جمعہ , 23 اکتوبر 2020
ensdur

اور الارم بج گیا | آفتاب احمد گورائیہ

تحریر: آفتاب احمد گورائیہ

آج کل قومی انتخابات کا زور شور ہے۔ تمام قومی سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے سے ہونے والی انقلابی نوعیت کی انتخابی اصلاحات کے بعد یہ پہلا انتخاب ہے جو نئی انتخابی اصلاحات کے تخت کروایا جا رہا ہے۔ ان انقلابی اصلاحات کے نتیجے میں ایسا غیر جانبدار الیکشن کمیشن تشکیل دیا گیا ہے جس کے کام میں مداخلت کی ہی نہیں جا سکتی۔ ماضی کے تجربات سے سبق سیکھتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ بھی تہیہ کر چکی ہے کہ جمہوری اداروں کو آزادانہ طور پر کام کرنے دیا جائے گا اور ان کے کام میں بالکل مداخلت نہیں کی جائے گی۔ تمام سیاسی جماعتیں اور اسٹیبلشمنٹ ایک چارٹر پر متفق ہو چکی ہیں کہ سول حکومت اپنا کام کرے گی اور ادارے اپنا کام کریں گے جبکہ پارلیمنٹ سپریم ہو گی۔

انقلابی اصلاحات کے نتیجے میں ہونے والا یہ پہلا انتخاب ہے جس میں عام سیاسی کارکنوں، مزدوروں کے نمائیندوں سمیت ہر طبقہ فکر کے لوگ بڑی تعداد میں حصہ لے رہے ہیں۔ سیاسی جماعتوں نے بھی روایتی امیدواروں کی بجائے اپنے دیرینہ کارکنوں کو ٹکٹ سے نوازا ہے اور ایسا صرف اس لئے ممکن ہو سکا ہے کہ نہ صرف سیاسی جماعتوں نے ٹکٹ میرٹ پر دئیے ہیں بلکہ انتخابی قوانین بھی ایسے بن گئے ہیں کہ عام آدمی کے لئے انتخاب لڑنا ممکن ہو چکا ہے۔ انتخابی اخراجات کی شق پر بھی سختی سے عمل کروایا گیا ہے۔

انتخابی مہم صرف ڈور ٹو ڈور رابطے اور جماعتی کنونشنز تک محدود رہی ہے جبکہ امیدواروں کو صرف الیکشن کمیشن کی طرف سے منظور شدہ سائز کا پوسٹر یا فلیکس لگانے کی اجازت تھی۔ اس کے علاوہ پمفلٹ تقسیم کرنے کی بھی اجازت تھی تاکہ امیدوار اپنا تعارف اور پیغام ووٹرز تک پہنچا سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ امیدواروں کی تصاویر والے بڑے بڑے ہورڈنگز اور بینرز کا بے ہنگم طوفان نظر نہیں آیا اور نہ ہی لوگوں کے گھروں اور جائیدادوں کو وال چاکنگ اور پوسٹرز سے خراب کیا گیا ہے۔

بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماوں کے منشور اور پالیسیوں کے حوالے سے ٹی وی پر ہونے والے انتخابی مباحثے کو تمام ٹی وی چینلز نے براہ راست نشر کیا ہے جبکہ عوام نے بھی ان رہنماوں کے درمیان ہونے والے اس مباحثے کو بہت سراہا ہے جس میں تمام رہنماؤں نے اپنی پالیسیوں پر مخالف سیاسی رہنماوں کی جانب سے اٹھائے جانے والے سوالات کے تفصیل کے ساتھ جوابات دئیے جس سے عام ووٹر کو انتخاب میں حصہ لینے والی جماعتوں کے منشور اور پالیسیوں کوسمجھنے میں بہت مدد ملی ہے جس کی بنیاد پر اب ووٹرز اپنی رائے کے مطابق حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔

چونکہ ووٹ ڈالنا لازم قرار دیا گیا ہے اس لئے ہر کسی نے خود جا کر ووٹ کاسٹ کرنا ہے۔ پہلے کی طرح کسی امیدوار نے ووٹروں کے لئے ٹرانسپورٹ کا بندوبست نہیں کیا۔ ووٹ کا استعمال قومی فریضہ ہے اس لئے قومی فریضہ ادا نہ کرنے والے شہری پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

الیکشن کا دن بہت مصروف رہا۰ میں نے صبح ہی اپنے قریبی پولنگ سٹیشن پر جا کر اپنا ووٹ کاسٹ کر لیا تھا۔ پولنگ سٹیشن پر لوگ نہایت ہی منظم انداز میں لائینوں میں کھڑے ہو کر ووٹ ڈالنے کے لئے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے۔ پولنگ سٹیشن کے باہر پہلے کی طرح کسی سیاسی جماعت کا کوئی کیمپ موجود نہیں تھا البتہ سیاسی جماعتوں کے کچھ کارکن ضرور موجود تھے جو پمفلٹ تقسیم کر رہے تھے جن میں ووٹ ڈالنے کا طریقہ کار درج تھا کہ کیسے ووٹ ڈالنا ہے۔

پولنگ مقررہ وقت پر ختم ہوئی۔ پورے ملک میں کسی بھی جگہ سے کسی لڑائی جھگڑے یا دھاندلی کی شکایت سامنے نہیں آئی کیونکہ انتخابی نظام ہی اتنا فُول پروف ہے کہ کوئی چاہے بھی تو دھاندلی نہیں کر سکتا اس لئے پولنگ کا مرحلہ نہایت ہی پرامن انداز سے اپنے اختتام کو پہنچا۔

پولنگ ختم ہونے کے صرف تین چار گھنٹے کے بعد ہی نوے فیصد حلقوں کا رزلٹ سامنے آ چکا ہے کیونکہ نہایت ہی منظم، مربوط اور شفاف طریقہ کار کے تخت ووٹوں کی گنتی اور نتائج مرتب کئے گئے ہیں۔ صرف پوسٹل بیلٹ اور کچھ دور دراز علاقوں کا رزلٹ آنا باقی ہے لیکن یہ اندازہ ہو چکا ہے کہ کون سی پارٹی انتخاب جیت کر حکومت میں آ رہی ہے۔

ابھی کچھ دیر پہلے انتخاب ہارنے والی جماعت کے رہنما نے تقریر کی ہے جس میں اس نے اپنی جماعت کی انتخابی شکست کو فراخ دلی سے تسلیم کیا ہے اور جیتنے والی جماعت کو مبارکباد دی ہے۰ اس کے ساتھ ساتھ نئی آنے والی حکومت کو ہر قومی نوعیت کے معاملے پر اپنے پورے تعاون کی یقین دہانی بھی کروائی ہے۔

انتخاب میں ہارنے والی جماعت کے رہنما کی تقریر کے بعد انتخاب جیتنے والی جماعت کے رہنما نے تقریر کی ہے اور ہارنے والی جماعت جس کی پہلے حکومت تھی اس کی قومی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا ہے اور کہا ہے کہ اب انتخاب ختم ہو چکا ہے اور اگر کوئی رنجش تھی بھی تو انتخاب مکمل ہونے کے ساتھ ہی ختم ہو چکی ہے۔ اب میں کسی ایک جماعت کا رہنما نہیں بلکہ پورے پاکستان کا وزیراعظم ہوں گا اور میرا ہر فیصلہ اور عمل ذاتی پسند ناپسند سے بالاتر اور ملک کے بہترین مفاد میں ہو گا۔

اس کے ساتھ ہی الارم بجتا ہے اور میری آنکھ کھل جاتی ہے۔ پہلے چند سیکنڈز تو مجھے اندازہ ہی نہیں ہوا کہ میں کون ہوں اور کہاں ہوں لیکن آہستہ آہستہ جونہی ہوش قائم ہوا تو یاد آیا ہے کہ میں تو ایک پاکستانی ہوں اور پاکستان میں ہوں اور ابھی جو کچھ میں نے دیکھا ہے وہ ایک خواب تھا ۔۔ صرف خواب۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

’’غداری‘‘ کے پرچے اور عوام کا محسوس نہ ہونے والا درد | نصرت جاوید

عملی سیاست سے عرصہ ہوا ریٹائر ہوئے چودھری انور عزیز محض ایک فرد نہیں تابدار …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے