منگل , 4 اگست 2020
ensdur
اہم خبریں

اخلاقیات کا بحران | جاوید علی

تحریر: جاوید علی

ہم نے یہ وطن اسلام کے نام پر حاصل کیا بدقسمتی سے ہم آج تک اسلام کو لاگو نہ کر سکے- اسی طرح ہم لوگوں نے اپنی اخلاقیات کو بھلا دیا اور بداخلاقی قومی اسمبلی تک آن پہنچی- یہ بات تو سچ ہے کہ جس معاشرے میں ناانصافی ہو وہ معاشرہ زیادہ دیر زندہ نہیں رہ سکتا لیکن یہ بات بھی حقیقت ہے کہ اچھی اخلاقیات ایک اچھے انسان / معاشرے کی پہچان ہوتی ہے مثلا کوئی غیر ملکی ہمارے وطن آۓ تو اگر اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا گیا تو وہ اپنے وطن واپس جا کر ہمارے وطن کی تعریف کرے گا, اگر ہمارا اس کے ساتھ سلوک اچھا نہ ہوا اور وہ کیا ہمارے وطن کی تعریف کرے گا ایسا ہر گز نہیں ہوتا-

آپ کو اس بات کا علم ہو گا کہ جب شکاری جال لگاتا ہے تو اڑتا ہوا پرندہ آتا ہے اور جال میں پھنس جاتا ہے تو وہ ہر حال میں آزاد ہونے کی کوشش کرتا ہے لیکن وہ ننانوے فیصد جال سے آزاد ہونے میں ناکام ہو جاتا ہے یا تھک ہار کر بیٹھ جاتا ہے کیونکہ اس کی کوئی راہنمائی کرنے والا نہیں ہوتا- ہمارا حال بھی یہی ہے کہ ہم بھی چند شکاریوں کے بچھاۓ ہوۓ جال میں بری طرح پھنس چکے ہیں اس جال میں پھنسے ہوۓ پرندے کی طرح ہم بھی اس جال سے آزاد ہونے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ دوسری رسی سے ہمیں جکڑ لیتا ہے یہ شکاری ہر جگہ اپنے جال بچھاۓ بیٹھے ہیں خواہ وہ حکومتی بینچوں پر بیٹھے ہوں یا حذب اختلاف کی صفوں میں شامل ہوں یا مذہبی حلقوں میں شامل ہوں- یہ کسی جگہ پر بھی موجود ہوں یہ اپنے کام میں ہمہ وقت مصروف ہیں یہی وجہ ہے کہ ہم ایک بحران سے جان چھڑواتے ہیں تو دو اور بحران ہمارا انتظار کر رہے ہوتے ہیں- کبھی چینی کا بحران, کبھی گندم کا, کبھی پٹرول کا, کبھی آٹے کا اور کبھی کسی اور چیز کا بحران- ان سب کی اصل وجہ بقول حسن نثار صرف اور صرف اخلاقیات کا بحران ہے- ایک طرف ہم اس رسول کی امت میں سے ہیں جس کے بارے میں ارشاد خدا باری تعالی ہے کہ

لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اﷲِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ.

’’فی الحقیقت تمہارے لیے رسول اﷲ

( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات)

میں نہایت ہی حسین نمونۂِ (حیات) ہے۔‘‘

(الاحزاب، 33: 21)

وَ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ.

’’اور بے شک آپ عظیم الشان خلق پر قائم

ہیں (یعنی آدابِ قرآنی سے مزّین اور

اَخلاقِ اِلٰہیہ سے متّصف ہیں)۔‘‘

(القلم، 66: 4)

دوسری طرف ہم ہیں جب ایک شخص مصنوئی طریقے سے دودھ بناتے پکڑا گیا- کسی نے اس سے پوچھا کہ اپنے بچوں کو بھی یہی پلاتے ہو کہنا لگا کہ میں پاگل ہوں کہ اپنے بچوں کو زاہر آلود دودھ پلاؤں- باپ بیٹی کے رشتہ سے انکار کر دے تو بیٹی اور ماں مل کر اسے قتل کر دیتی ہیں, چند ٹکوں کی خاطر ایک نوجوان اپنی ماں کو قتل کر دیتا ہے, بیوی کے کہنے پر بیٹا ماں پر تشدر کرتا ہے, بیٹا بوڑھی نابینہ ماں کو گھر سے دور چھوڑ کر گھر بھاگ نکلتا ہے یہ تو وہ رشتہ ہے کہ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے- یہ تو وہ رشتہ ہے جس کا ہم زندگی بھر احسان نہیں اتار سکتے- ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو اپنی بہنوں کو جائیداد میں سے حصہ دیتے ہیں اگر کوئی ہمت کر کے اپنا حصہ مانگ لے تو اس کے لئے بھائیوں کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہو جاتا ہے- ناپ تول میں ہم کمی کرتے ہیں, دوسروں کو اپنی محفل میں بے عزت ہم کرتے ہیں- غریب پر پریشر ڈالتے ہیں تو امیر کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں- آدمی کے اخلاق کو نہیں دولت اور طاقت کو زندگی کا معیار سمجھتے ہیں- ملاوٹ ہم کرتے ہیں جھوٹ ہم بولتے ہیں, دوستوں کو ہم قتل کرواتے ہیں سگے بھائیوں کو ہم قتل کرتے ہیں- گندم, چینی اور تیل وغیرہ ذخیرہ کر کے لوگوں کا جینا حرام ہم کرتے ہیں اور منافع کماتے ہیں, والدین پیسے سوداسلف کے لئے دے کر بھیجتے ہیں تو اس میں سے ہم اپنا خرچہ بچا لیتے ہیں یہ تو ہماری اخلاقیات ہیں- اس اتنی کہانی کا مطلب یہ نہیں کہ ہم سب ہی ایسے ہیں ہم میں بہت سے اچھے لوگ ہیں لیکن یہ سب کہنے کا مقصد ہم سب کو ہوش کے ناخن لینے چاہیے۔

انسانی تاریخ گواہ ہے کہ لیڈر اس شخص کا نام نہیں جو بڑی بڑی پل بنا دیں بلکہ لیڈر ہمیشہ انسانوں میں ہیرے پیدا کرتا ہے اور انہیں اچھا انسان بناتا ہے- دنیا میں ہمارے پاس ایک ایسے لیڈر کی مثال موجود ہے کہ جس نے ہزاروں انسانوں میں سے لاکھوں ہیرے پیدا کیے جسے ہم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام سے جانتے ہیں- اب ہمارے کوئی اچھا لیڈر ہے نہیں پس ہمیں خود کو ہی اس اخلاقی بحران سے نجات دلانا ہے اور دنیا میں نام پیدا کرنا ہے- پاکستان زندہ باد

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

پی ٹی آئی سوشل میڈیا ٹیم ہیڈ عمران غزالی وزارت اطلاعات کے ‘ڈیجیٹل میڈیا ونگ’ کے جنرل مینجر مقرر

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت کے میرٹ پر تعیناتیوں کے دعوے اقربا پروری …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے