ہفتہ , 17 اپریل 2021
ensdur

استعفے، لانگ مارچ اور سینٹ الیکشن | آفتاب احمد گورائیہ

تحریر: آفتاب احمد گورائیہ

پچھلے کوئی دو ماہ سے اسمبلیوں سے استعفی دینے کے معاملے کو لے کر پیپلزپارٹی کے خلاف پروپیگنڈہ کا ایک طوفان کھڑا کیا گیا ہے۰ کبھی کہا جاتا رہا کہ پیپلزپارٹی ڈبل گیم کر رہی ہے اور پیپلزپارٹی کبھی بھی سندھ حکومت سے استعفی نہیں دے گی۰ کبھی کہا گیا کہ پیپلزپارٹی ڈیل کر چکی ہے اور اگر پی ڈی ایم اپنے مقصد کو حاصل کرنے میں سنجیدہ ہے تو اسے پیپلزپارٹی کو پی ڈی ایم سے نکال باہر کرنا چاہیے۰ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس پروپییگنڈہ کو پھیلانے میں پی ڈی ایم کے کچھ دوست بھی برادرانِ یوسف کا کردار ادا کرتے نظر آئے۰ اس کے علاوہ کچھ ایسے لفافہ بردار صحافی بھی اپنا قلم بیچتے نظر آئے جو بظاہر تو پی ڈی ایم کے ہمدرد بن کر پیپلزپارٹی کے خلاف اپنے اذلی بغض کا اظہار کرتے رہے لیکن ان کا اصل ایجنڈا پی ڈی ایم میں پھوٹ ڈلوا کر حکومت کے ہاتھ مضبوط کرنا تھا۰ ایسے تمام حاسدینِ پیپلزپارٹی کے لیے عرض ہے کہ پیپلزپارٹی ہی وہ جماعت ہے جس نے پی ڈی ایم کی بنیاد رکھی ہے ورنہ مولانا اپنی سولو فلائیٹ والے لانگ مارچ اور دھرنے کے بعد مایوسی کا شکار تھے اور ن لیگ کی قیادت بھی مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے تھی۰ یہ پیپلزپارٹی ہی تھی جس نے آل پارٹیز کانفرنس کے ذریعے اپوزیشن کو اکٹھا کیا اور پی ڈی ایم کی بنیاد رکھی۰ یہ پیپلزپارٹی ہی تھی جس نے اپوزیشن کو مایوسی سے نکالا اور خاموشیوں کو زبان دی۰ پی ڈی ایم کو بنانے والی ہی پیپلزپارٹی ہے اس لئے پیپلزپارٹی کو پی ڈی ایم سے کون باہر نکال سکتا ہے اور ڈیل کی بات کرنے والوں کو یہ یاد دلانا بھی ضروری ہے کہ پیپلزپارٹی کی تاریخ ڈیل سے نہیں بلکہ جمہوریت کے لیے دی جانے والی قربانیوں سے عبارت ہے۰

آل پارٹیز کانفرنس کے اعلامیے اور پی ڈی ایم کے مقاصد میں کہیں بھی اس طرح بغیر سوچے سمجھے استعفے دینے کا ذکر نہیں ہے بلکہ اپوزیشن تحریک کے دوران جلسے جلوس کے ذریعے عوام کو متحرک کرنے کے بعد لانگ مارچ، عدم اعتماد سمیت تمام حربے آزمانے کا فیصلہ کیا گیا اور کہا گیا کہ پھر اگر ضرورت پڑی تو آخری حربے کے طور پر اسمبلیوں سے استعفے دینے کا فیصلہ بھی کیا جا سکتا ہے لیکن استعفوں کا فیصلہ پی ڈی ایم کے فورم پر تمام جماعتوں کی رضامندی اور مجموعی حالات کو دیکھنے کے بعد کیا جائے گا کسی ایک جماعت یا فرد کی خواہش پر استعفے دینے کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۰

بغیر سوچے سمجھے اور سیاسی حالات کا ادراک کیے بغیر استعفے دینے کا سیدھا سیدھا مطلب یہ ہے کہ اپنے ہاتھ کاٹ کر حکومت کو دے دئیے جائیں پھر حکومت کی مرضی ہے کہ اس کے حمایت یافتہ کٹھ پتلی سپیکر استعفے منظور کریں یا نہ کریں اور جیسا کہ پی ٹی آئی کے دھرنے کے دوران دئیے جانے والے پی ٹی آئی کے استعفے سپیکر قومی اسمبلی نے منظور نہیں کیے تھے اسی طرح پی ڈی ایم کے استعفے بھی ہوا میں لٹکے رہیں اور اپوزیشن کے ہاتھ کچھ بھی نہ آئے الٹا حکومت اس معاملے پر اپوزیشن کو بلیک میل کرنا شروع کردے۰ سندھ اسمبلی سے استعفے دینے کا معاملہ اور بھی زیادہ نازک ہے کیونکہ وہاں استعفے دینے کے بعد پیپلزپارٹی کے سپیکر کو انہیں بادل نخواستہ قبول کرنا پڑے گا اور اکثریت کے استعفوں کے بعد گورنر راج یا وزیراعلی کی طرف سے اسمبلی توڑنے کی صورت میں ملک کا واحد صوبہ جہاں اپوزیشن کی حکومت ہے اس کا اقتدار پیپلزپارٹی سے لے کر سلیکٹڈ ٹولے کو دینے کے سوا اور کوئی نتیجہ نکلتا نظر نہہں آتا۰ اس صورتحال میں کہ سندھ گورنر راج کے ذریعے سلیکٹڈ ٹولے کے پاس چلا جائے اور قومی اسمبلی سمیت باقی اسمبلیوں کے استعفے ان اسمبلیوں کے سپیکر حضرات منظور نہ کریں تو اپوزیشن کو اس سے کیا فائدہ حاصل ہو گا اس کا جواب شائد استعفوں کے حامیوں میں سے کسی کے پاس نہیں ہو گا۰

ان حالات میں جب ملک کا وزیراعظم سندھ کو اپنا صوبہ تسلیم کرنے سے انکاری ہو، وفاق کی نظر سندھ کے جزائر اور وسائل پر ہو ایسی صورت میں سندھ کی حکومت کو چند سیاسی نابالغوں کی خواہش پر چھوڑ کر سلیکٹڈ ٹولے کے حوالے کر دینا سندھ کے عوام سے دشمنی کے سوا کچھ نہیں۰

چند سیاسی ناعاقبت اندیش اور جلد باز حلقوں کی جانب سے صرف استعفوں پر ہی زور نہیں دیا جاتا رہا بلکہ ضمنی الیکشن اور سینٹ الیکشن کے بائیکاٹ کے مشورے بھی دئیے جاتے رہے ہیں۰ درحقیقت یہ جمہوری قوتوں کو جمہوری ایوانوں سے باہر کرنے کا ایجنڈا ہے۰ یہ وہی ایجنڈا ہے جو دو ہزار سات میں اے پی ڈی ایم کے وقت بھی تھا جسے پہلے محترمہ بینظیر بھٹو شہید اور محترمہ کی شہادت کے بعد آصف علی زرداری نے میاں نواز شریف کو انتخابات کا بائیکاٹ نہ کرنے پر آمادہ کر کے ناکام بنایا تھا تب مشرف کو مضبوط کرنے کیلئے سازش کی گئی تھی۰ اب بھی کھیل وہی ہے جو نئے کرداروں کے ذریعے کھیلا جا رہا ہے اور اس کھیل کا مقصد اٹھارویں ترمیم کو رول بیک کرنا اور این ایف سی ایوارڈ کا خاتمہ ہے۰ پی ڈی ایم میں شامل کچھ جماعتیں بھی شروع میں اس کھیل کو نہ سمجھ سکیں اور اس کھیل کا حصہ بننے کے لیے تیار نظر آئیں۰ ایسے میں ایک دفعہ پھر پیپلزپارٹی ہی قائدانہ سیاسی کردار ادا کرتی نظر آئی اور دلائل کے ساتھ پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں اپنا موقف رکھا جس کو پی ڈی ایم کی سب جماعتوں نے نہ صرف تسلیم کیا بلکہ اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ پیپلزپارٹی کے دلائل میں وزن ہے اور ضمنی الیکشن اور سینٹ الیکشن سے باہر رہنا سیاسی خودکشی کے مترادف ہو گا۰ دوسرے لفظوں میں سینٹ الیکشن کے بائیکاٹ کا سیدھا سیدھا مطلب ہو گا کہ ایوان بالا میں حکومت کو دو تہائی اکثریت دلا دی جائے تاکہ وہ آسانی سے اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کو رول بیک کر سکے۰

پی ڈی ایم کے حالیہ اجلاس میں تمام اپوزیشن جماعتیں پیپلزپارٹی کے موقف سے اتفاق کرتے ہوئے سینٹ میں مشترکہ امیدوار کھڑے کرنے پر رضامند ہو چکی ہیں۰ پی ڈی ایم کے اس فیصلے سے حکومت واضح طور پر بوکھلاہٹ کا شکار نظر آتی ہے جس کی ایک جھلک قومی اسمبلی کے پچھلے اجلاس کے دوران نظر بھی آئی۰ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ جہاں اپوزیشن کی طرف سے سینٹ کے الیکشن میں مشترکہ امیدوار کھڑے کرنے سے اپوزیشن کے ووٹ ضائع ہونے سے بچ جائیں گے اور اپوزیشن سینٹ الیکشن میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتی ہے وہاں حکومت کو اپنے ارکان اسمبلی کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۰ پنجاب اسمبلی میں تو حکومتی ارکان کا ایک گروپ سامنے بھی آ چکا ہے جو سینٹ میں حکومتی امیدواروں کو ووٹ دینے سے انکار کر چکا ہے جبکہ ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی میں بھی بیس پچیس ارکان مبینہ طور پر پیپلزپارٹی سے رابطے میں ہیں۰ اگر اپوزیشن قومی اسمبلی سے منتخب ہونے والے اراکین سینٹ کے لیے متفقہ امیدوار لے کر آتی ہے تو قومی اسمبلی سے سینٹ کے حکومتی امیدواروں کو سخت مقابلہ درپیش ہو سکتا ہے اور اگر اپوزیشن قومی اسمبلی سے سینٹ کے انتخاب میں کوئی سرپرائز دینے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ حکومت کے خلاف عدم اعتماد کا ٹریلر ثابت ہو گا۰

پی ڈی ایم کے مجوزہ لانگ مارچ جس کے آغاز کے لیے چھبیس مارچ کی تاریخ رکھی گئی ہے کہ اس دن تمام ملک سے قافلے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوں گے اس کے اغراض و مقاصد کس حد تک پورے ہوتے ہیں اس بات کا فیصلہ تو وقت ہی کرے گا لیکن ایک بات طے ہے کہ پی ڈی ایم کے لانگ مارچ کو بھرپور عوامی تائید حاصل ہو گی کیونکہ عوام مہنگائی اور بیڈ گورننس سے تنگ آچُکے ہیں اور حکومت اپنے بلنگ بانگ دعووں اور وعدوں کو پورا کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۰ حکومت کے لئے لانگ مارچ میں ملک بھر سے شامل ہونے والے پیپلزپارٹی، ن لیگ اور دیگر اتحادی جماعتوں کے پرجوش کارکنان کے سِیل رواں کو روکنا آسان نہیں ہو گا۰ ایک طرف اگر لانگ مارچ حکومت کے لیے بڑا امتحان ہو گا تو دوسری طرف یہ لانگ مارچ پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے نوجوان قائدین بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز کے لیے بھی اتنا آسان نہیں ہو گا۰ لانگ مارچ اسلام آباد پہنچنے کے بعد اپنا ہدف کیسے حاصل کرے گا اس کے لیے بہت زیادہ سوچ سمجھ کر چلنے کی ضرورت ہے کیونکہ پاکستان میں لانگ مارچ اور دھرنے تو پہلے بھی ہوتے رہے ہیں لیکن ان کے نتیجے میں کسی حکومت کے جانے کی روایت موجود نہیں ہے۰ اس کے علاوہ یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ یکم اپریل کو لانگ مارچ اسلام آباد پہنچے گا اور اپریل کے دوسرے ہفتے سے رمضان المبارک کا بھی آغاز ہو جائے گا۰ یقیناً پی ڈی ایم کی قیادت نے لانگ مارچ کا فیصلہ کرتے وقت اس پہلو پر بھی ضرور غور کیا ہو گا۰ اس کے علاوہ لانگ مارچ کے خلاف حکومت کی جانب سے سخت مزاحمت بھی متوقع ہے۰ اپوزیشن کو نہ صرف اس مزاحمت کے لئے تیار رہنے کی ضرورت ہے بلکہ صف اوّل کی قیادت کی گرفتاری کی صورت میں پلان بی اور پلان سی بھی تیار رکھنا چاہیے تاکہ قائدین کی گرفتاری کی صورت میں کارکنوں کا مورال بھی بلند رکھا جا سکے اور لانگ مارچ بھی آگے بڑھتا رہے۰

Twitter: @GorayaAftab

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

محکمہ داخلہ نے کالعدم ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی کا شناختی کارڈ بلاک کردیا گیا

کالعدم تنظیم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی)کے سربراہ سعد رضوی کا شناختی کارڈ بلاک …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے