ہفتہ , 31 اکتوبر 2020
ensdur

اٹھارویں ترمیم پر عمل کی بجائے اسے ختم کرنے کی سازشیں کیوں ہو رہی ہیں؟ | بیرسٹر ضمیر گھمرو

تحریر: بیرسٹر ضمیر گھمرو

گذشتہ روز وفاقی وزیر اسد عمر نے ایک اردو چینل پر یہ بم پھوڑا کہ وہ اٹھارویں ترمیم میں تبدیلی کیلیئے مشاورت کا عمل شروع کر رہے ہیں۔ اس وزیر صاحب نے نہ تو اٹھارویں ترمیم میں کوئی خاص حصہ بتایا جس سے انہیں تکلیف ہے اور نہ ہی این ایف سی کے حوالے سے اعداد و شمار پیش کیے۔ اس انٹرویو کے بعد پی ٹی آئی کے وزیر خارجہ نے اٹھارویں ترمیم میں تبدیلی کی تردید کر دی۔ مگر یہ بھی کہا کہ اٹھارویں ترمیم کی وجہ سے پیش آنے والی مشکلات پر بات چیت ہو سکتی ہے۔ اب اٹھارویں ترمیم کے دو پارٹ ہیں۔ ایک تو اس پہ عمل نہیں ہوا ہے اور دوسرا یہ کہ عمل ہونے سے پہلے ہی اس میں کیڑے نکالے جا رہے ہیں۔ ان دو پہلوئوں کے علاوہ تیسرا پہلو سیاسی ہے۔ جیسا کہ پی ٹی آئی کی حکومت نہ صرف کورونا وائرس پر اپنے حکمت عملی کی وجہ سے عوام اور اپوزیشن کی تنقید کی زد میں ہے، مگر آٹے اور چینی کے بحرانوں کے اسکینڈلز کی وجہ سے سخت پریشان بھی ہے۔ اس کے علاوہ ان کی پارٹی کے اندر اور باہر اس کے خلاف بہت آوازیں آرہی ہیں۔ عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات میں کمی، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی طرف سے ملے رلیف کی وجہ سے اس شور میں کمی آئی ہے۔ اب آئیے دیکھتیے ہیں کہ اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی میں صوبوں کو کیا ملا اور ان پر کتنا عمل ہوا ہے اور اس کی مخالفت کس بنیاد پر ہو رہی  ہے؟

اٹھارویں ترمیم کیا ہے؟

اٹھاروہں ترمیم پہ سب سے بڑا اعتراض آئین میں کنکرٹ لسٹ کو ختم کر کہ وفاق میں ان لسٹ اسموں کو غیر آئینی طور پر بنائی گئی وزارتوں کو صوبوں کے حوالے کرنا ہے۔ آئین تحت وفاق کنکرٹ لسٹ پہ قانون سازی تو کر سکتا تھا مگر ان چیزوں پر آئین کے آرٹیکل 97 تحت انتظامی عملداری پھر بھی صوبون کی تھی۔  مگر آئین کی سخت خلاف ورزی کرتے ہوئے اس کی فراڈ تشریح کرتے ہوئے وفاقی حکومت کنکرٹ لسٹ کی چیزوں اور کنکرنٹ لسٹ سے باہر صوبائی چیزوں پر لاتعداد وزارتیں بنا ڈالیں اور صوبوں میں چیف سیکریٹری اور آئی جی پولیس تعینات کر کہ انتظامی عملداری میں مداخلت کرتی رہی۔ جو کہ اب بھی جاری ہے۔ اب اٹھارویں ترمیم  کے بعد صرف وفاقی لسٹ بچی ہے۔ جو کہ دو حصوں میں تقسیم ہے۔ اس لسٹ کے پہلے حصے پر انتظامی عملداری وفاقی کابینا کی ہے، جبکہ دوسرے حصے پہ انتظامی عملداری مشترکہ مفادات کائونسل کی ہے۔  وفاقی لسٹ سے باہر ساری چیزیں صوبوں کی ہیں۔ 1935ء کی گورنمینٹ آف انڈیا ایکٹ یا 1956ء کے ون یونٹی آئین تحت ہی لسٹیں تھی۔ ہر ایک وفاقی، صوبائی اور کنکرٹ، جن میں کل ملا کے 221 اسم تھے۔ اب وفاقی لسٹ پارٹ ون میں 53 چیزیں اور وفاقی لسٹ پارٹ ٹو میں 18 چیزیں ہیں۔ مطلب وفاقی لسٹ کے دونوں حصوں میں 71 چیزیں ہیں اور باقی دیڈھ سو چیزیں صوبوں کی ہیں۔

وفاقی لسٹ کا پہلا حصا:

وفاقی لسٹ کے پہلے حصے کی 53 آئٹمز پر تقریبا 6 وزارتین بنتی ہیں، کیونکہ ان میں دس آئٹم تو ٹیکس کے ہیں۔ لسٹ میں شامل ان 53 آئٹمز کی بدولت مرکز میں وفاقی سرکار کے پاس جو وزارتیں بنتی ہیں، وہ یہ ہیں۔ (1) وزارت دفاع: یہ وزارت وفاقی لسٹ کی اسم 1، 2، اور 18 میں آجاتی ہے۔ (2) وزارت خارجہ: یہ وزارت وفاقی لسٹ میں 3، 4، 5، 17 اور 32 نمبر اسمون پر مشتمل ہے اور ان میں پاسپورٹ، امیگریشن، حج کے محکمے آ جاتے ہیں۔ (3) وزارت کمیونیکیشن یا مواصلات: اس وزارت میں شہری ہوابازی، اھم شاہراہیں، پوسٹل سروسز، ٹیلیگراف، براڈکاسٹنگ اور سروس آجاتے ہیں اور یہ وفاقی لسٹ کی 7، 34، 35، 22 اور 23 نمبر اسم پر مشتمل ہے۔ (4) وزارت خزانہ: جیسے کہ اس وزارت کا کام ملک کے چار بڑے ٹیکس جمع کرنا بھی ہے۔ اس لیے اس کے آئٹم زیادہ ہیں اور یہ وفاقی لسٹ کے 8، 9، 10، 12، 15، 16، 28، 29، 37 اور 42 سے 54 تک آئٹمز پر مشتمل ہے۔ (5) کامرس یا غیر ملکی تجارت کی وزارت: یہ وزارت وفاقی لسٹ کے پہلے حصے کے 19، 20، 24، 25، 26، 27، 30، 31، 36 اور آئٹم نمبر 39  پر مشتمل ہے۔ اس میں جہاز رانی سمیت زمین اور فضائی تجارت آ جاتی ہے۔ (6) وزارت قانون: یہ وزارت وفاقی لسٹ کے 11، 13،14، 41، 55، 56، 57، 58، اور 59 آئٹم پر مشتمل ہے۔

اب وفاقی لسٹ کے پہلے حصے کے آئٹمز پر وفاقی حکومت کی صرف 6 وزارتیں بنتی ہیں، ان میں سب سے بڑی وزارت دفاع ہے۔ جبکہ وزارت قانون بھی اکثر این ایف سی میں سے ایک فیصد رقم ملنے پر چلائی جاتی ہے۔ جو کہ علیحدہ ملتی ہے۔ دفاع اور قرضے اتارنے کیلئے مطلوب رقم تقریبا‏ۨٔ” 32 سو ارب روپے ہے۔ اب دفاع اور وزارت خزانہ کو چھوڑ کر جن کیلے 32 سو ار روپے چاہئیں، باقی خارجہ پالیسی، آمد و رفت، قانون و کامرس وزارتوں کو دو سو ارب سے بھ کم رقم سے چلایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح وفاقی حکومت کو چھ وزارتیں چلانے کیلیے 34 سو ارب روپے چاہیئیں۔ مگر آپ حیران ہو جائینگے کہ  20ـ2019ء کے بجٹ میں وفاقی حکومت کی بجٹ پانچ ہزار ارب روپے ہے۔ وفاقی حکومت این ایف سی اور نان ٹیکس روینیو سے قریباۤ 34 سو ارب روپے رقم ملتی ہے۔ مگر آئین کے تحت ان چھ وزارتوں کی بجائے مرکز میں 34 وزارتیں بنائین گئی ہیں اور آئ/ن کی خلاف ورزی کر کہ اب صوبوں پر زور دیا جا رہا ہے کہ وفاق کو مزید پسے دیئے جائیں تا کہ 6 کی بجائے 34 وزارتیں چلائی جائیں۔ وفاقی حکومت کو آئین کے تحت چھ وزارتیں چلانے کیلئے نہ تو غیر ملکی قرضے لینے کی ضرورت ہے اور نہ ہی صوبوں پر دبائو ڈالنے کی ضرورت ہے۔

مشترکہ مفادات کائونسل کے آئٹمز:

وفاقی آئینی لسٹ کے پارٹ 2 میں 18 آئٹم ہیں۔ جن میں ریلویز، تیل و گیس، انڈسٹریل ڈیولپمیٹ کارپوریشن، واپڈ، بجلی، آدمشماری، میڈیکل، قانون، انجنیئرنگ کے پروفیشن اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں اسٹینڈرڈ آ جاتیے ہیں۔ یہ آئٹم اور کارپوریشنز اور ادارے آئین کے آرٹیکل 154 کے تحت مشترکہ مفادات کائونسل کو اپنے مستقل سیکریٹریٹ سے چلانے ہیں۔ 1973ء سے لیکر وفاقی حکومت ان آئٹمز کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے وزارتیں بنا لی ہیں۔ جبکہ آئین کے آرٹیکل 161 کے تحت تیل او گیس کی ملکیت صوبوں کے پاس ہے اور واپڈا اور ریلویز ون یونٹ کے دوران 1956 اور 1962ء کے آئین کے تحت بہ صوبائی آئٹمز تھے۔ اس لیے یا تو وفاقی حکومت یہ وزارتیں ختم کردے اور اداروں کو مشترکہ مفادات کائونسل کے مستقل سیکریٹریٹ جو کہ صوبوں کی برابری کی نمائندگی پر مشتمل ہو اس کو منتقل کرے یا آئین میں فوری ترمیم کر اور یہ ادارے صوبوں کے حوالے کیئے جائیں، جو کہ پہلے بھی اکثر و بیشتر صوبائی ہی تھے۔ 1973ء سے غیرقانونی طور پر یہ ادارے وفاقی حکومت چلا رہی ہے اور مشترکہ مفادات کی کاؤنسل صرف نام کی ہے۔ اس لئے وقت آ گیا ہے کہ فیڈرل لسٹ پارٹ 2 کے 18 آئٹمز کو صوبوں کے حوالی کیا جائے۔

صوبائی محکمے:

وفاقی لسٹ کے پہلے حصے کی 53 اور دوسرے حصے کی 18 آئٹمز کے علاوہ قریباَ 150 سے زیادہ آئٹمز آئین کے آرٹیکل 142 اور 137 کے تحت صوبائی ہیں۔ آئین اٹھا کر واضح کیا جائے کے وفاقی لسٹ میں آئٹمز کے علاوہ سارے آئٹمز آئین کے تحت صوبوں کے ہیں، جن کے تحت 50 یا اس سے بھی زیادہ وزارتیں بنتی ہیں۔ جن میں عام عوام کی زندگی سے تعلق رکھنے والی تعلیم، صحت، امن و امان، زراعت، آبپاشی، پانی، صنعت، سوشل سکیورٹی، ورکس اینڈ سروسز، ہوم اور سول ڈفینس سمیت بہت سارے اہم محمکاجات شامل ہیں، جن میں زیادہ تر ترقیاتی محماجات ہیں۔ ان پر رقم خرچ کرنے سے ہی صوبے یا ملک ترقی کرتا ہے۔ وفاقی حکومت کے پاس 34 سو ارب خرچنے کے باوجود پانچ ھزار ارب روپے بجٹ ہے۔ مگر چاروں صوبوں کا بجٹ ملا کر پنجاب کے 2300 ارب، سندھ کے 1217 ارب، سرحد 900 ارب اور بلوچستان کا بجٹ 419 ارب روپے ہے۔ یہ رقم ملا کر بھی پانچ ہزار ارب نہیں بنتے۔ اب چھہ محکموں والی سرکار جس کا کام مددی ہے تو وہ صوبوں کو اپنے چھ محمکوں کے ذریعے مدد کرے، جن چاروں صوبوں کے بجیٹ ملا کر بھی پانچ ہزار ارب روپے نہیں ہے۔

وفاق کی غیر آئینی وزارتی:

تاریخ کے ہر موقع پر وفاقی حکومت خلاف ورزی کر کہ چھ کی بجائے کبھی پچاس تو کبھی 34 وزارتین بنا کر ملک کے وسائل اپنے پاس رکھے ہیں اور ان وسائل کے ذریعے پروپیگینڈا کی بڑی مشینری بنا کر صوبوں میں مداخلت کا راستہ اختیار کیا ہے۔ 1977ء کے بعد خود وفاقی حکومت پر یا تو مارشل لا کے ذریعے قبضا کیا گیا ہے، جو کہ ناکاری پروپیگینڈا کر کہ یا آئین کی غلط تشریح کر کہ نہ صرف ان کا تحفظ کرتے ہیں بلکہ ان کے ہر اس غیر آئینی اقدام کو سراہا جاتا ہے، جن کے وسائل ہوتے ہوئے وفاقی حکومت اپنا کام تو انجام نہیں دیتی مگر احساس، ہیلتھ کارڈ جیسے صوبائی معاملات پر عوام میں رقوم تقسیم کر رہی ہے۔ یہ خالص صوبائی کام ہیں، جس کیلیئے وفاق رقم صوبوں کو نہیں دیتا اور صوبوں کے اندر ان پروراموں کے ذریعے سیاسی مداخلت کر رہا ہے۔ اٹھاروٰں ترمیم پہ عمل کرنے کیلئے آئین کے آرٹیکل اے اے 270 کے تحت جو عملدرآمد کمیٹی بنائی گئی ہے، اس کو جون 2011ء تک نہ صرف سارے معاملات فائنل کرنا تھے بلکہ کنکرٹ لسٹ کے تحت بننے والی وزارتوں کو مکمل طور پر صوبوں کے حوالے کرنا تھا۔ مگر اس عملدرآمد کمیٹی رپورٹ دے کر جان چھڑا لی۔ اکثر معاملات کو واضح ہی نہیں کیا گیا۔ جس کی وجہ سے عوام آج بھی اٹھارویں ترمیم کو مکمل طور پر سجھ ہی نہیں پائے۔ حتیٰ کہ اٹھارویں ترمیم کی وضاحت اب ایک جملے میں ہے کہ وفاقی لسٹ میں شامل 53 آئٹمز کے علاوہ باقی سارے 150 آئٹمز صوبوں کے ہیں۔ جبکہ 18 آئٹم مشترکہ مفادات والی کا‍ؤنسل کے ہیں اور 53 وفاقی لسٹ والے آئٹمز پر وفاق 6 وزارتیں بنا سکتا ہے۔ یہ اٹھارویں ترمیم میں آسان وضاحت ہے مگر وفاق 6 کی بجائے 34 وزارتیں بنا کر ملک پر بڑے قرضے اور خرچے مسلط کر کہ عوام کو دن بہ دن غریب بنا رہا ہے۔ ہم وفاقی حکومت کی وجہ سے غریب ہیں اور مزید ہو رہے ہیں۔

این ایف سی میں وفاق کا حصہ:

عام رواجی حالات میں 6 وزارتوں کیلئے وفاقی حکومت کا بجیٹ ایک ہزار ارب روپے سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ مگر ہمیشہ ایمرجنسی حالات پیدا کرنے والی وفاقی حکومت کو عوام این ایف سی کے ذرریعے اس سال 3 ہزار ارب روینیو سے زائد رقم دیگا۔ واضح رہے کہ اٹھارویں ترمیم میں صوبوں کو کوئی بھی مالی اختیار نہیں دیا گیا تھا۔ سروسز پر سیلز ٹیکس 1973ء سے ہے صوبائی ہیں۔ جو وفاقی حکومت غیر قانونی طور پر وصول کر رہا تھا، جو کہ صوبوں نے 2011ء سے وصول کرنا شروع کی۔ اسی طرح آئین کے آرٹیکل 160 میں صرف یہ ترمیم کی گئی کہ صوبوں کو ہر پانچ سال بعد ملنے والے این ایف سی کا پورا حصہ پچھلے حصے سے کم نہیں ہوگا اور پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت 31 دسمبر 2009ء کو جو این ایف سی ایوارڈ گوادر میں دستخط کیا، اس کے تحت مرکز ساڑھے بیالیس اور صوبے ساڑھے ستاون فیصد لینگے۔ مگر وفاق کو ٹیکس اکٹھا کرنے کیلیے ایک فیصد زائد بھی دیا جائیگا۔ جو کہ اب ساڑھے 43 فیصد لیتا ہے۔ اس سال پورے ملک میں چاروں صوبوں سے این ایف سی ٹیکس کی مد میں 5 ہزار 5 سو ارب روپے کا تخمینہ بھی ہے۔ جو کہ پانچ ہزار ارب روپے اکٹھے ہوں تو وفاقی حکومت تقریباَ ساڑھے اکیس سو ارب اور صوبوں کو کل ملا کر 2850 ارب روپے ملیںگے۔ اسی طرح وفاق کو یک ہزار سے 15 سو ارب روپے کا نان ٹیکس روینیو بھی ہے۔ جس سے اس کے پاس آرام سے 3 ہزار 35 سو ارب تک ہو جائینگے، جو دفاع اور قرضے اتارنے ے بعد بھی دو تین سو ارب روپے اضافی ہونگے۔ جس سے چھ وزارتین آسانی سے چلائی جا سکتی ہیں، مگر وفاق صوبائی اور مشترکہ مفادات کی کائونسل کے آئٹمز پر 34 وزارتیں بنا کر نہ صرف ملک کو مقروض کر رہا ہے، بلکہ عوام پہ ٹیکس کی مد میں اپنے بلا جہ اور غیر آئینی خرچے مسط کر رہا ہے۔ عام رواجی حالات میں تو مرکز کو این ایف سی میں سے صرف 20 فیصد ملنا چاہیئے۔ کیونکہ اس کے پاس عوامی بہبود کے محکماجات نہیں ہیں، مگر ساڑھے 34 فیصد کے علاوہ ہزار پندرہ سو کا نان ٹیکس روینیو ہونے کے باوجود وہ صوبوں کے عوام کا پیٹ کاٹنا چاہتا ہے، جس سے وفاقی حکومت جیسے کہ نہیں چل سکتی، اس لیئے یہ اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی کو نشانہ بنا کر اپنی ناکامیوں پر پردا ڈالنا چاہتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ صوبوں کے عوام نہ صرف اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی کو ایک جملے میں سمجھنا چاہیئے مگر پاکستان پر دھاندھلی سے قابض گروہ کو بینقاب بھی کرے۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

گلگت بلتستان، نوید انقلاب | آفتاب احمد گورائیہ

تحریر: آفتاب احمد گورائیہ گلگت بلتستان اپنے دیو مالائی حُسن، برف پوش چوٹیوں، خوبصورت وادیوں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے