منگل , 19 جنوری 2021
ensdur

اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے | ملک سراج احمد

تحریر: ملک سراج احمد

کورونا زدہ 2020 اپنے اختتام کو پہنچا اور نئے سال کی ابتدا ہوئی۔نئے سال کے آغاز پر کہیں سنکھ بجا ، تو کہیں کسی برہمن نے اشلوک پڑھتے ہوے مندر کی گھنٹی بجائی تو کہیں کسی نے سجدے میں پیشانی کو زمین پر ٹیک دیا۔دعاوں کے لیے لب ہلے اور مناجات کی خاطر ہاتھ اٹھے۔مرزا نوشہ نے خبر دی کہ اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے ۔نیا سال شروع ہوا تو دیواروں پر لگے کلینڈر تبدیل ہوئے ، مہینہ بدلا ، تاریخ بدلی مگر نہیں بدلے تو عام آدمی کے حالات نہیں بدلے۔غربت ، مہنگای ، بے روزگاری کے ہمالیہ تلے سسکتے عام آدمی کے لیئے وقت گویا تھم ساگیا ہے۔

گزشتہ سال کے اختتام پر بھی لوگ کورونا سے مررہے تھے اور نئے سال کے آغاز پر باوجود اس کے کہ کورونا کی ویکسین ایجاد ہوچکی ہے کورونا انسانی زندگیاں نگل رہاہے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ کورونا سے بچاو کی ویکسین بھی ان ہی کے حصہ میں پہلے آئی جن کے لیئے آسمان سے من وسلویٰ اترتا رہا۔جبکہ باقی ماندہ اقوام منتظر ہیں کہ کب ان کی باری آتی ہے۔تاہم خوش آئند بات یہ ہے کہ نئے سال میں کورونا سے بچاو کی ویکسین دستیاب ہے۔

وطن عزیز میں بھی نئے سال کا آغاز ہوچکا ہے۔نئے سال کے ابتدائی دو ہفتوں کا اگر بغور جائزہ لیں تو اسلام آباد میں اسامہ ستی کا قتل ، مچھ میں گیارہ کان کنوں کا بہیمانہ قتل ،پورے ملک میں بجلی کا بریک ڈاون اور براڈ شیٹ اسکینڈل سامنے آیا ہے ۔براڈ شیٹ اسکینڈل کے تحت لندن ہائیکورٹ میں کیس ہارنے کے بعد قومی احتساب بیورو(نیب)نے براڈ شیٹ فرم کو 4 ارب 58 کروڑ روپے ادا کیئے جبکہ نیب کے وکیل اور لیگل فرم کو فیس کی ادائیگی کے بعد یہ رقم 7 ارب 18کروڑ روپے تک پہنچ جائے گی۔گویا کہہ سکتے ہیں کہ نئے سال کی ابتدا جانی و مالی نقصان سے ہوئی۔

جہاں تک سیاسی حالات کا تعلق ہے تو نئے سال میں پرانا سیاسی منظر نامہ ہی چل رہا ہے۔اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے مختلف شہروں میں جلسے جلوس اور ریلیاں نکال کر عوام کے سامنے حکومتی کارکردگی کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہا ہے۔اور اس تنقید کے جواب میں حکومتی ترجمان اس اتحاد کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں۔اقتدار کی اس جنگ میں سیاسی اشرافیہ کے مابین لفظی گولہ باری اپنے عروج پر ہے۔اور 22 کروڑ عوام پریشان ہے کہ حکومت اور اپوزیشن میں سے کس کے دعووں پر اعتبار کرے۔

تمام تر حکومتی دعووں کے باوجود زمینی حقائق یہ ہیں کہ جی ڈی پی گروتھ منفی میں ہے۔کاروباری سرگرمیاں ماند پڑچکی ہیں۔ایوان میں موجود ایماندار افلاطونوں کی دن رات کوشش کے باوجود موجودہ حکومتی دو سالوں میں پاور سیکٹر یعنی توانائی کے شعبے میں گردشی قرضوں کا حجم 1148 ارب روپے سے بڑھ کر 2306 ارب روپے ہوچکا ہے۔اگر جان کی امان ملے تو سوال تو بنتا ہے کہ اگرکپتان کی ٹیم کام کررہی ہے تو پھر گردشی قرضہ کیوں بڑھ رہا ہے۔اگر حکومتی کارکردگی کا معیار یہی رہا تو آئی پی پیز کو بروقت ادائیگیاں نہیں ہوسکیں گی اور اس کی سزا عوام کو بدترین لوڈشیڈنگ کی صورت میں ملے گی۔

اگر روز مرہ کی اشیاے خوردونوش کی قیمتوں کا جائزہ لیں توپتہ چلتا ہے کہ یہ قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کے پاس مہنگائی کو روکنے کا کوئی میکنزم نہیں ہے یا حکومت بے بس ہے اس کو روکنے میں۔یہ المیہ نہیں تو اور کیا ہے کہ گنے کی کرشنگ کے سیزن میں بھی چینی کے نرخ 100 روپے فی کلو تک پہنچ چکے ہیں تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کرشنگ سیزن کے بعد نرخ میں مزید اضافہ ہوگا۔یہی نہیں بلکہ خوردنی تیل کی قیمت میں 27 روپے فی لیٹر ،گھی 13 روپے فی کلو ، آٹا 4 روپے فی کلو اور بجلی 1 روپے 6 پیسے فی یونٹ اضافہ ہوا ہے۔ابتر معاشی حالات کے سبب کم ہوتی ماہانہ آمدنی کے ساتھ کیا عام آدمی دو وقت کاکھاناکھا سکتا ہے کیا بجلی کے بلوں کی ادائیگی کرسکتا ہے اس پر سوچنے کی ضرورت ہے۔

گزشتہ سال کورونا کے سبب عالمی مالیاتی اداروں کو قرضوں اور سود کی ادائیگی کے سلسلہ میں جو وقفہ ملا تھا وہ مہلت اب ختم ہونے والی ہے اور 2021 میں ان اداروں کو ادائیگیوں کا سلسلہ شروع ہوگا۔آئی ایم ایف کا حکومت پر دباو ہے کہ وہ ٹیکسوں میں اضافہ کرے، نجکاری کے عمل کو تیز اور یقینی بناے، ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن کا خاتمہ کرے اور سرپلس ملازمین کو فی الفور نوکریوں سے جبری برطرف کیا جائے۔جبک بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بڑے پیمانے پر اضافہ کیا جائے۔

تحریک انصاف کی حکومت آئی ایم ایف کی ہدایات پر عمل کرنے پر مجبور ہے۔اس ضمن میں 445 اداروں کو کم کرکے 341 کردیا گیا ہے اسمین کچھ اداروں کو ضم جبکہ کچھ کو بالکل ختم کردیا گیا ہے۔بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بھی مسلسل اضافہ کیا جارہا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ مرزا نوشہ کی بات پر کان مت دھریں کہ برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے۔بلکہ یہ سال گزشتہ سالوں کے مقابلے میں ایک مشکل سال ہے۔اعداد وشمار اور ماہرین کے اندازے کے مطابق مہنگائی، غربت اور بے روزگاری میں ہوشربا اضافہ ہونا ہے۔اگر تحریک انصاف کی موجودہ ٹیم کی کارکردگی کا معیار یہی رہا تو حالات مزید ابتر ہوتے جائیں گے۔

جبکہ رہی سہی کسر ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام پوری کردے گا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام کے ساتھ مل بیٹھ کر ملک کو درست معاشی سمت میں لے جانے کی منصوبہ بندی کی جائے۔عام آدمی کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کی کوشش کی جاے۔بے روزگاری کے خاتمہ کے لیے زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں۔روز مرہ کی اشیاے خوردونوش کی قیمتوں میں استحکام لانا حکومت وقت کی اولین زمہ داری ہے ۔لگے ہاتھوں مرزا نوشہ کو بھی تلاش کیا جاے اور اُس سے دریافت کیا جائے کہ کس برہمن نے کہا تھا کہ یہ سال اچھا ہے.

برائے رابطہ 03334429707

وٹس ایپ 03352644777

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

پی ڈی ایم کا پی ٹی آئی فنڈنگ کیس کے فیصلے میں تاخیر پر الیکشن کمیشن کے سامنے بھرپور پاور شو

پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے میں تاخیر پر پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے