کی چٹیا گوندھ رہی تھی کہ دروازے کی گھنٹی بجی ۔گلے میں دوپٹہ ڈالتے ہوئے وہ دروازے کی اور بڑھی ۔ایک کواڑ کھول کر ابھی پوچھنے کے لئے منہ باہر نکالا ہی تھا کہ تیزاب سے بھرا کنستراس کے اوپر پھینک دیا گیا ۔وہ تیزاب سے جلتی چلی گئی کرب ناک چیخیں سن کر اماں جان بھاگتی اس کی طرف دوڑی وہ انکی گود میں گر کر تڑپتی رہی بے ہوش ہونے سے پہلے صرف اتنا بول پائی “اس نے چھوڑ دیا تھا ۔۔۔پھر کیوں تیزاب پھیکا”۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

پی ڈی ایم کا پی ٹی آئی فنڈنگ کیس کے فیصلے میں تاخیر پر الیکشن کمیشن کے سامنے بھرپور پاور شو

پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے میں تاخیر پر پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے