منگل , 24 نومبر 2020
ensdur

ادب محض سماج کا عکاس نہیں بلکہ عوام کو شعور کی نئی راہوں سے ہم آہنگ کرنے کا ذریعہ بھی ہونا چاہیے؛ مظہر لغاری

کورونا اور لاک ڈاؤن کے باعث میل جول پر پابند ی کے پیش ِ نظر شروع کیے گئے آن لائین ملاقاتوں کے سلسلے کو قائم اورزندگی کو خوشگوار بنانے کے لیے رمیش راجہ اور منظور اُجن کی جانب سے شروع کیے گئے سلسلے کے نویں سیشن میں سندھ کے ترقی پسند اور روشن خیال قومی شاعر و ادیب مظہر لغاری سے ایک خوشگوار شام کا اہتمام کیا گیا۔

مشہور دانشور و ادیب جامی چانڈیو، حسین جروار، صحافی مہیش کمار، کینیڈا سے ندیم احمر، امریکا سے ڈاکٹر خوشحال کالانی، نیدھر لینڈز سے تسلیم مظہر، جرمنی سے کاکا سنگھ، ہنگری سے دانش پرمار، بحرین سے منظور سیٹھار، دبئی سے دودو کٹھیان اور دیگراہل علم دوستوں  نے شرکت کی اور مظہر لغاری کے فن و فکر پر روشنی ڈالی۔ جبکہ نوجوان فنکار سعید عابد پُھل نے مظہر لغاری کا کلام سناکر خود داد حاصل کی۔

تفصیلات کے مطابق مہمان شاعر کا تعارف کراتے ہوئے رمیش راجہ نے کہا کہ مظہر لغاری مقدار نہیں بلکہ معیار میں یقین رکھنے والے ادیب ہیں، وہ پڑھتے زیادہ ہیں اور لکھتے کم ہیں۔ ان کی شاعری عالمی و مقامی رجحانات کا سنگم ہے۔ تمام ترقی پسند و لبرل لوگوں کے پسندیدہ اور ترجیحی کالم نگار اور شاعر ہیں۔

عالمی سطح پر منعقد ہونے والی اس ورچوئل شام میں روشن خیال و ترقی پسند شاعر مظہر لغاری نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ”ادب محض سماج کا عکاس نہیں بلکہ عوام کو شعور کی نئی راہوں سے ہم آہنگ کرنے کا ذریعہ بھی ہونا چاہیے؛ شاعر کی ذمہ داری قافیہ و ردیف کی ترتیب سے کہیں بالا ترہے، ادیب کو سرکاری نہیں بلکہ عوامی ہونا چاہیے، سندھ کے ادیب کو عوامی تکالیف پر لکھنا چاہیے انہوں نے سندھ کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کا مسئلہ زیادہ تر طبقاتی ہے، وڈیرہ اور جاگیردار ساری تباہی کا ذمہ دار ہے، وہ اپنا اور اپنے آقاؤں کے حصہ رکھ کر پہلے سے کہیں زیادہ لوٹ مار کر رہا ہے اور اُن کا برائے نام عوامی احتساب بھی اب کم سے کم ہوتا جارہا ہے۔ انہوں نے سندھ کو درپیش انتہا پسندی کے خطرات سے نمٹنے کا حل بتاتے ہوئے کہا کہ سندھ میں انتہا پسندی سے نہیں، بلکہ رواداری سے ہم سب ملکر سکون سے رہ سکتے ہیں، ایسے تجربے مغرب نے ماضی قریب میں کیے اور سکون میں ہیں۔ اس معاملے پر ہماری تو صدیوں کی تاریخ ہے جسے سمجھتے ہوئے رواداری قائم رکھنی ہوگی۔ مذاہب، نظریات، ثقافت اور انسانوں بالخصوص لاشوں کی توہین کرنا حیوانی عمل ہیں، سندھ میں ایسی حرکتیں بیرونی پیوندکاری ہے۔ سندھ کے تاریخی ورثے، روایات اور ثقافت کی حفاظت و پاسداری آج کے ادیب کا اولین فرض اور سماجی کارج ہوناچاہیے۔انہوں نے کورونا وائرس کی صورتحال پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ملکی سیاسی و انتظامی صورتحال میں وائرس اور دیگر وبائیں بلا کسی روک ٹوک کے اندھا دھند پھیل جائیں گی۔

انہوں نے اپنی شاعری پر بات کرتے ہوئے کہا کہ میری شاعری وڈیرہ شاہی و سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف اور پِسے ہوئے طبقے بالخصوص کسان، مزدور اور محنت کش مرد و عورتوں کے لیے ہے، لیکن جب ایک بڑی پالتو کھیپ سرکاری نظریے کی پرچار کی ڈیوٹی پر فائز ہو تو یہ شاعری براہ راست عوام تک پہنچنے کی اُمید کم ہوتی ہے۔ انہوں نے اس آنلائین سلسلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ منظور اُجن اور اس کے ساتھی جو یہ کوشش کررہے ہیں وہ قابل تحسین ہیں۔

انہوں نے ادیب کے معاشرتی کردار سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ جدید ڈیجیٹل ویڈیو گرافی کے اس دور میں  جلد بازی اور عارضی رویوں کی گنجائش نہیں ہے۔ یوٹرنی اور غیر سنجیدہ ادیب خوار و پشیمان ہوں، میں نظریاتی طور پر ثابت قدم ہوں اور اپنی پرانی شاعری کے ایک ایک لفظ و حروف سے متفق اور اس پر قائم ہوں۔ سیاست اور شاعری سے متعلق پوچھے گئے سوالات کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شاعری نے اپنا کام کیا ہے مگر سیاست اگر درست رُخ میں کام کرے تو شاید تبدیلی کا آغاز ہوسکے۔ بھتہ خوری، قبضہ گیری، مفت خوری اور دھڑا بندی کو ختم کرنا ہوگا۔

اس موقع پر ترقی پسند دانشور جامی چانڈیو نے کہا کہ مظہر کی شاعری میں سندھی عوام کے دکھوں کی سچی داستان بھی ہے تو سندھ کے انقلابی لوگوں کی بے مثال جدوجہد کی ڈاکیومنٹ بھی کی گئی ہے، غلامی اور غلامی کو پناہ دینے والی سیاست، پولیس اسٹیٹ، کرپٹ ریاستی نظام، خراب طرز حکمرانی، انسانی حقوق کی خلاف ورزی، پانی کی قلت اور قدرتی آفات اِن کی تحریروں اور شاعری کے اہم موضوع ہیں۔ حسین جروار نے کہا کہ مظہر لغاری نے ’ہوائیں نہ روکو‘ جیسی نظموں کے ذریعے آپیشاہی اور گُٹھن والے آمرانہ نظام کو  چیلینج کیا۔اُنکی شاعری30 ستمبر جیسے واقعات کی انسانیت کا قتل سمجھ کر مذمت کرتی ہے۔ اُن کی شاعری کے کینواس پر خوشیاں، غم، رومانس، ہجر و فراق، دھرتی، سندرتا اور فطرت کے رنگ نمایاں طور پر بکھرے نظر آتے ہیں۔ پروگرام کا اختتام کرتے ہوئے منظور اُجن نے کہا کہ مظہر لغاری کی شاعری میں عوام کا درد اور دھرتی کا عکس موجود ہے، اُن کی شاعری جبر سے نفرت اور مزاحمت سے بھرپور ہے۔

پاکستان کے مختلف شہروں سے عبد الرزاق سروہی ، ڈاکٹر سریش جیسرانی، ذوالفقار بھن ، شکیل احمد شیخ ، جمیل احمد شیخ ، عبید اللہ سولنگی ، پروفیسر سریش کمار وڈوانی ، حاجی خان بوزدار ، مرتضی گوہر ، ساہ شیخ ، نذیر سروہی ، انیس نور میمن ، عشرت حسین میمن ، حق نواز شیراز چانڈیو ، چانڈیو انور عزیز ، راجیش جیپال ، علی دوست اجن ، واجد سندھی ، امجد شر ، ساحل کمار لودھا ، محمد بخش سومرو ، الاہی مہر ، بابو ہرداس ، سعید چنہ، ڈاکٹر فرخ بھنمبھرو ، آصف علی ابڑو، سعید خان ، مشتاق احمد ، گھنشام داس ، ایاز سارنگ ، کیسراج بھیل ، نورالدین پنھور ، انیس بھنگر ، اللہ رکھیو کوری ، ڈاکٹر شہزاد شیخ ، خالد حسین میتلو ، نیرج جوشی ، دریا خان شیخ ، سانول گاہو، ظہیرالدین بابر ، فیصل نظر مورائی ، وفا جاوید مکئی، معین گلال ، احسان علی سہتو ، محمد طلحہ انصاری، جان شیر سومرو ، ذوالفقار جمشید اور دیگر نے آن لائن شرکت کی۔

مظہر لغاری کی ضیاء کے دور کی مشہور نظم، سندھی سے اردو ترجمہ

قیدی کا گیت

ہوائیں نہ روکو

ہوائیں نہ روکو

 

نہ ہتھیار باد صبا روک دیں  گے

نہ زنجیر بے دست و پا  کرسکیں گے

یہ دھرتی کے دردوں دکھوں کی ندائیں

کتھائیں نہ روکو

ہوائیں نہ روکو

 

نظر آئیں آکاش اور نہ ہی تارے

بچھےگیسوئےشب ہیں ہرسوہمارے

کہیں کوئی کھڑکی جھروکا ہی کھولو

گھٹائیں نہ روکو

ہوائیں نہ روکو

 

یہ سسکی جوزندان نہ توڑ پائے

یہ آنسو فصیلیں بہا لے نہ جائے

یہ برسوں سے لوگوں کی قیدی پکاریں

صدائیں نہ روکو

ہوائیں نہ روکو

 

بجھے  کتنے سگریٹ تن پر نہ جانے

اور جن کے مقدرمیں ہیں جیل تھانے

ان بدبخت لوگوں سے ملنےکو بہنیں

اور مائیں نہ روکو

ہوائیں نہ روکو

 

بھلے آس روکو اور امید روکو

دسہرا، دیوالی، بھلے عید روکو

نہیں روک سکتے وطن سے ہماری

وفائیں نہ روکو

ہوائیں نہ روکو

مظہر لغاری سندھی زبان کے معروف شاعر ہیں۔وہ اُن خوش نصیب شعرا میں سے ہیں جن کے اشعار زبان زدِ خاص و عام ہیں۔مصلحتوں سے نا آشنا بے باک مظہر لغاری ادبی گروہ بندیوں سے نالاں اپنے آپ میں مگن شاعری کے توسط سے اپنی بازیافت کرتے رہے۔اُن کا تخلیقی وفور لفظوں کے کناروں سے چھلک چھلک جاتا۔اس شاعری میں لہجے کی تازگی اور اسلوب کی جدت نے ایک نسل کو متاثر کیا۔

حال ہی میں اس لا اُبالی شاعر کی گُم شدہ شاعری کے ایک حصے کی بازیافت سندھی شاعری کے مختصر مجموعے ،، ہوائیں نہ روکو،،(ھوائون نہ روکیو) کے نام سے ہوئی ہے۔اس کتاب کے مختصر ترین دیباچے نے مجھے اپنی گرفت میں لے لیا۔ میں اب تک اُس میں سے نکل نہیں پا رہا۔مظہر لغاری سیاسی اور انقلابی طور پر متحرک اس خاندان کا فرد ہے جہاں سجاد ظہیر اپنی روپوشی کے ایام بسر کرتا تھا۔

بہت کچھ شاعری میں بیان ہوجاتا ہے،مگر کچھ نہ کچھ ہمیشہ شاعری سے باہر رہ جاتا ہے۔شاعری سے باہرلفظوں میں مُقیَد نہ ہونے والا بے پایاں کرب، شدید محرومی اور ہزاروں برس پر مشتمل تنہائی مظہر لغاری کی اس تحریر میں ڈھل کر ایک ایسی چیخ بن کے رہ گئی ہے جو شروع ہونے کے بعد ہماری سماعتوں میں تھمتی ہی نہیں۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

اینٹی انکروچمنٹ میں تعینات خاتون اہلکار کا مرد اہلکاروں پر ہراسانی کا الزام

کراچی میں محکمہ اینٹی انکروچمنٹ میں تعینات خاتون اہلکار نے ادارے کے اکاؤنٹینٹ اور دیگر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے