پیر , 30 نومبر 2020
ensdur

انہونیاں…مگر 31 اکتوبر تک انتظار فرمائی | نصرت جاوید

چند ٹھوس معلومات کی بنیاد پر 20 ستمبر سے اس کالم میں ان وجوہات کو بیان کرتا رہا ہوں جو میری دانست میں نواز شریف کو اشتعال دلانے کا سبب ہوئیں۔ یہ وجوہات بیان کرتے ہوئے اس خدشے کا بھی تواتر سے اظہار کرتا رہا کہ موصوف اب خاموش نہیں رہیں گے۔ لندن میں قیام پذیر ہیں۔ سوشل میڈیا کا استعمال سیکھ لیا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ان کا بیانیہ تلخ تر ہوتا چلاجائے گا۔

سیاست دان مگر لکھاری یا مفکر نہیں ہوتا۔ اقتدار کے کھیل سے مرتے دم تک وابستہ رہتا ہے۔ دیکھنا یہ ضروری ہے کہ 20 ستمبر سے نواز شریف کی اپنائی حکمت عملی اپنے اہداف حاصل کرپائے گی یا نہیں۔ اپریل 1986 میں وطن لوٹنے کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو نے ملک میں حاضرین کی تعداد کے اعتبار سے تاریخ ساز جلسوں سے خطاب کیا تھا۔ اپنے ہر جلسے کے اختتام پر وہ یہ سوال اٹھاتیں۔ ’’ضیاء رہے یا جاوے؟‘‘جاوے۔ جاوے کے جنونی نعروں کے ساتھ جواب مل جاتا۔

اس کے باوجود جنرل ضیاء اپنے منصب پر اگست 1988 تک براجمان رہے۔ ان کے طویل دورِ اقتدار کے خاتمے کا واحد سبب کوئی عوامی تحریک نہیں بلکہ ایک فضائی حادثہ ہوا۔ PDM کے جلسوں سے نواز شریف کے خطاب کو میں اسی تناظر میں دیکھنے کو مجبور ہوں۔ اسی باعث ان جلسوں میں ’’کتنے لوگ تھے؟‘‘ والی بحث میں وقت ضائع نہیں کرتا۔

یہ بات اگرچہ عیاں ہے کہ عمران حکومت ان جلسوں سے بوکھلا گئی ہے۔ حکومتی ترجمانوں کا غول جوابی بیانیے کو فروغ دینے میں مصروف ہے۔ Spin اور Counter Spin کی جنگ برپا ہے۔ ہمارا ’’آزاد ‘‘ میڈیا ’’ذمہ داری‘‘ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اگرچہ اسے ’’نارمل‘‘ بیان بازی کی صورت دینا چاہ رہا ہے۔ روایتی میڈیا کا اثر اور ساکھ مگر سوشل میڈیا کے مقابلے میں معدوم تر ہورہے ہیں۔

اتوار کے روز میں نے بہت عرصے کے بعد اپنے کمرے میں لگی سکرین کو آن کیا۔ وہاں کوئٹہ کا جلسہ نظر نہیں آیا۔ یوٹیوب پر اگرچہ اس کی Live Stream جاری تھی۔ اس کی بدولت میں نے عوامی نیشنل پارٹی کے امیر حیدر خان ہوتی کا خطاب سنا۔ملکی سیاست کا طالب علم ہوتے ہوئے مجھے ان کے ذریعے عوامی نیشنل پارٹی کی PDM کے جلسوں میں نمائندگی نے حیران کیا۔ کراچی کے بعد ان کی کوئٹہ والی تقریر انتہائی جارحانہ تھی جبکہ مجھ جیسے لوگوں کو کئی متحرک اور باخبر صحافیوں نے یہ سوچنے کو مائل کردیا تھا کہ آصف علی زرداری کی پیپلز پارٹی کی طرح اسفندیار ولی کی نگہبانی میں چلائی عوامی نیشنل پارٹی کو بھی PDM کے جلسوں میں ابھرتی ’’انتہاپسندی‘‘ کے بارے میں کئی تحفظات ہیں۔ امیر حیدر خان ہوتی کا پُرجوش خطاب اس تاثر کی نفی کرتا محسوس ہوا۔ یہ تقریر سننے کے بعد میں سوگیا۔ اُٹھنے کے بعد لمبی واک پر چلا گیا۔ PDM کے جلسے میں کون کیا کہہ رہا ہے اسے دیکھنے کی ضرورت ہی محسوس نہ کی۔

رات سونے سے قبل مگر سوشل میڈیا کی بدولت اس کی Highlights سے آگاہ ہونے کی کوشش کی۔ نواز شریف کا خطاب روایتی میڈیا پر دکھایا نہیں گیا تھا۔ وزیر اعظم عمران خان صاحب نے ایک حالیہ انٹرویو میں اصرار کیا ہے کہ ان کی معلومات کے مطابق نواز شریف کا تازہ بیانیہ اسرائیل اور بھارت کی پشت پناہی میں تیار ہوا ہے۔ ان کے اس دعویٰ کے بعد پیمرا کے لائسنس کی بدولت چلائی ٹی وی سکرینوں پر کوئی دیوانہ ہی نواز شریف کی تقریر دکھانے کی حماقت کا مرتکب ہوسکتا ہے۔

حیرت البتہ مجھے یہ دریافت کرتے ہوئی کہ یوٹیوب پر چھائے محبانِ وطن اپنے چینلوں پر نواز شریف کے اسی خطاب کو تفصیلات سمیت بیان کررہے تھے جو لائسنس یافتہ چینلوں پر دکھایا نہیں جاسکتا تھا۔ اس خطاب کو لوگوں تک پہنچانے میں زیادہ تر وہ صحافی بے چین ہو رہے تھے جو اپنے تئیں عمران حکومت کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ ریاستی اداروں کی حرمت کے نگہبان ہونے کے دعوے دار ہیں۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ نواز شریف کی تقریر کے اہم نکات بیان کرنے کے بعد یہ Influencers انہیں Counter کرنے کے دلائل دیتے۔ جوابی بیانیہ مگر مقصود نظر آیا۔ فقط یہ نتیجہ اخذ کیا جارہا تھا کہ ریاست اور حکومتِ پاکستان کوئٹہ والی تقریر کے بعد جارحانہ رویہ اختیار کرنے کو مجبور ہوگی۔ جارحانہ جواب کے لئے ہمارے ذہن کو تیار کرتے ہوئے راولپنڈی کی لال حویلی سے اُٹھے بقراطِ عصر کی اس پیش گوئی کا حوالہ بھی مسلسل دیا جاتا رہا جس کے ذریعے موصوف نے آئندہ دسمبر سے فروری تک ’’جھاڑو‘‘ پھرنے کی ’’خبر‘‘ دی ہے۔ میرے ذہن میں سوال مگر یہ اٹھا کہ دسمبر تک پہنچنے میں ابھی ایک مہینہ درکار ہے۔سیاست کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ بسا اوقات اس کے لئے ایک دن بھی برسوں سے بھاری ہوا کرتا ہے۔ اس حقیقت کو نگاہ میں رکھتے ہوئے مجھ جیسے ڈنگ ٹپائو کالم نگار کو سمجھ نہیں آرہی کہ ’’جھاڑو‘‘ اُٹھنے تک ملکی حالات کو کیسے بیان کرے۔

دلائل پر مبنی ’’تجزیے‘‘ سے عرصہ ہوا اپنی جند چھڑالی ہے۔ صحافت کے شعبے پر کڑی نگاہ رکھنے والے کئی محققین ویسے بھی اعلان کرچکے ہیں کہ سوشل میڈیا نے ہمارے دلوں میں جبلی طور پر موجود تعصبات کو جس انداز میں ہوا دی اور اسکی بدولت پاکستان ہی نہیں دنیا بھر کی سیاست میں اندھی نفرت وعقیدت کی بنیاد پر جو تقسیم مسلط ہوئی وہ صحافت کی ’’موت‘‘ کا باعث بھی ہوئی۔ بہت تحقیق کے بعد صحافت کی موت کا اعلان کرنے والے محقق یہ بھی سمجھا رہے ہیں کہ مذکورہ موت کے آغاز کا عمل “Unsayables” کے ساتھ شروع ہوتا ہے۔ سادہ الفاظ میں یوں کہہ لیں کہ جب کسی معاشرے میں کوئی کالم نگار قلم اٹھاتے ہی اس فکر میں مبتلا ہوجائے کہ کن موضوعات پر نہیں لکھنا تو اس کا ذہن مائوف ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ وہ نظر بظاہر Safe-Safe موضوعات کے بارے میں بھی اپنے خیالات کا برجستہ اور برملا اظہار کرنے کے بجائے اپنے کالم کے لئے لمبی تمہید باندھنا شروع ہوجاتا ہے۔ اس مدافعانہ تمہید کے باوجود اس کی تحریر ’’اگر-مگر‘‘ والا تاثر ہی پھیلاتی ہے۔ اشارے،کنائیے اور استعارے تحریر کو مزید بوجھل بنادیتے ہیں۔ اس میں ’’سادگی وپرکاری‘‘ والا ہنر برقرار نہیں رہتا۔صحافت کی مذکورہ تناظر میں ’’موت‘‘ بالآخر ’’جمہوری نظام ‘‘کے خاتمے کو بھی یقینی بناتی ہے۔

راولپنڈی کی لال حویلی سے اُٹھے بقراطِ عصر مذکورہ تحقیق کی روشنی میں شاید وجدان بھری گفتگو ہی فرمارہے ہیں۔اگست 2018 میں اقتدار سنبھالتے ہی عمران حکومت نے فواد چودھری صاحب کو ہمارے روایتی میڈیا کا ’’بزنس ماڈل‘‘ درست کرنے پر مامور کیا تھا۔ وہ ماڈل ’’درست‘‘ ہوگیا تو مجھ جیسے کالم نگار ’’اگرچہ کی روٹی مگرچہ کی دال‘‘ کے ساتھ کھانا شروع ہوگئے۔ “Unsayables” کا انبار جمع ہوگیا۔ اس کے بعد ’’جھاڑو‘‘ پھرنا تو لازمی ہے۔

اس ’’جھاڑو‘‘ کا انتظار اس لئے بھی لازمی ہے کیونکہ علم نجوم کے ماہرین اصرار کر رہے ہیں کہ 31 اکتوبر کا چاند Taurusجسے اُردو میں نجانے کیا کرتے ہیں ایک ’’خوفناک‘‘ سیارے یعنی یورینس کے ساتھ مل کر عقرب میں بیٹھے سورج کو بُری نظر سے دیکھ رہا ہوگا۔ اس کے نتیجے میں ایسی انہونیاں نمودار ہوسکتی ہیں جن کا تصور فی الوقت ذہن میں لانا عام انسانوں کے بس میں نہیں۔ 31 اکتوبر کا لہٰذا انتظار کرلیتے ہیں۔

بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

تعارف Moderator

یہ بھی چیک کریں

سابق وزیراعظم میر ظفراللہ خان جمالی راولپنڈی میں انتقال کرگئے

سابق وزیراعظم پاکستان میر ظفراللہ خان جمالی انتقال کرگئے۔ میر ظفراللہ خان جمالی دل کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے