جمعرات , 28 جنوری 2021
ensdur

آہ اُسامہ قمر کائرہ !

تحریر: ملک خلیل احمد
سورج سر مژگاں ہے اندھیرے نہیں جاتے
ایسے تو کبھی چھوڑ کے بیٹے نہیں جاتے

جو جانبِ صحرائے عدم چل دیا تنہا
بچے تو گلی میں بھی اکیلے نہیں جاتے

جو پھول سجانا تھے مجھے تیری جبیں پر
بھیگی ہوئی مٹی پہ بکھیرے نہیں جاتے

یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ دنیا کا سب سے بڑا بوجھ باپ کے کاندھے پر رکھے ہوئے جوان بیٹے کی لاش کا ہوتا ہے۔ یہی وہ بوجھ ہے جو باپ کی کمر توڑنے کا سبب بن جاتا ہے جان جہاں بیٹے کی موت کی یاد میں کپکپاتی ہے تو والدین کے دل و دماغ سے بجھنے کا نام ہی نہیں لیتی۔
حضرت علیؓ کے مطابق زندگی کی سب سے بڑی محافظ خود موت ہوتی ہے۔ سقراط سے پوچھا گیا کہ موت سے بھی کوئی سخت ترین چیز ہے؟ سقراط نے جواب دیا زندگی، کیونکہ ہر قسم کے رنج و الم اور آزار و مشکلات زندگی ہی میں برداشت کرنا پڑتی ہے اور موت ان سے نجات دلاتی ہے۔
چوہدری قمرالزمان کائرہ صاحب کے جواں بیٹے اسامہ قمر کی وفات کے وقت انکی ایک تصویر نظر سے گزری جسے دیکھ کر دل آہوں اور سسکیوں میں ڈوب گیا
‏یہ ایسی تصویر تھی جس پر انسان کے لیے تعزیت کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے
پتھر کا کلیجہ رکھنے والے بھی بے رنگ آنسو دیکھ کر پھوٹ پھوٹ رونے لگتے ہیں
بڑھاپے میں جوان اولاد کے چلے جانے کا غم سب غموں سے زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے
اولاد ایک قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں
ان کا غم برداشت کرنا انسان کے لیے بڑے امتحان کا مقام ہوتا ہے
انسان کتنا بھی بہادر اور مضبوط ہو، مگر اولاد کا غم اسے توڑ کر رکھ دیتا ہے
ایسے جگر چھلنی، چاک قلب باپ، اپنے خاندان میں دیکھ چکا ہوں –
اس لئے کائرہ صاحب کا درد کا بیان مشکل ہے

اولاد کے غم میں تو پیغمبر یعقوب نے بھی اپنی آنکھیں رو رو کر کھو دی تھی
نوح نے بھی تڑپ کر خدا سے بیٹے کے لیے پناہ مانگی تھی
ابراہیم نے اسماعیل کو قربان کرنے سے پہلے آنکھوں پر پٹی باندھ لی تھی۔
کربلا میں بھی امام حسین نے علی اکبر علی اصغر کا لاشہ اٹھایا
جب یہ اولاد پالنے سے پاؤں پاؤں ،اور پھر چپکے جوانی کی دہلیز پر پیر رکھتی ہے
تو باپ کو ایک دم اپنا آپ بوڑھا اور تھکا تھکا سا لگتا ہے
مگر ساتھ ہی ایک خوبصورت ،حسین ، خوش نما احساس دل میں پیدا ہوتا ہے کہ جس پودے کی ہم نے برسوں آبیاری کی اب وہ درخت بن کرہمیں چھاؤں دے گا
مگر جب ایسا نہیں ہوتا تو باپ ٹوٹتا نہیں بکھر جاتا ہے
یہ جہان فانی ہے سالوں کی رفاقتوں کے پلے جسم کو لمحوں میں زیر زمین آغوش لحد میں سونپنا ہی زندگی کا اختتام ہے جب پیدا ہوئے تو دنیا ہنسی اور انسان رویا ، جب مرے تو دنیا روئی انسان چپ؛؛!
کیا کوئی ایسا شخص ہے جو اس چہرے کو دیکھ کر رویا نہ ہو
اور کیا اس شخص کی جانب سے ذرا برابر ایذا رسانی پہنچائی گئی ہو ؟
کیا کوئی ایسا شخص جس نے کبھی اس شخص کے منہ سے کوئی تلخی یا غصہ سنا ہو؟
کیا کوئی ایسا شخص ہے میرے پاکستان میں ہے جو شکوہ کرے کہ کائرہ صاحب نے تکلیف پہنچائی ہو
زندگی آپ بھی گزار رہے ہیں ، زندگی میں بھی گزار رہا ہوں اور زندگی ہر ذی روح ہی گزار کر جائے گا
کائرہ صاحب بھی جیسی تیسی گزار رہیں ہیں اور باقی بھی گزار لینگے
لیکن یہ تصویر کائرہ صاحب کے اندر کے باپ کے دکھ اور اسکی تکلیف کو ہمیشہ یاد کرواتی رہیں گی
یہ چہرہ ان ماں باپ کے دکھوں کو بیان کرتا رہے گا
،، جن کے پھول بنے کھلے ہی مرجھا گئے،،،،
کسی بزرگ سے سنا تھا کہ دنیا میں دو غم سب سے بڑے ہیں
ایک اولاد کی موت کا غم اور دوسرا بچپن میں ماں باپ کے بچھڑنے کا غم۔
اللہ کسی دشمن کو بھی ان غموں سے بچائیں
آج اسامہ قمر کی پہلی برسی ہے باپ کے دل اندر آج بھی اسامہ زندہ ہے اس کی ایک ایک بات بابا کو تڑپاتی ہو گی
بعض لوگ غم کے پہلے مرحلے ” بے یقینی ” میں ہی رک جاتے ہیں اور اس احساس سے باہر ہی نہیں نکل پاتے ۔ سالوں گزرنے کے بعد بھی انہیں اس پر یقین نہیں آتا کہ انکے پیارے کا انتقال ہو چکا ہے اور وہ بھی واپس نہیں آئے گاؕ۔اس کے برعکس بعض دوسرے لوگ اس صدمے کے علاوہ کسی اور چیز کے بارے میں سوچ ہی نہیں پاتے یہاں تک کہ مرنے والے کے کمر ے کو ایک طرح سے اپنی یادوں کا مزار بنا لیتے ہیں۔
کبھی کبھی ان کے قریبی شخص کے مرنے کے بعد جو ڈپریشن ہو تاہےوہ اتنا شدید ہو سکتا ہے کہ انسان کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے اور بعض اوقات اس کے ذہن میں دنیا سے بیگانکی اختیار کرنے کے خیالات آنے لگتے ہیں۔
لیکن ان سب کے باوجود کائرہ صاحب نے زندگی سے سمجھوتا کیا دلیری سے بیٹے کے غم کو برداشت کیا اور ہمت اور جواں مردی کی تاریخ رقم کی
سلام کائرہ صاحب آپ کے صبر کو
آپ جیسے محبت کرنے والے باپ کو؛!
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ چوہدری صاحب آپکو صبر اوراسامہ قمر اور حمزہ بٹ کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائیں

آمین

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

جنسی ہراسگی۔۔۔! | سعدیہ معظم

تحریر: سعدیہ معظم میں کوئٹہ شہر کے ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئی ۔ابو بینک …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے