منگل , 24 نومبر 2020
ensdur

انقلاب کب اور کیوں | اظہر حسن

تحریر: اظہر حسن
تحریر کی جانب پیش رفت سے پہلے میں یہاں انقلاب کا مطلب واضح کرتا چلوں کہ انقلاب سے کیا مراد ہے؟ انقلاب کے لغوی معنی ہیں تبدیلی جبکہ اصطلاح میں اس سے مراد ایک ایسی ریاست یا سماج ہے جس کو ہر طرح کی برائی نے جکڑ رکھا ہو۔ جہاں اکثریت کی حق تلفی ہو جبکہ اقلیت نے اپنا غاصبانہ قبضہ جما رکھا ہو۔ ایسے سماج میں ظالمانہ نظام کو بدل کر نظامِ عدل نافذ کرنے کا عمل انقلاب کہلاتا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انقلاب کی ضرورت کیوں پڑتی ہے اور انقلاب کیسے لایا جاتا ہے؟ ایک ایسی ریاست جہاں ایک اقلیتی طبقے نے اپنی طاقت اور سرمائے کے بل بوتے پنجے گاڑھ رکھے ہوں۔ جو اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر کے اکثریت کے حقوق غصب کر رہا ہو۔ اس اقلیتی اور مفاد پرست گروہ نے ایک ایسا نظام نافذ کر رکھا ہو جس سے ہر طرح کی برائی جنم لے رہی ہو۔ جہاں زندگی کو تحفظ حاصل نہ ہو۔ جہاں بے حیائی کا دور دورہ ہو۔ جہاں بوڑھوں، بچوں اور عورتوں پر مظالم ڈھائے جا رہے ہوں۔ جہاں شعور نام کو نہ ہو۔ جہاں لوگوں کو دو وقت کی روٹی کے پیچھے لگا کر ان کی زندگی اجیرن کر دی گئی ہو۔ جہاں غلامی اپنے عروج پر ہو۔ تو تب اس معاشرے میں موجود باشعور طبقے کا فرض عین بن جاتا ہے کہ وہ متحد ہو کر مظلوم لوگوں کو حقیقت کا ادراک کروائیں۔ جن لوگوں کی حق تلفی ہو رہی ہو ان کو یکجا کر کے اس بوسیدہ نظام اور ظالم اقلیتی گروہ کے مد مقابل لا کھڑا کریں۔ اور اس ظالم نظام کو نیست و نابود کر کے ایک ایسا معاشرہ جنم دیں جو عدل و انصاف کے ضوابط پر مبنی ہو۔
جس طرح حضرت علامہ اقبال علیه رحمه فرماتے ہیں
سلطانی جمہور کا آتا ہے زمانہ
جو نقشِ کُہَن تم کو نظر آئے مٹا دو
جس کھیت سے دہقاں کو میسّر نہیں روزی
اُس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو
اگر تاریخ کے اوراق پر نظر دوڑائی جائے تو ہمیں انقلاب کی کئ مثالیں ملتی ہیں۔ عالمِ اسلام کا انقلاب انسانیت کی تاریخ کا عظیم ترین انقلاب ہے۔ جس نے بغیر خون بہاۓ اپنا مقصد حاصل کیا۔ پیغمبرِ انقلاب ہادئ عالم حضرت محمد مصطفیٰﷺ  کی ولادتِ باسعادت سے قبل دنیا کے سماجی و معاشی نظاموں میں ظلم و استحصال کے باعث بنی نوع انسان کا دامن اخلاقِ حسنہ کے اعتبار سے تہی تھا۔ لیکن حضرت محمدﷺ  نے اپنے جمالِ خُلق اور کمالِ خَلق سے ایسے اعلیٰ اخلاقی معیار قائم کیے جن کی نظیر دنیا کی کسی تاریخ میں نہیں ملتی۔ آپﷺ نے اپنی جماعت کے ساتھ مل کر چند دہائیوں میں قیصر و کسریٰ کے ظالمانہ نظام کو نیست و نابود کر ڈالا۔ اور پوری دنیا پر اسلام کا پرچم سر بلند کیا۔ لہٰذا ہر دور کے لوگوں کے لیے آپﷺ کی اجتماعی و انقلابی زندگی بہترین نمونہ ہے۔
اس کے علاوہ بہت سی ایسی ریاستیں ہیں جیسے چین، ایران، روس اور کیوبہ جن پر طبقاتی اور ظلم و بربریت کا نظام قابض تھا لیکن وہاں کے باشعور گروہ نے ایک ہو کر اس نظام کا خاتمہ کر کے نظامِ عدل قائم کیا۔
آج ریاستِ اسلامی جمہوریہ پاکستان بھی ایسے ہی کسی انقلاب کی منتظر ہے۔اسکی حالت بھی ایک ظالمانہ نظام سے کچھ مختلف نہیں۔ اس پر بھی ایک اقلیتی گروہ نے غاصبانہ قبضہ جما رکھا ہے۔ یہاں بھی لوگوں کو بنیادی ضروریات کی فراہمی یکسر میسّر نہیں۔ یہاں بھی اکثریتی لوگوں کو جہالت و پستی کے عمیق گڑھوں میں دھکیل کر انہیں زمانۂ جاہلیت کی طرح مختلف برائیوں میں جکڑا جا رہا ہے اور اس کی آڑ میں مفاد پرست طبقہ اپنے عزائم میں کامیاب ہو رہا ہے۔ لہٰذا اس وقت ریاست میں موجود باشعور طبقے پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نظریۂ اسلام پر مبنی ایک ایسی جماعت تشکیل دے جو اِس ظالم گروہ اور نظامِ ظلم کو شکست دے کر ایک ایسا نظامِ عدل قائم کرے جو اسلامی اصولوں کے عین مطابق  ہو تاکہ ایک خوشگوار معاشرہ جنم لے سکے۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

اینٹی انکروچمنٹ میں تعینات خاتون اہلکار کا مرد اہلکاروں پر ہراسانی کا الزام

کراچی میں محکمہ اینٹی انکروچمنٹ میں تعینات خاتون اہلکار نے ادارے کے اکاؤنٹینٹ اور دیگر …

4 تبصرے

  1. Muhammad Arslan Mateen

    Thoughts are veru usefull the basic issue is literacy and lack of believe in Allah almighty alongwith these the lack of effort Also exist we are bearing the cruelity and somewhere we are also cruel beacause we are bearing it not acting against it.

    • بالکل ارسلان صاحب
      پر جس طرح تحریر میں بیان کیا گیا ہے مفاد پرست طبقہ سسٹم پر قابض ہو جاتا ہے اور اس وقت ہمارے معاشرے میں جو حالات و واقعات ہیں وہ اسی مفاد پرست گروہ کے پیدا کردہ ہیں
      لیکن ان سب کے باوجود دس فیصد لوگ حقیقت کا ادراک رکھنے والے موجود ہوتے ہیں بس انہیں کھنگالنے کی ضرورت ہے اور جلد یا بدیر اس گروہ اور نظام سے چھٹکارا پاسکتے ہیں۔۔۔۔۔۔

  2. بہت بہترین عکاسی کی یے آپ نے معاشرے کی اور قومی احوال کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے ۔ متفق آپکی ہر بات سے

  3. بہت خوب ۔۔۔ لکھنے کا ہنر جانتے ہیں آپ۔۔۔
    بے شک یہ معاشرہ گڑھے میں ہے اور بظام فرسودہ ہو چکا۔۔۔
    یہ ملک اب انقلاب چاہتا ہے اور دوسرا کوٸ حل نہیں۔۔۔
    اسکے لیے ہمیں ایک دوسرے کا دست بازو بننا ہوگا تبھی ممکن ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے