ہفتہ , 8 اگست 2020
ensdur

آصف علی زرداری، ان کے محب، دشمن اور پروپیگنڈے | کامریڈ ماجد علی زرداری

تحریر: کامریڈ ماجد علی زرداری

پاکستان میں لوگوں کی دو بڑی اہم اقسام ہیں جن میں سے ایک وہ لوگ ہیں جو آصف علی زرداری سے محبت کرتے ہیں اور دوسرے وہ جو آصف علی زرداری سے بلا وجہ نفرت کے لاعلاج مرض میں مبتلا ہیں..
صدر آصف علی زرداری سے محبت کرنے والے وہ لوگ ہیں جن نے زرداری کو سنا سنائی باتوں پہ یقین کرنے کے بجائے انکے بارے حقائق جان کر انکی محبت کے اسیر بن گئے اور جوں جوں زرداری کے دشمنان ان پر الزم تراشی کرتے ہیں اتنا ہی ان محبوں کی اپنے محبوب سے محبت مزید پختہ ہوتی جاتی ہے..
اب بات کرتے ہیں ان لوگوں کہ جو کہ زرداری سے نفرت کے موذی مرض میں مبتلا ہیں انکا دراصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ لکیر کے فقیر ہیں کہ وہ تحقیق کے بجائے سنی سنائی باتوں پر یقین کرتے ہیں.
ہمارے ہاں لوگوں کا یہ المیہ ہے کہ انہیں جب آپ زرداری کی اچھائی بیان کرینگے یا انکی جانب سے لگائے گئے کسی منگھڑت الزام کا جواب دینگے تو وہ لوگ آپ کی بات کا یقین تو نہیں کریں گے مگر ہاں اگر آپ آصف علی زرداری پر کوئی جھوٹا الزام لگائینگے تو وہی لوگ آپ سے کوئی جھوٹی وضاحت بھی طلب نہ کرینگے بلکہ اس پر یقین کر لینگے..
اس لیے تو کسی نے کہا ہے کہ
” Those Peoples are Legends who defend Asif Ali Zardari ”

آصف علی زرداری کا صرف و صرف ایک ہی قصور ہے وہ بھٹو کی پنکی کا ہاتھ تھامنا اور اس سے وفا کرنا ہے..
اصف علی زرداری نے جس دن بھٹو پتری کا ہاتھ تھاما تو ان سے وعدہ کیا کہ آج سے انکی ساری تکالیف اب زرداری صاحب کی ہیں اور خدا گواہ ہے کہ زرداری نے اپنے وعدے کی کیا خوب لاج رکھی کہ اس کی مثال نہیں ملتی.
مقتدر حلقوں اور انکے مہروں کی طرف سے زرداری پر بڑے گھنونے اور طرح طرح کے الزامات لگائے گئے کئی جھوٹے کیسز بنائے گئے اور زرداری کو جیل میں رکھ کر طرح طرح کی اذیتیں دیں اور تکلیفیں پہنچائیں مگر زرداری نہ جھکا..
اذیتوں اور تکلیفوں کے ساتھ ان مقتدر قوتوں نے آصف علی زرداری بیشتر اقسام کے لالچ دیئے اور کہا کہ وہ اپنی بیوی کو چھوڑ دے مگر اس بلوچ کے بیٹے نے اپنی محبوب کا ساتھ نہیں چھوڑا,
جب سب حربے آزما لیے اور زرداری کو جھکا نہ سکے تو 27 دسمبر 2007 کو دخترِ مشرق محترمہ بینظیر بھٹو کو شہید کروا دیا اور بڑی ہی آسانی سے اسکا الزام بھی آصف علی زرداری پر لگا دیا اور کچھ نا سمجھ لوگوں نے اس الزام کو بھی سچ سمجھ کر اعتبار کر لیا,
وقت گزرتا گیا ,حقائق لوگوں کے سامنے آتے گئے اور جو سلسلہ جاری رہے گا,
کوئی ایسا کیس نہیں جو زرداری کے خلاف نہ بنایا گیا ہو اور کوئی ایسا گھٹیا الزام نہیں جو زرداری پر لگایا گیا ہو مگر تاریخ نے دیکھا انکو ہر محاذ پر شکست نصیب ہوئی اور آج تک ہو رہی ہے اور انشاءاللہ تا قیامت انکا یہی شکست مقدر ہوگی..!!

سندھی کی مشہور کہاوت ہے کہ

“ڪوڙ جي منھن ۾ ڌوڙ سچ ته بيٺو نچ”

اور تاریخ نے دیکھا کہ آصف علی زرداری پر جھٹے الزامات لگانے والے دشمنان آج تک ذلیل ہو رہے ہیں اور وہ مست ملنگ مردِ حر صدر آصف علی زرداری کوفہ کے شہر اسلام آباد میں عارف کے لاہور “جگنی” پر رقص کرتا نظر آیا..!!
ہے وقت کا بھٹو زرداری

You can follow twitter.com/@MajidAliZardari

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

بارش سے کےالیکٹرک کے 350 سے زائد فیڈر ٹرپ کرگئے

کراچی میں آج ہونے والی بارش سے کےالیکٹرک کے 350 سےزائد فیڈر ٹرپ کرگئے، فیڈر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے