جمعہ , 10 جولائی 2020
ensdur
CORONAVIRUS PAKISTAN
243599
  • Sindh 100900
  • Islamabad 13829
  • KP 29406
  • Punjab 85261
  • Balochistan 11052
  • GB 1619
  • AJK 1485
  • DEATH 5058

افغانستان پر سامراج کی یلغار کے 200 سال, قسط نمبر 5 | شہباز ستوریانی

تحریر: شہباز ستوریانی

افغانستان پر سامراج کی یلغار کے 200 سال
قسط نمبر 5
(احوال خاندانِ احمد شاہ درانی اور بارکزئی)
پیچھلے کالم میں اس کمی کو شدد سے محسوس کیا کہ جب تک احمد شاہ بابا کے خاندان اور بارکزئی قبائل کی باہمی ناچاکیوں پر کچھ نہیں لکھ پاتا تب تک شاید پڑھنے والے بعد کے پیدا شدہ حالات کے وجوہات کو نہیں جان سکینگے۔ خصوصا” شاہ شجاع اور رنجیت سنگھ کا احوال اس لیے پہلی انگلو افغان جنگ سے پہلے کے حالات لکھنا ضروری سمجھا۔
احمد شاہ درانی/ احمد شاہ ابدالی جنہیں جدید افغانستان کا بانی بھی کہا جاتا ہے اور انہیں احمد شاہ بابا کے نام سے یاد کیا جاتا ہے احمد شاہ بابا 1722 میں ہرات میں پیدا ہوئے اور اس وقت افغانستان پر ھوتک غلجی افغان قبائل کی حکومت تھی سن 1738 میں فارسی ھوتک قبائل سے بادشاہت ایک فارسی بادشاہ نادر شاہ افشار نے چھین لی اور ( Afshrid Dynsty) قائم کردی۔
احمد شاہ بابا پہلے پہل نادر شاہ افشار کی فوج میں ایک سپاہی کے طور پر بھرتی ہوئے لیکن بہت ہی جلد اپنی قابلیت اور شجاعت کی وجہ سے نادر شاہ افشار کی فوج کے مشہور رجمنٹ ابدالی کے کمانڈر بنا دیے گئے۔ ابدالی رجمنٹ میں اس وقت چار ہزار کے قریب فوجی تھے
1747 میں جب نادر شاہ آفشار کو انکی اپنی فوج کے کچھ لوگوں نے قتل کردیا تو اس وقت احمد شاہ ابدالی نادر شاہ آفشار کی حفاظت کیلیے پہنچے لیکن نادر شاہ آفشار کو پہلے ہی قتل کیا جاچکا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ احمد شاہ بابا نادر شاہ آفشار کی میت کے ساتھ ٹھہر کر رو اور افسوس کیا کہ انہیں بچا نہیں سکے۔
احمد شاہ بابا نے نادر شاہ آفشار کی انگلی سے بادشاہ کی مہر والی انگوٹھی اتاری انکے ہاتھ سے بندھے ہوئے ” کوہ نور” کے ہیرے کو اتارا اور اپنی رجمنٹ کی فوج لیکر کندھار کی طرف کوچ کیا۔ نادر شاہ آفشار کی باقی ماندہ فوج نے بھی احمد شاہ ابدالی کو اپنا سربراہ مان لیا۔
کندھار پہنچتے ہی احمد شاہ بابا نے افغان قوم کو ایک بار پھر اپنا افغان وطن آزاد کرنے کی تجویز پیش کی جس کے ساتھ ماسوائے کچھ غلجی سرداروں کے سب افغان نے اتفاق کیا یوں احمد شاہ بابا درانی سلطنت کا اعلان کیا اور خود درانی سلطنت کے پہلے بادشاہ بن گئے۔
انکی بادشاہت کا دورانیہ 1747 سے لیکر 1772 تک رہا اور اس دور میں جتنے بھی افغان علاقے پچھلے وقتوں میں مغلوں، ایرانیوں نے قبضہ کیے تھے ناصرف یہ کہ انہوں نے وہ علاقے آزاد کئے بلکل انکی سلطنت میں ایران کے علاقے مشہد کے علاوہ لاہور، کشمیر اور شمالی ہندوستان کا بہت علاقہ بھی شامل ہوچکا تھا یوں درانی سلطنت دریائے آمو سے لیکر بحرہ عرب کے ساحل تک پھیل چکی تھی۔ آپ نے کم و بیش سات حملہ صرف ہندوستان پر کیے جن میں مشہور پانی پت کے معرکہ بھی شامل ہیں۔ یہاں یہ بتانا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ وہ افغان علاقے( کابل، غزنی وغیرہ) جن پر ان افغان کی حکومت تھی جو احمد شاہ بابا کی بادشاہت کو تسلیم نہیں کرتے تھے انہیں بھی احمد شاہ بابا نے فتح کرکے درانی سلطنت کا حصہ بنایا۔
احمد شاہ بابا کا انتقال 1772 میں ہوا۔
انکی عظمت کا ہر افغان آج بھی شاہد ہے
آپ کے بعد آپ کے بیٹے تیمور شاہ درانی سلطنت/افغانستان کے بادشاہ بنے۔ انکی حکومت کا دورانیہ 1772 سے لیکر 1793 تک ہے تیمور شاہ درانی کی بادشاہت کے دوران افغانستان اندرونی اختلاف کی آماجگاہ رہا تیمور شاہ درانی کے اپنے گھر میں بھی اختلاف جنم لے چکے تھے اس لیے انہوں نے اپنے چچا عبدالقادر خان درانی کو آکوڑہ خٹک بدر کردیا ۔
وہ سلطنت درانی کے درالخلافہ کو قندھار سے بدل کر کابل لے آئے۔ تیمور شاہ درانی کی دور حکومت میں افغانستان اور ہندوستان کے ہندووں اور اکھیوں کے درمیان متواتر جنگیں رہیں لیکن کافی حد تک احمد شاہ بابا کے سلطنت درانی کے حدود قائم رہے اور کچھ علاقے علیحدہ بھی کئے گئے۔ تیمور شاہ درانی نے پہلی بار پشاور کو سردیوں کے موسم کے درالخلافہ کے طور پر استعمال کیا جوکہ 1818 تک سردی کے موسم کا درالخلافہ رہا اور بعد میں راجہ رنجیت سنگھ نے پشاور پر قبضہ کر لیا۔
تیمور شاہ کے بعد سلطنت درانی/افغانستان کے بادشاہ شاہ زمان درانی بنے۔ شاہ زمان درانی، تیمور شاہ درانی کے 24 بیٹیوں میں سے ایک تھے۔ شاہ زمان درانی نے بادشاہت کیلئے اپنے بھائیوں اور تمام مخالفین کے ساتھ حساب برابر کرنے کی بعد بادشاہت سنبھالی لیکن ایک محمود شاہ درانی نے کچھ زیادہ مزاحمت کی تو انہیں ہرات کا گورنر بنادیا گیا۔ شاہ زمان درانی نے یہ سب کچھ بارکزئی افغان سردار پابندہ خان کی مدد سے کیا۔
1801 میں ہرات کے گورنر اور شاہ زمان کے سوتیلے بھائی محمود خان درانی نے پائندہ خان درانی کے بیٹے سردار فتح خان کی مدد سے شاہ زمان کو بادشاہت سے ہٹا خود بادشاہت سنبھال لی۔ محمود خان 1803 تک بادشاہ رہے ۔
1803 میں شاہ شجاع درانی نے اپنے بھائی محمود خان سے بادشاہت لی اور خود بادشاہ بن گیا 1809 تک شاہ شجاع افغانستان کے بادشاہ رہے۔
1809 میں ایک بار پھر محمود خان درانی افغانستان کے بادشاہ بنے اور شاہ شجاع ہندوستان بھاگ گئے جہاں انہیں ایسٹ انڈیا کمپنی سے وظیفہ ملتا رہا۔ محمود خان درانی سردار فتح خان بارکزئی کو قتل کروا دیا۔ 1818 تک محمود خان درانی افغانستان کے بادشاہ رہے۔
1818 میں علی شاہ درانی ایک سال کیلیے افغانستان کے بادشاہ بنے اور 1819 سے لیکر 1823 تک ایوب شاہ درانی افغانستان کے بادشاہ رہے۔
1823 میں پہلی بار سردار پائندہ خان بارکزئی کے بیٹے اور سردار فتح خان بارکزئی کے بھائی نے درانی افغان سے حکومت لیکر بارکزئی افغان کی حکومت قائم کی۔ انکی پہلی حکومت 1823 سے لیکر 1838 یعنی پہلی انگلو افغان جنگ تک قائم رہی۔ احمد شاہ بابا کی موت کے بعد 1838 تک افغانستان خانہ جنگی اور تخت کی کشمکش میں رہا جب کہ دوسری طرف پنجاب میں سکھ سلطنت سر اٹھانے لگی۔
پنجاب کے سکھ گزشتہ 200 سال سے جہاں بطور مذہب پنجاب میں پھیلتے جارہے تھے وہاں انکے ذہین میں اپنی سلطنت کا خیال بھی پیدا ہوتا گیا جوکہ راجہ رنجیت سنگھ کی پیدائش کے بعد زندہ تعبیر ہوا۔ وہ پنجاب جو ہمیشہ افغان، مغلوں اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے زیرعتاب رہا راجہ رنجیت سنگھ کی آماد کے بعد بطور ریاست سر اٹھانے لگا۔ جن وقتوں میں افغان باہمی کشمکش میں مبتلاء تھے انہی دنوں راجہ رنجیت سنگھ پے در پے جنگوں اور حملوں سے احمد شاہی افغانستان کے علاقوں کو پنجاب کے علاقوں کے ساتھ ملاتا رہا اور قبضہ کرتا رہا یہاں تک کہ ملتان، سندھ، کشمیر کے بعد جمرود تک راجہ رنجیت سنگھ کی حکومت قائم ہوگی۔ راجہ رنجیت سنگھ نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے باہم تعاون کے معاہدے کیے اور دونوں نے ملکر افغانستان کو کمزور کرنے کی روش جاری رکھی۔ پہلی انگلو افغان جنگ کے بعد جب ایک بار پھر شاہ شجاع کو افغانستان لایا گیا تو راجہ رنجیت سنگھ اور برطانیہ کی ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرف لارڈ اکلینڈ ( lord Aucland) کے ساتھ معاہدہ کیا جیسے ( Tripartite Treaty ) کہا جاتا ہے۔ اس treaty کے تحت شاہ شجاع نے کشمیر، ملتان، سندھ، پشاور، بنوں، قبائلی علاقے اور دریائے سندھ کے ساحلی علاقے رنجیت سنگھ کو دے دیے اور بدلے میں افغانستان کی بادشاہت اور سالانہ کچھ روپے مانگ لیے۔ شاہ شجاع پھر 1838 سے لیکر 1842 تک بادشاہ رہے اور انکی موت کے ساتھ ہی انکی بادشاہت کا اختتام ہوگیا۔
احمد شاہ بابا نے جہاں تاریخی افغانستان کو متحد کیا وہاں ایک ایسا مربوط نظام لانے میں ناکام رہے کہ انکے بعد افغانستان اپنی حالت میں قائم رہ پاتا اور وہاں بادشاہت اور خانہ جنگی کے مسائل سر نا اٹھاپاتے۔ باہمی خانہ جنگی اور قبائلیت کی سوچ کی وجہ سے افغانستان اندرونی طور پر کمزور ہوتا رہا اور احمد شاہ بابا کا افغانستان ٹکڑوں میں تقسیم ہوتا رہا۔
نوٹ 1 : احمد شاہ بابا سے دوست محمد خان تک ہر موضوع اس قدر طویل اور بحث طلب ہے کہ 1747 سے لیکر 1838 تک کا جو دورانیہ میں نے اس کالم میں لکھا ہے اسکے ہر ایک سال پر ایک کتاب لکھی جاسکتی ہے خصوصا” احمد شاہ بابا کے 25 سال چونکہ یہ کسی کالم میں لکھنا ناممکن ہے اس لیے سرسری طور پر اتنا ہی لکھا جس سے گزشتہ اقساط میں پیدا ہونے والے سوالوں کا جواب مل سکے ۔۔
نوٹ 2: فرسٹ انگلو افغان جنگ کا احوال پہلی اقساط میں لکھ چکا ہوں اس لیے یہاں لکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔
نوٹ3: نیچے دو تصویر احمد شاہ بابا اور احمد شاہ بابا کے افغانستان کے اس وقت کے نقشے کی ہیں۔۔

چوتھی قسط کا لنک

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

پنجاب حکومت نے پورے سسٹم کا بیڑا غرق کر دیا،چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس قاسم خان نے لاہور ہائی کورٹ میں پنجاب حکومت …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے