منگل , 13 اپریل 2021
ensdur

اڑھائی سالہ حکومتی رویہ | آفتاب احمد گورائیہ

تحریر: آفتاب احمد گورائیہ

دو ہزار اٹھارہ کا الیکشن جیسے بھی ہوا، حکومت بھی جیسے تیسے بنوا دی گئی دونوں بڑی جماعتوں پیپلزپارٹی اور ن لیگ نے تمام تر تخفظات کے باوجود اس حکومت کے چلنے میں اب تک کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کی۰ دونوں بڑی جماعتوں کا اس بات پر اتفاق تھا کہ حکومت کی جانب سے احتساب کے نام پر اپوزیشن رہنماوں کی یکطرفہ گرفتاریوں اور انتقام پر مبنی رویہ کے باوجود حکومت کو پانچ سال پورے کرنے دئیے جائیں تاکہ نام نہاد تبدیلی عوام کے سامنے پوری طرح ایکسپوز ہو سکے۰ سابق صدر آصف علی زرداری نے تو قومی اسمبلی میں اپنی تقریر میں واضح الفاظ میں بھی کہا کہ ہم اس حکومت کو نہیں گرائیں گے بلکہ یہ خود گریں گے۰ ایسا لگتا ہے کہ کہنہ مشق سیاست دان کی کہی ہوئی بات کے پورا ہونے کا وقت آن پہنچا ہے۰

اپوزیشن کی جانب سے حکومت گرائے جانے کا کوئی خطرہ نہ ہونے کے علاوہ جس طرح کا تعاون مقتدرہ کی جانب سے اس حکومت کو میسر رہا ہے، ماضی قریب میں ایسا تعاون کسی اور حکومت کو میسر نہیں رہا۰ وزیراعظم اور حکومتی ترجمان ببانگ دہل اس بات کا اعلان کرتے رہے ہیں اور اس بات پر فخر کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ حکومت اور تمام ادارے ایک پیج پر ہیں۰ حکومت کی تمام تر نالائقیوں اور نااہلی کے باوجود مقتدرہ کی جانب سے اس حکومت کے ہر جائز و ناجائز کام کی جس طرح حمایت کی جاتی رہی ہے اس سے یہ ثابت بھی ہوتا ہے کہ حکومت اور مقتدرہ نہ صرف ایک پیج بلکہ ایک ہی کاپی اور ایک ہی بستے میں بھی ہیں۰

موجودہ حکومت بظاہر تو ایک جمہوری حکومت ہے لیکن اپنے اقدامات اور رویہ سے کسی بھی فاشسٹ اور آمرانہ حکومت سے کم نہیں ہے۰ حکومت کی جہاں تک کوشش ہو سکتی ہے ہوتی ہے کہ اپوزیشن کا میڈیا پر بلیک آوٹ کیا جائے، اپوزیشن رہنماوں کے انٹرویوز نہ چلانے دئیے جائیں اور اس کے علاوہ اپنے لفافہ اینکرز اور صحافیوں کے ذریعے اپوزیشن کی کردار کشی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا جائے۰ اپوزیشن کے جلسے جلوس میں رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں اور اپوزیشن کو احتجاج کے جمہوری حق سے روکنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا جاتا۰

موجودہ حکومت اپنی تمام تر ناکامیوں کا ذمہ دار بھی شائد اپوزیشن کو ہی سمجھتی ہے۰ نا تجربہ کار اور غیر سیاسی ذہن رکھنے والی حکومت اپوزیشن کی مثبت تنقید برداشت کرنے کا حوصلہ رکھتی ہے اور نہ ہی جمہوری نظام میں اپوزیشن کے کردار کی اہمیت سے واقف نظر آتی ہے۰ اپوزیشن نے تو تنقید کرنی ہوتی ہے یہ اپوزیشن کا کام ہے لیکن حکومت نے اپنا کام کرنا ہوتا ہے۰ اپوزیشن جو مرضی کہتی رہے حکومت کو اس کے کام سے روک نہیں سکتی۰

حکومت کے ذمہ داران کو سوچنا چاہیے کہ کیا اپوزیشن کی وجہ سے حکومت مہنگائی روکنے میں ناکام ہے؟ کیا اپوزیشن کی تنقید کی وجہ سے حکومت گڈ گورننس نہیں دے سکی؟ کیا اپوزیشن کی تنقید چینی، آٹا، پٹرول، ادویات اور دوسرے کرپشن سلیکنڈلز کی وجہ ہے؟ کیا فارن فنڈنگ کیس، بی آر ٹی کرپشن کیس، مالم جبہ کرپشن کیس اور بلین ٹری کرپشن کیس کی وجہ بھی اپوزیشن کی تنقید ہی ہے؟ ہر حکومت کی اپوزیشن ہوتی ہے اور اپوزیشن کا کام ہوتا ہے کہ حکومت کہ ہر غلط کام کی نشاندہی کرے۰ حکومت کو چاہیے کہ اس تنقید کو مثبت رنگ میں اپنی اصلاح کے لئے استعمال کرے۰ جمہوری نظام میں اپوزیشن کو سیاسی منظر سے غائب نہیں کیا جا سکتا۰ اپوزیشن جتنی مرضی تنقید کرے اس سے حکومت کے انتظامی اختیارات اور معاملات پر کچھ اثر نہیں پڑتا، حکومت اگر کچھ کرنا چاہے تو اس میں اس کے لئے کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی۰ شرط صرف یہ ہے کہ حکومت کچھ کرنے کا ارادہ اور اہلیت رکھتی ہو۰ لیکن اس حکومت کی ساری توجہ کام کرنے اور اپنے منشور کو عملی جامہ پہنانے کی بجائے صرف اور صرف اپوزیشن کو دبانے اور میڈیا مینجمنٹ تک محدود ہے۰ کوئی بھی مسئلہ درپیش ہو تو حکومت اس مسئلہ کو حل کرنے کی بجائے اپنے ترجمانوں اور سوشل میڈیا ٹیم کا اجلاس بلا لیتی ہے کہ کیسے اس سارے معاملے پر میڈیا کے محاذ پر اپوزیشن کا مقابلہ کیا جا سکے۰

اپوزیشن رہنماوں کی جانب سے مختلف مواقع پر وزیراعظم اور حکومت کو پیشکش کی جاتی رہی ہے کہ اہم قومی معاملات اور ایشوز پر مل بیٹھ کر ایک مشترکہ پالیسی یا حکمت عملی ترتیب دینے کے لئے وزیراعظم آگے بڑھیں اور بطور وزیراعظم ایک قومی رہنما کا کردار ادا کریں لیکن وزیراعظم کبھی بھی اپنی انا اور تکبر کے خول سے باہر نہیں آسکے۰ کرونا کے آغاز کے موقع پر پیپلزپارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم کو پیشکش کی کہ آگے بڑھ کر بطور قومی رہنما لیڈ کریں ہم سب آپ کی رہنمائی میں چلنے کو تیار ہیں تاکہ کرونا جیسی وبا کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنائی جا سکے اور اس موذی بیماری کا مل جل کر مقابلہ کیا جا سکے لیکن وزیراعظم نے اس مثبت پیشکش کا جواب سندھ حکومت اور پیپلزپارٹی کے خلاف بدترین محاذ آرائی کا آغاز کرکے دیا۰ اس کے علاوہ سابق صدر آصف علی زرداری نے ایک نئے چارٹر آف ڈیموکریسی کے لئے حکومت کو دعوت دی تو اس کا نتیجہ بھی وہی ڈھاک کے تین پات والا ہی نکلا۰ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی طرف سے ایک چارٹر آف اکانومی پر متفق ہونے کے لئے کی جانے والی پیشکش کا جواب بھی نفی میں ہی سامنے آیا۰

وزیراعظم صاحب کو کنٹینر سے اترے کئی سال ہو گئے لیکن وزیراعظم کا لہجہ اور رویہ کنٹینر والے عمران خان والا ہی ہے۰ سیاسی مخالفین کے لئے تو تکار اور چور ڈاکو جیسے الفاظ استعمال کرنا کسی بھی طور سے ایک وزیراعظم کو زیب نہیں دیتا۰ وزیراعظم کا کردار ایک قومی رہنما کا ہوتا ہے جسے قومی ایشوز اور معاملات پر اپنی ذاتی مخالفت اور انا سے بالاتر ہو کر فیصلے کرنے ہوتے ہیں لیکن موجودہ وزیراعظم اپنی خود پسندی، نفرت اور انا کے خول سے باہر آنے کو تیار ہی نہیں ہوتے۰ اپنے علاوہ باقی سب کو چور اور ڈاکو سمجھنے والا رویہ بھی وزیراعظم کے متکبرانہ رویہ کی عکاسی کرتا ہے۰ خود کو عقل کل سمجھنے والے شخص سے کسی بھی مدبرانہ کردار کی توقع کرنا ہی ناممکن سی بات ہے۰

تمام تر اختلافات کے باوجود دونوں بڑی پارٹیوں پیپلزپارٹی اور ن لیگ کا اتفاق تھا کہ اس حکومت کو مدت پوری کرنے دی جائے تاکہ کل کو حکومت یہ نہ کہہ سکے کہ ہمیں کام نہیں کرنے دیا گیا اور حکومت کی نااہلی اور نالائقی پوری طرح عوام کے سامنے آ سکے لیکن حکومت نے اپنی نااہلی، نالائقی اور متکبرانہ رویہ سے ایسے حالات پیدا کر دئیے ہیں کہ اپوزیشن کے پاس اس حکومت کو گھر بھیجنے کے سوا کوئی چارہ کار باقی نہیں رہا۰ اب حالات یہ ہیں کہ اپوزیشن ایک اتحاد کی صورت میں متحد ہو کر اپنی ٹحریک کو جلسے جلوس کے مرحلے سے نکال کر ایجی ٹیشن کے مرحلے میں لے کر جا رہی ہے جس میں لانگ مارچ اور استعفوں سمیت تمام آپشنزاستعمال کئے جا سکتے ہیں۰ اب حکومتی نامہ بر مذاکرات کے لئے بھی کوشش کر رہے ہیں اور پیغامات بھی بھیجے جا رہے ہیں لیکن اب کافی دیر ہو چکی ہے، معاملات کافی آگے بڑھ چکے ہیں اور پُلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گزر چکا ہے۰ اب مذاکرات ہوتے نظر نہیں آ رہے۰ کم از کم حکومت سے تو نہیں۔۔

بڑی دیر کی مہرباں آتے آتے۰

Please follow on twitter @GorayaAftab

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

پیپلزپارٹی نے پی ڈی ایم عہدوں سے استعفے مولانا فضل الرحمن کو بھجوا دیئے

پیپلز پارٹی نے اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم سے علیحدگی کے فیصلے پر مرحلہ وار …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے