پیر , 6 جولائی 2020
ensdur
CORONAVIRUS PAKISTAN
233526
  • Sindh 96236
  • Islamabad 13494
  • KP 28116
  • Punjab 81963
  • Balochistan 10814
  • GB 1561
  • AJK 1342
  • DEATH 4808

ادب ہمیں زندگی کو جینے کا گُر سکھاتا ہے یا اسے جھیلنے کا فن | تنزیلہ مغل

تحریر: تنزیلہ مغل

مجھے ہمیشہ ایسے قاری سے خوف آتا ہے جنہوں نے کبھی کتابوں کا اتنا خاص مطالعہ نہ کیا ہو اور خاص طور سے ادبی کتب کا. ادب کی دنیا انتہائی وسیع ہے اور دیکھا جاتا ہے کہ بسا اوقات قاری کی ذہنی دنیا بہت محدود ہوتی ہے اور وہ کسی بھی تحریر کی تشریح میں تنگ دلی سے کام لیتے ہیں اور مذہبی مثالیں دے کر تحریر کے اصل معنی کو گڈ مڈ کر دیتے ہیں.
کسی بھی ریاست کا سیاسی نظام ریڑھ کی ہڈی کا کام کرتا ہے مگر افسوس اس بات کا ہے کہ بہت سے ممالک عوام کے حقوق کے معاملے میں انصاف نہیں کرتے. یونانی فلسفی افلاطون نے چوتھی صدی قبل مسیح میں اپنی تصنیف ‘Republic’ اور ٹامس مور نے سن 1516ء عیسویں میں ‘Utopia’ میں ایک ایسے معاشرے کا تصور دیا ہے جس کی بنیاد عدل و انصاف پر رکھی جائے کہ بھوک و افلاس کا خاتمہ ہو اور ہر انسان کو تمام بنیادی سہولتیں برابر میسر ہوں.
ہوتا یہ ہے کہ ایسے قاری کے دماغ کے اپنے من پسند مذہبی احکامات اور اپنی من پسند تشریح بھی ہوتی ہے. یہ سزا اور جزا کا فیصلہ بھی کرنے لگتے ہیں اور دین کے حوالے سے اضافی اور من گھڑت باتیں بنا کر مذہب کی ایسی شکل تیار کرتے ہیں کہ دم گھٹنے لگتا ہے. گھٹ گھٹ کر زندگی گزارنے کی ایسی پکی رسم چلاتے ہیں کہ پھر چوری ، ڈکیتی ، جسم فروشی اور زنا جیسے چال چلن کو فروغ ملتا ہے کیونکہ ایسے گُھٹے ہوئے معاشرے میں ہر کوئی ظاہری طور پر پاکباز نظر آنے کی شدید خواہش کے عارضے مبتلا ہو جاتا ہے اور منافقت عروج پکڑ لیتی ہے. بنیادی طور پر تمام مذاہب اخلاقیات پر مبنی طریقِ زندگی کا درس دیتے ہیں جن پر عمل کر کے انسان کی ذہنی و جسمانی صحت اچھی رہ سکتی ہے. اور ایک ادیب اپنے اوپر کچھ ایسی ہی ذمہ داری لے لیتا ہے کہ انسانوں کی اصلاح ہو سکے. یہاں میرا مقصد لوگوں کو مذہب سکھانا نہیں ہے. بلکہ میرا اس تحریر کو لکھنے کا مقصد لکھنے والوں کے لئے میرے دلی خلوص اور پیار اور عقیدت کا اظہار ہے.
لکھنا دنیا کی تمام بڑی نعمتوں میں سے ایک ہے ؛ کبھی تو لکھنے والے کا کتھارسس ہو جاتا ہے ، کبھی تنہائی جو عام انسان کو دیمک کی طرح اندر سے کھا رہی ہوتی ہے ، لکھنے والا قلم کو تنہائی کا ساتھی بنا کر اپنے دن اور راتوں کو روشنیوں سے بھر لیتا ہے ، اور کبھی تو انسانوں کو اخلاقی سبق دینا مقصود ہوتا ہے. جیسا کہ عظیم یونانی فلسفی ارسطو کے مطابق ایک عظیم لکھاری کی اولین ترجیح اور مقصد پڑھنے والے کو اخلاقی سبق دینا ہوتا ہے. اور وہ معاشرے کے سطحی معیارات ، مذہب کے ساتھ انسانوں کا رویہ ، نسلی امتیاز ، استحصال ، اخلاقی برائیاں ، نا انصافی ، قوم پرستی ، فرقہ بندی وغیرہ جیسے مسائل پر سوال اٹھاتے ہیں.
ساتھ ہی کچھ لکھاری ایسے بھی ہوتے ہیں جو زندگی کے تلخ حقائق اور ناقابلِ حل مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں. وجودیت کی تحریک اس سلسلے میں بہت نمایاں ہے. ایسی تحریروں کا مقصد یہ باور کرانا ہوتا ہے کہ انسان ہر چیز پر قادر نہیں ہیں. اور انکی بے بسی اور لاچاری کی جھلک سیموئل بکٹ کا ادبی شاہکار Waiting for Godot میں دیکھی جا سکتی ہے جس میں بے مقصدیت اور اکتاہٹ کے مارے انسان بالآخر مایوسی کے گڑھے میں گر جاتے ہیں مگر بے مقصد اور بے سود انتظار ختم نہیں ہوتا. دوسری بڑی مثال فرانز کافکا کا شہرہ آفاق ناول Metamorphosis ہے کہ کس طرح انسانی جسم کو کوئی مرض جکڑ لیتا ہے اور اس کے عزیز و اقارب اس سے گِھن محسوس کرنے لگتے ہیں اور تنہا چھوڑ جاتے ہیں اس طرح کسمپرسی کی زندگی جیتے جیتے ایک دن موت کا سائرن بج اٹھتا ہے.
تو حقیقت یہ ہے کہ زندگی ہر نئے دن کے ساتھ ایک نئے سوال کے ساتھ ہمارے سامنے کھڑی ہوتی ہے اور ہم یہ سوچتے رہ جاتے ہیں کہ سبھی سبق تو پڑھ لئے تھے بس یہی ایک رہ گیا تھا.
ایک ادیب کے تخیل اور اخلاقیات کی دنیا بہت وسیع ہوتی ہے. اور ایسے قاری کی اتنی ذہنی وسعت نہیں ہوتی کہ وہ اس تخیلاتی گھر کے در پر ہی کھڑا ہو سکے. اسے اس در سے کوئی مراد نہیں ملتی.
ایک اور بڑا المیہ یہ ہے کہ لکھنے والے کو بے دین سمجھا جاتا ہے جس کی سب سے بڑی مثال کارل مارکس اور اس کی کتاب “Communist Manifesto” ہے. سچ تو یہ ہے کہ لکھنے والے لوگ مذہبی احکامات کو صرف عبادات کی حد تک محدود نہیں رکھتے بلکہ ان کے نزدیک انسان کا ہر عمل ساتھی انسانوں کی فلاح و بہبود پر مبنی ہونا چاہیئے. لکھاری اپنے خیالات میں آزاد ہوتا ہے کہ اس سے جانبداری کا عنصر جاتا رہتا ہے.
علاوہ ازیں لکھاری حساس طبیعت کے مالک ہوتے ہیں جو ظلم اور نا انصافی کو دل سے نا پسند کرتے ہیں. لیکن عام انسان جنگوں کا اہتمام کرنے کو حب الوطن خیال کرتے ہیں. جبکہ جنگوں کے منفی نتائج ان حساس لوگوں کو اداس کرتے ہیں اور الفاظ کاغذ پر نوحے کرنے لگتے ہیں.
دوسری جنگِ عظیم کی تباہ کاریوں کے بعد لکھاریوں کا طرزِ لکھائی واضح طور پر بدل گیا اور وجودیت کی تحریک کو فروغ ملا جس میں انسان کے اندر کی مایوسی ، بوریت کا احساس اور انگزائٹی جیسی ذہنی بیماریوں کو مؤثر انداز میں بیان کیا گیا. سب سے متاثر کن بات یہ ہے کہ ایک لکھاری کا اندازِ زندگی ولیوں جیسا ہوتا ہے اور اسے پُر اسائش زندگی کی تمنا نہیں ہوتی انکا رہن سہن انتہائی سادہ ہوتا ہے جیسا کہ امریتا پریتم نے اپنی سالگرہ کے موقع پر آنے والے مہمانوں کی تواضع صرف چائے سے کی تھی. جبکہ عام انسان دعوتیں اڑا کر خالی الذہن لمبی تان کر سو جاتے ہیں. یاد رہے کہ شاعری/نثر کسی بھرے ہوئے پیٹ کا کام نہیں ہے.
غرضیکہ کہ ایک ادیب عمومی طور پر بات کرے یا خصوص طور پر، کم و بیش ہر ایک کے حالاتِ زندگی کی عکاسی کرتا ہے. کبھی یہ انسانوں سے محبت کرنے والا philanthropist ہوتا ہے اور کبھی آدم بیزار misanthropist. کبھی قدیم یونانی اساطیر لکھتا ہے جن میں Tragic hero حسد، انتقام ، تکبر وغیرہ جیسے عیوب کے باعث ٹریجڈی ہونے تک اپنی اصلاح نہیں کرتا اور بالآخر تباہی اسکا مقدر ٹھہرتی ہے. اور کبھی الف لیلیٰ کے قصے، کہیں سیاسیات، اقتصادیات، فلسفہ اور معاشیات وغیرہ. کہیں رومانوی شاعر کیٹس حسن میں صداقت اور صداقت میں حسن دیکھتا ہے، کہیں بائرن کی بغاوت دیھکنے میں آتی ہے. کہیں غلام عباس کا ُ کتبہ ٗ کہیں پطرس بخاری کے مرزا صاحب کی سائیکل اور کہیں منٹو کا صاحبِ کرامات ، کہیں ساحر کے مسحور کن گیت، کہیں ایلیا کی مکالماتی شاعری. کہیں شیکسپیئر کے محبت کی آمیزش لئے جذبات تو کہیں بکاسکی کی شوخی نصیحت ، کہیں عبداللہ حسین کی اداس نسلیں اور کہیں تارڑ کے پیار کا پہلا شہر اور ایسا بہت کچھ.
لکھاری مشاہدے اور فکر کی دولت سے مالا مال کیسے کیسے فن پارے تخلیق کرتے ہیں اور کائنات کا ذرہ ذرہ ان کا موضوعِ قلم بن جاتا ہے. حتیء کہ عام بولی جانے والی کہاوتیں ادب کا نچوڑ ہوتی ہیں. سرخ گلاب محبت کی نشانی ہے اور کبھی خوں ریزی کی علامت ہے. اتنے تمام سارے خوبصورت لوگ اپنی فکر و اسلوب سے دل موہ لینے والے شاہکار لکھتے ہیں کہ خدا نے انکو اسی کام کیلئے چنا ہوتا ہے. یہ کبھی نہیں مرتے بس ایک وقت آتا ہے کہ نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں. اور انہی ادبی تحریروں کا مطالعہ عام انسانوں کی سوچ کی سمت بدل دیتا ہے. جیسا کہ میتھیو آرنلڈ کہتا ہے کہ ادب ہمیں اس قابل بناتا ہے کہ ہم یا تو زندگی کو جینے کا گُر سیکھ لیتے ہیں یا اسے جھیلنے کا فن.

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

کرونا وبا کا مقابلہ کرنے کی بجائے دفاعی اخراجات میں اضافہ کیوں ہورہا ہے؟ | عائشہ صدیقہ

تحریر: عائشہ صدیقہ حکومتی اخراجات کی ترجیح کیا ہے ؟ بڑھتے ہوئے کرونا وائرس کی …

ایک تبصرہ

  1. محسن علی خاں

    بہت ہی خوبصورت پیراۓ میں ادب اور ادبی تحریروں کی افادیت بیان کی گئی ہے اس تحریر میں۔ جامع اور آسان الفاظ میں اپنا نقطہ نظر بیان کیا، شاباش قبول کریں۔ لکھنا جاری رکھیں۔ ہو زور قلم اور زیادہ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے