ہفتہ , 17 اپریل 2021
ensdur

امر جلیل ایک کہانی کار ہے | حسنین جمیل

تحریر: حسنین جمیل

وہ کہانی کار ہے اسکی اپنی ہی ایک دنیا جہاں وہ اور اسکے کردار بستے ہیں وہ ان کرداروں کو زبان دیتا ہے انکے منہ سے مکالمے ادا کرواتا ہے۔ اس عہد کا سچ ایک فکشن لکھنے والا اپنے کرداروں اور افسانوں کے ذریعہ بیان کرتا ہے فکشن کی زبان وہی سمجھ سکتا ہے جو فکشن کو پڑھتا ہو۔ فکشن کو سمجھتا ہو۔ فکشن کو جانتا ہو۔

یہ وہ صحرا ہے جس کے مسافروں کی مسافت طویل ہوتی ہے اس دشت میں ہر کوئی داخل نہیں ہو سکتا، امر جلیل بھی اسی دشت کہانی کا مسافر ہے وہ اپنی کہانیوں میں آج کے دور کے موضوع بیان کرتا ہے ،کوہی بھی تحلیق کار اپنے کردار اسی سماج سے لیتا ہے کرہ ارض کے مساہل پر بات کرتا ہے اس کے کردار چاند سے یہاں دوسرے سیاروں سے سے نہیں آتے۔

اگر اس بات کو اردو زبان کے عظیم افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کی زبان میں بیان کروں تو یوں کہوں گا کہ: اگر آپ کو میرے افسانے ناقابل برداشت لگتے ہیں تو اس کا مطلب ہے سماج ناقابلِ برداشت ہے جو خامیاں آپ کو میری تحریروں میں نظر آتی ہیں وہ دراصل اس معاشرے کی خامیاں ہیں،: لہزا ہم کو کسی فکشن لکھنے والا کی ذات پر کیچڑ اچھالنے سے پہلے اپنے گریبان چاک کرنا چاہیے اپنے معاشرے کا پوسٹ مارٹم کرنا چاہیے ،ادہب سماج کا ایکسرے کرتا ہے وہ اپنی تحریروں میں سماج کا عکس دکھاتا ہے ،ہی امر جلیل نے کیا ہے کیا اس نے اپنی کہانی میں اس سماج کے ایک سچ کو بیان نہیں کیا اگر اس نے جھوٹ بولا ہے تو اس کو جھوٹا ثابت کریں خدا را اسکی ذات پر کیچڑ نہ اچھالیں بنام مذہب اس پر تمہت نہ لگائیں ،کیا آپ ایک اور سلمان تاثیر جسا واقعہ چاہتے ہیں پھر بنام مذہب ایک قتل چاہتے ہیں ،اخر کیوں ہم اپنے سماج کو اس قدر ناقابل برداشت کیوں بنا رہے ،ازادی اظہار پر اس قدر قدغن کیوں لگا رہے ہیں اپنی مرضی کا سچ کیوں سننا چاہتے ہیں۔

ہم نے اس سماج کو ناقابل برداشت بنا دیا ہے پہلے سرمد سلطان کھوسٹ کی فلم ،زندگی تماشا بنی، کو ریلیز نہیں ہونے دیا وہ فلم بین الاقوامی سطح پر دیکھی جا رہی ہے پسند کی جا رہی ہے مگر ہم نے اپنے ملک میں پابندی عائد کر دی سب ہی کچھ امر جلیل کے ساتھ کیا جا رہا ہے کیا اس معاشرے میں تحلیق کار کے کویی جگہ نہیں رہے گی کیا ،ساحر لدھیانوی اور قرہ العین حیدر نے ٹھیک کیا تھا جو ادھر سے کوچ کر گئے تھے لیا امر جلیل اور سرمد سلطان کھوسٹ بھی ہی کریں۔

خدارا ایسا نہ کریں یہ تحلقیات کرنے والوں کی وکٹ ہے ان ہی کھلنیے دیں ،یہ آپ کا کام نہیں ہے آپ نہیں کر سکتے آپ کے اخبار کی شہ سرخی کسی افسانہ نگار کی جان لے سکتی ہے ،ابھی رو خون ناحق سلمان تاثیر کی خون کی سرخی آسمان سے خشک نہیں ہوہی ،کیا ایک اور خون ناحق آپ چاہتے ہیں ،ازادی اظہار کا حق اگر معاشرے سے ختم کر دیا جائے تو وہ سماج ایک جنگل بن جاتا ہے جہاں خون آشام درندوں کی حکومت ہوتی ہے وطن عزیز کو خون آشام جنگل نہ بنائیں ،اس کو انسانوں کا ملک رہنے دیں جہاں سوچنے سمجھنے والے انسان بستے ہوں وہ ایک دوسرے کی بات سنیں بحث ومباحثہ کریں ایک دوسرے کو دلیل سے غلط ثابت کریں نہ کہ بنام مذہب ایک دوسرے پر قتل کے فتویٰ لگائیں ،یہاں افسانے لکھیں جاہیں ناول لکھیں جاہیں شاعری ہو فلمیں بنے ڈرامے بنیں ،ہم ان پر بحث کریں بطور ناقد ان پر گفتگو کریں مضامین لکھیں اور آنے والی نسلوں کو ایک بہتر پاکستان دے کر جاہیں ،خدرا سوچیں کہیں اسیا نہ ہو کہ آپکی اس تمت بازی ایک افسانہ نگار کی جان لیں لے۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

محکمہ داخلہ نے کالعدم ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی کا شناختی کارڈ بلاک کردیا گیا

کالعدم تنظیم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی)کے سربراہ سعد رضوی کا شناختی کارڈ بلاک …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے