منگل , 4 اگست 2020
ensdur
اہم خبریں

انوار جان کھیتران، اپنی قلم سے معاشرے میں بے آوازوں کی نمائندگی کرنے والے مقتول صحافی کے لواحقین انصاف کے منتظر

رپورٹ: گہرام اسلم بلوچ، بلوچستان بیسڈ جرنلسٹ

23 جولائی کی شام جب ایک طرف پاکستان کے دل اسلام آباد سے سنیئر جرنلسٹ مطیع اللہ جان کو نامعلوم افراد نے اغوا کیا اور شدید عوامی اور صحافتی ردعمل کے نتیجے میں انہیں ایک اور زندگی مل گئی، وہ 9 گھنٹے کے بعد معصوم صحافی اعزاز سید صاحب نے سوشل میڈیا کی توسط سے انکے چاہنے والوں کو یہ خبر سنائی کہ مطیع جان کو فتح جھنگ کے مقام پر رہا کر دیا گیا ہے۔ مگر اس سے جڑا ایک برا واقع بلوچستان کے ضلع بارکھان میں پیش آیا وہ اپنی نوعیت کا ایک مختلف سانحہ اس لیے تھا کہ،  وہاں نوجوان صحافی اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ انوار جان کھیتران کا گولیوں سے چلنی نعش ملی۔

یوں تو اگر دیکھا جائے تو پاکستان صحافیوں کے لیے روز اول سے ایک  خطرناک ملک رہا ہے مگر بلوچستان اس لیے  سب سے زیادہ  خطرناک ہے کہ یہاں صحافی اپنی  رسک میں رپورٹنگ کرتے ہیں اُن پہ جو کچھ ہوتا ہے نا میڈیا مالکان اُنکی مدد کرتے ہیں اور نا حکومتی سطح پر انکی تحفظ کے لیے کوئی اقدامات  کی جاتی ہے ۔  اب  تک ارشاد مستوئی کے قاتل قانون کے گرفت میں آگئے اور نا ہی  دوسروں کے۔ قبائل علاقوں میں یا تو ضمیر فروش صحافی پیدا ہوتے ہیں یا انور جان جیسے با ضمیر خود زندگی کے آخری دنوں تک اپنی قلم کی عظمت کو بلند کرنے میں اپنے پیشہ ورانہ اصولوں پہ قائم رہتا ہے اور انکی جنازہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ  وہ ایک سماج اور عوام کی  حقیقی آواز تھے۔

انور جان ایک ایسے کٹر قبائلی معاشرے میں اپنی قلم سے حق و سچائی کے لیے بولتے اور لکھتے تھے کہ جہاں سردار کے حکم کے بغیر کوئی پرندہ پر نہیں مارتا، بارکھان بلوچستان کا وہ ضلع ہے وہاں کے بارے میں کہاں جاتا ہے کہ وہاں سردار کھیتران کا ریاست کے اندر ایک اور سلطنت قائم کرچکا ہے، ظلم و جبر، پسماندگی کی بدترین مثالیں وہاں موجود ہیں مگر باوجود اس کے کہ کوئی اسکے بارے میں کچھ بول یہ لکھ سکے ۔ مگر  دنیا بھر میں یہ صحافی ہی ہوتے ہیں کہ اپنی جان و مال کی پرواہ کئے بغیر حق و سچائی کے لیے ہمیشہ بولتے اور لکھتے ہیں، انور جان بھی اُن آوازوں میں سے ایک  آواز تھے کہ ایک کٹر قبائلی معاشرے کے اندر سرداریت اور انکی رائج کردہ عوام دشمن پالیسوں کو ہمشہ للکارتے تھے۔

اس سلسلے میں بلوچستان گورنمنٹ کے ذمہداران نے ٹوئیٹر اور سوشل میڈیا پر تو ہمدردی کا اظہار کیا مگر عملی طور پر شاید وہ بھی بے بس ہیں۔  اس واقعے کے بعد میں نے اپنے  ایک دوست سے  اس سلسلے میں بات کی تو انکا کہنا تھا کہ ابھی تک صرف تین نامزد ملزمان کے خلاف  ایف ، آئی ، آر   ہوا ہے اور   اُس نے ایک مزے کی بات یہ بتائی کہ پچھلے ڈیڑھ سال  سے بارکھان میں نا اسسٹنٹ کمشنر ہے اور نا تحصیلدار ،  یہ پوسٹیں خالی پڑی ہیں۔  اگر ایسا ہے تو  حکومت بلوچستان کا انوار جان کے  لیے ٹوئیٹر پہ ہمدردی محض مگر مچھ کے آنسوں ہوسکتے ہیں۔ شہید انور جان کے قاتلوں کو کیفرکردار تک پہنچانے کے لیے ملک بھر کے صحافتی تنظیموں اور میڈیا اداروں کو ایک آواز ہونا ہوگا وگر نا یہ  سلسلہ  یہاں نہیں رکنے والا  یہ  قاتل بہت ساری  آوازوں کو ہمیشہ کے لیے خاموش کرتے رہیں گے۔  اگر کسی بھی معاشرے میں صحافی خاموش ہوگئے تو معاشرہ تو سمجھ لیں کہ معاشرہ تبائی کی جانب بڑھ رہی ہے ۔

انور جان ایک  بہادر اور با اصول صحافی تھے انکو انصاب دلانے سے  میں مزید انور جیسے جرات مند انسان پیدا ہوسکتے ہیں ، انکو انصاف نہ ملنے پر معاشرے میں  یہ خوفو حراس کا ماحول بڑتا جائے گا  اسی طرح معاشرے میں ظلم کے خلاف کوئی بولنے والا نہ رہ جائے گا۔حکومت کو چایئے کہ وہ  عوام کو قاتلوں کے رحم و کرم سے آزاد کر کہ شہید انور جان کے قاتلوں کی پوری گرفتاری اور کاروائی کو یقینی بنائے۔

مگر باوجود اس کے ابھی تک خاندان کی جانب سے درج کرائے ایف آئی آر کی بنیاد پر نامزد ملزمان کے خلاف کوئی قانونی کاروائی عمل میں نہیں آئی ہے۔

اس واقع کے بعد  عوام کے اندر یہ شعور ضرور بیدار ہوا ہوگا کہ  اب  اس پرسودہ سرداری نظام کے خلاف اس آواز کو ایک سرادریت کے خلاف ایک تحریک کا شکل دینا ہوگا۔  امید ہے  اس  وقت تمام سیاسی کارکناں جو خالصتا سیاسی جدوجہد کے پیداوار ہیں  وہ اس واقعے  کے خلاف  ہم آواز ہوکر  اس  سلطنت کی گرتی ہوئی دیوار کو ایک دہکا ضرور دیں،  کیونکہ انور جان بھی ہم سے تھا ، بقول انکے کہ انکا بھی کسی سے ذاتی دشمنی نہیں تھے۔ وہ بس ظلم کےخلاف مظلوم کے لیے ایک آواز تھے جو اب  ہم میں سے نہیں رہا مگر، اسوقت ضرورت اس امر کی  انور جان کی جنم دی ہوئی تحریک کو ہم سب نے اسکی پرورش کرنا ہوگا۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

پی ٹی آئی سوشل میڈیا ٹیم ہیڈ عمران غزالی وزارت اطلاعات کے ‘ڈیجیٹل میڈیا ونگ’ کے جنرل مینجر مقرر

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت کے میرٹ پر تعیناتیوں کے دعوے اقربا پروری …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے