پیر , 23 نومبر 2020
ensdur

اسلام اور فضول خرچی | لاریب مشتاق

تحریر: لاریب

ابھی کچھ دن قبل پاکستان کے دو امیر گھرانوں کی شادی ہوئی شادی کیا تھی یوں سمجھیں دولت کی نمائش تھی پیسہ پانی کی طرح بہایا گیا اور صحیح معنوں میں فضول خرچ کی گئی 200 ارب روپے کی اس شادی میں ملک کے نامور فنکار، علمائے دین اور سیاست دانوں نے شرکت کی. نہ ون ڈش کا قانون کسی کو یاد آیا اور نہ ہی دس بجے شادی کی تقریبات کو ختم کرنے کا عندیا دیا گیا…..

پاکستان کی تاریخ کی سب سے مہنگی ترین شادی نے ایک منٹ کیلئے حیران کر دیا. سوشل میڈیا پر تصاویر دیکھ کر حیرت بھی ہوئی اور بہت سے سوالات بھی ذہن میں آئے…..

وہ لڑکی کسی بہت ہی غریب گھرانے سے تعلق رکھتی تھی. باپ دیہاڑی دار مزدور تھا کسی  دن کام ملتا تھا تو کسی روز سارا دن چوک میں بیٹھ کر تھک ہار کر گھر واپس آ جاتا اس کی ماں بیمار تھیں جو ہر گھر میں رہتی اور کام کاج نہیں کر پاتی تھیں.  وہ سب سے بڑی تھی  بھائی سب سے چھوٹا تھا اور وہ پانچ بہں بھائی تھے. باپ کے سر پر گھر کے پانچ افراد کی ذمہ داری تھی. باپ نے اپنا پیٹ کاٹ کر اسے میٹرک تک تعلیم دلوائی اور پھر اسے کڑھائی سلائی کا ہنر سکھایا اور اب بس اس کے ہاتھ پیلے کرنے کی آس تھی. اول تو کوئی رشتہ نہیں آتا تھا اور جو آتا تھا وہ جہیز کی فرمائش کرتے تھے جہیز نہ دینے کی وجہ سے انکار ہوجاتا تھا……

انسان بظاہر گوشت اور مٹی سے بنا ہوا ہے مگر حقیقت میں یہ انسان بھیڑیے سے کم نہیں.. انسانوں کی شکل میں یہ بھیڑیے ہوتے ہیں جن کے اندر لالچ، خود غرضی بھری ہوتی ہے.. آج اس لڑکی کے بالوں میں سفید چاندنی نمودار ہونا شروع ہو گئی ہے. اور وہ سب بہنیں جہیز نہ دینے کی سزا کاٹ رہی ہیں. ہمارے معاشرے میں کتنی ہی لڑکیاں جہیز نہ دینے کی استطاعت کی وجہ سے شادی نہیں کر پاتیں کیونکہ آج کل کے انسانوں کو انسان نہیں دولت چاہیے جو کہ ایک لمحہ فکریہ ہے…

یہ صرف ایک کہانی نہیں ہے اس جیسی ہزاروں کہانیاں ہمیں روز سننے، پڑھنے اور دیکھنے کو ملتی ہیں.. کہیں لڑکیاں صبر کا گھونٹ پی کر پوری زندگی والدین کر گھر کی دہلیز پر گزار دیتی ہیں… اور کہیں عدم برداشت اور پریشانی کے باعث موت کو گلے لگا لیتی ہیں….

یہ تو  کہانی کا ایک رخ تھا اب دوسرا رخ ملاحظہ فرمائیں. ایک ایسی شادی  جہاں پیسہ پانی کی طرح بہا دیا گیا ہے. جہاں فنکاروں کو اپنے فن کا مظاہرہ کرنے پر پچپن لاکھ روپے کی ادائیگی کی گئی. ڈیکوریشن، فوٹوگرافی، ملبوسات، کھانے پینے کے لوازمات اور اس کے علاوہ کراکری پر پیسہ پانی کی طرح بہایا گیا…. ایک طرف ایک غریب کی بیٹی دولت نہ ہونے کی وجہ سے بڑھاپے کو گلے لگا رہی ہے اور دوسری طرف ایسی شادی کہ عقل دنگ رہ گئی ہے… اس معاشرہ میں امیر انتہا کا امیر اور غریب انتہا کا غریب ہو گیا ہے… اور اب یہ فضول خرچیاں شادی بیاہ کی تقریبات سے لیکر عام زندگی میں بھی آنا شروع ہو گئی ہے….

اسلام میں بھی فضول خرچی کی ممانعت کی گئی ہے… سورہ الاعراف میں اللہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے کہ

“اور کھاؤ اور پیو اور حد سے زیادہ خرچ نہ کرو کہ بیشک وہ بے  جا خرچ کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا. ”

سورہ بنی اسرائیل میں فرمایا

“اپنا مال فضول خرچی سے مت اڑاءو بیشک فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں، اور شیطان اپنے رب کا بڑا ہی ناشکرا ہے. ”

نبیٔ اکرم ﷺنے فرمایا:

’’ اور ( اللہ تعالیٰ نے ) تمہارے لیے بری اور فضول باتوں ، کثرت سوال اور دولت کے ضیاع کو نا پسند کیا ہے ۔ ‘‘(صحیح بخاری )

افسوس کہ قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں ہمیں فضول خرچی سے جتنی تاکید کے ساتھ روکا گیا تھا ، اس کا احساس بھی ہمارے دلوں میں نہیں رہا ۔

ہم اپنی تقریبات میں پیسہ ضائع کرنا فخر سمجھتے ہیں…..

اگر یہی پیسہ کسی غریب کی بیٹی کی شادی کیلیے استعمال کیا جائے تو اس ملک میں کسی بھی غریب کی بیٹی اپنے والدین کے گھر پر بوڑھی نہ ہو…..

اللہ ہمیں صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو آمین.

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

خس و خاشاک سے کم تر راستے کا پتھر، مگر کون؟ | احسان ابڑو

تحریر: احسان ابڑو پشاور میں پی ڈی ایم کے ایک اور عظیم الشان جلسے نے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے