منگل , 13 اپریل 2021
ensdur

آزاد کشمیر کی سیاست ثقافت کو کھانے لگی | پروفیسر عبدالشکور شاہ

تحریر: پروفیسر عبدالشکور شاہ

کل ایک گورے ، جان بارٹ کا فون آیا۔جان بارٹ پاکستان کے شمالی علاقوں کی زبانوں پر عرصہ 13 سال سے تحقیق کر رہاہے۔ میری آن لائن پروفائل میں چونکہ وادی نیلم لکھا ہوا ہے اس نے اپنے ایک پاکستانی دوست جو کہ میرے استاد اور ایک پرائیویٹ یونیورسٹی کے ہیدآف انگلش ڈیپارٹمنٹ بھی ہیں، ان کےذریعے مجھ سے اپنے مقالے پر نظر ثانی کے لیئے رابطہ کیا۔ جیسے کبھی کوئی گورا کسی سیاہ فارم کو انتہائی سنجیدگی اور یقین سے کہے کے تم مجھ سے زیادہ خوبصورت ہو، تو سیاہ فارم کو یقین نہیں آتا۔ مجھے بھی مقالہ پڑھنے کے بعد یقین نہیں آرہا۔ہم جو صدیوں سے وادی نیلم میں رہ رہے ہم اپنی زبانوں کے بارے اتنے نابلد اور لاپروا ہیں۔ گورا سات سنمدر پار آکر ہماری زبانوں پر تحقیق کر رہاہے۔ مجھے تب شیکسپئر کا ایک مقولا یاد آیا۔ شیکسپئر جس کے بارے میں تقریبا ہرآدمی جانتا ہے، مگر ہر کسی کو یہ علم نہیں ہے کہ معمولی پڑھا لکھا تھا بعض کے مطابق شیکسپئیر کوئی تھا ہی نہیں۔ بہرحال شیکسپئر جسے میرے ایک استاد محترم ماموں شیکسپئر کہا کرتے تھے وہ موجودہ دور کے لحاظ سے پرائمری فیل تھا۔ اس کے باوجود شیکپئر نے پوری دنیا میں اپنا نام بنایا۔ شیکسپئر میں ایسا کیا تھا جو باقیوں میں نہیں تھا؟ مادری زبان جی ہاں بقول شیکسپئر” میری مادری زبان نے مجھے یہ مقام دلانے میں مدد کی۔” ہم اہل نیلم بھی تو ہیں جو اپنی مادری زبان کو سٹریچر پر دیکھ کر دعا تک نہیں کرتے۔ ہم تو اس قومی سانحے سے مکمل طور پر ناآشنا ہیں۔ ہر سال 21 فوری کو مادری زبان کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ جی ہاں جن کو اپنی مادری زبان سے لگاو ہے وہ نہ صرف مناتے بلکہ اس کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کوشش بھی کرتے ہیں۔ یونیسکو کے مطابق بہت ساری زبانوں کو ختم ہو جانے کا خطرہ لاحق ہے۔۔خطرے کی اس لائن میں وادی نیلم کچھ زبانیں بھی شامل ہیں۔ یونیسکو کے مطابق دینا میں بولی جانے والی 6000 سے زیادہ زبانوں میں سے %43 ریڈ زون میں داخل ہو چکی ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت کے ساتھ ساتھ قابل افسوس امر ہے کہ دنیا میں بے شمار لوگوں کو اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے کی سہولت میسر نہیں ہے۔ بہت سی زبانیں ایسی بھی ہیں جو صرف گھر کے اندر بولی جاتیں ۔ہم گھر سے باہربولنے کو عار سمجھتے۔ وادی نیلم کی زبان گوجری اس میں سرفہرست ہے۔تحقیق سے بہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ بہترین تعلیم، تخلیق ، ایجادات اور دریافتیں مادری زبان کی مرہون منت ہیں۔ بین الاقوامی تحقیق کی سفارشات کے مطابق بہتر تعلیم کے لیے بچے کی مادری زبان میں پڑھانا ناگزیر ہے۔
مادری زبان کی اہمیت سے پوری دنیا میں کوئی بھی انکاری نہیں ہے۔ مادری زبان نہ صرف بچوں کی تعلیمی صلاحیتوں کو نکھارتی ہے بلکہ ان کی تخلیقی، قائیدانہ، روحانی، حب الوطنی اور ثقافتی صلاحیتوں کو بھی جلا بخشتی ہے۔ زبان ثقافت کا ایک زریعہ ہے۔ اب زبان کو پوری دنیا میں جنگ کا بہترین ہتھیار سمچھا جاتا ہے۔ زبان کا بم ایٹم بم سے بھی زادہ خطرناک ہے۔ اگر ہم اپنی زبان کا تحفظ کرنا سیکھ لیں تو ہمارے اوپر کوئی دوسری قوم اپنی ثقافت مسلط نہیں کر سکتی۔ زبان کی طاقت کے بارے میں ہم سب جانتے ۔اردو ہندی تنازعے نےپاکستان بننے میں اہم کردار ادا کیا نہ صرف بننے میں بلکہ پاکستان کے ٹوٹنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ سونے کاخنجر ہونے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ ہم اسے اپنے پیٹ میبں گھونپ دیں گے۔ مگر ہم ایسا کرتے چلے آرہے۔ امتحان میں 100 میں سے 45 بچے فیل ہو جاتے اور انکی ناکامی کا تناسب غیر مادری زبانوں والے مضامین میں افسوسناک حد تک زیادہ ہے۔ بطور انگریزی کے استاد میں بذات خود عرصہ 19 سال سے انگریزی کے مضامین پڑھا رہا ہوں۔ اور مادری زبان کی عدم موجودگی کو سزا نہ صرف طلبہ کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ملتی ہے بلکہ استاد کو سمجھاتے ہوئے بھی بڑے کرب سے گزرنا پڑھتا ہے۔
وادی نیلم دراوہ کے نام سے مشہور تھی۔ دراوہ کے لوگوں کے بارے میں دوسروں کا کیا نکتہ نظر ہوا کرتا تھا یہ ہم سب جانتے ۔ ہم نے نام بدل کے نیلم رکھ دیا مگر ہماری روش نہیں بدلی۔ کاش کے ناموں سے کام ہو جاتے پھر تو وادی نیلم جنت نظیر کہلاتی اور یہ ایسی جنت ہے جہاں ہم ووٹ لینے کے لیے تو جنت میں جانے جتنی جستجو کرتے اس کے بعد جنت کو اللہ حافظ کہہ دیتے۔ہم نے کرشن گنگا کوبدل کر نیلم کردیا مگر یہ دریا تب بھی انسانی قربانی سے چلتا تھا اب بھی انسانی قربانی سے چلتا۔ ہر سال درجنوں افراد پل نہ ہونے، روڈ خراب ہونے، گلیشئیر ، سیلاب کی زد میں آکر اس دریا کی خوراک بنتے۔ کسی کو کیا فرق پڑتا کم ووٹوں پے تو ہم ویسے بھی کہہ دیتے ووٹ کم ہیں اتنے ووٹوں پے کام نہیں ہو سکتا۔ میں نے اپنے ایک تحقیقی مقالے کے لیے نیلم ویلی کی زبانوں کا انخاب کیا۔ میرے سپروائزر کی ہنسی مجھے کبھی نیں بھولے گی۔ وہ ہنسی کم اور ہماری مردہ ضمیری پر تالیاں بجانے سے بڑھ کر تھی۔ مجھے افسوس سے کہنا پڑھ رہا مجھے مواد ہی نہ ملا۔ مجھے مقالہ منسوخ کر کے ایک دوسرے موضوع پر لکھنا پڑا۔ سندھ میں دیکھیں سندھی زبان بطور مضمون پڑھائی جاتی، بلوچستان میں بلوچی، کے پی کے میں پشتو، پنچاب میں پنجابی، گلگت میں شینا اور بلتی مگر کشمیر میں؟؟؟ افسوس ہائے افسوس ہم وزیر تعلیم رہنے کے باوجود بھی وادی نیلم میں وادی کی سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان کو بطور مضمون شامل نہیں کرسکے۔ ہماری قومی سوچ ہی نہیں ہے۔ لازمی مضمون تو درکنار ہم اسکو محض نام نہاد مضمون کے طور پربھی شامل نہیں کروا سکے۔ ہمارے ترجیحات الگ ہیں۔
کیا یہ المیہ نہیں ہے جس علاقے میں ہندکو،کشمیری، گوجری اور دیگر زبانں بولی جاتی وہاں کے افسران کو ہم انگریزی میں تربیت یافتہ کرتے ۔یہ صرف وادی نیلم کی نہیں پاکستان اورآزاد کشمیر دونوں کا المیہ ہے۔ہماری بھی تو کشمیر سے محبت اتنی دیدنی ہے ہم بھی ہندکو، کشمیری، گوچری، شینا اور دیگر زبانوں پر اردو بولنے کو ترجیح دیتے۔ مجھے لگتا ہے کوئی انگریز آئے گا اور وہ ہندکو بولے گا ہم تو تعلیم یافتہ ہیں ہم اپنی مادری زبان کیوں بولیں؟جی ہاں مجھے اس کالم کے لیے کچھ مواد ایک انگریز جان بارٹ سے ہی ملا ہے۔ وادی میں بولی جانے والی زبانیں بلترتیب ہندکو، کشمیری، گوجری، شینا، گریسی، پہاڑی،پارمی، پشتواور چلاسی قابل ذکر ہیں۔ ہندکو کے بھی مختلف لہجےہیں۔ وادی نیلم میں بولی جانے والی ہندکو کی ایک مختلف شاخ کنڈل شاہی میں قریشی فیملی بولتی۔ عام آدمی کے لیے یہ اندازہ لگانا مشکل ہوگا کہ کندل شاہی کی قریشی فیملی کی ہندکو وادی نیلم کے دیگر علاقوں میں بولی جانی والی ہندکو سے مختلف کیسے ہے مگر اہل زبان اس بات کو اچھے سے جانتے۔ سن 2005 میں کنڈل شاہی کی قریشی فیملی کے لہجے پر ایک تحقیقی مقالہ بھی لکھا جا چکےہے A First Look at the Language of Kundal Shahi in Azad Kashmir’ appeared in March 2005..۔ یہ پڑھ کر میں اپنا سا منہ لے کے بیٹھ گیا۔میں نے اپنا آدھے سے زیادہ بچپن کنڈل شاہی میں گزارا ہے مگرر مجھے یہ بات نہیں معلوم۔ڈاکٹر جان بارٹ نے اتنے لاعلم انسان کونظرثانی کے لیے منتخب کیا؟؟ اسکی وجہ اس علاقے کا مقامی باشندہ ہونا ہو سکتا۔ کیونکہ تحقیق میں کسی بھی زبان کے مقامی باشندے کی رائے سب سے معتبر سمجھی جائی ہے۔ڈاکٹر جان بارٹ نے ساتھ یہ بھی کہا اس علاقے کے لوگ دوسرے کی بات کو غلط ثابت کرنے کی سر توڑ کوشش کرتے ہیں۔
وادی نیم میں بولی جانےوالی ہندکو، پارمی یا بعض اوقات پیاڑی کے نام سے جانی جاتی ہے ۔لفظ پارمی کشمیری زبان کے لفظ اپاریم سے موخوذ ہے جس کے معانی “دوسری جانب سے” ہیں۔تاریخی اعتبار سے ہندکو بولنے والے افراد پیاڑی علاقوں میں آباد تھے ۔ ان کو کشمیری بولنے والے اپارم یا اپاریم بولتے تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ لفظ پارمی بن گیا۔ میں نے بذات خود بھی یہ لفظ استعمال ہوتے سنا ہے (او کشمیر این تے اے پارمی این). پارمی کو پارمے بھی بولتے سنا ہے۔ اپارم یا اپاریم لفظ مقبوضہ کشمیر میں بھی استعما ل ہوتا ہے ۔ یہ لفظ سری نگر میں کشمیری زبان کے ادبی ریکارڈ میں موجود ہے ۔کشمیری زبان کے مضاحیہ ڈراموں میں بھی استعما ل ہوتا ہے۔ کشمیر کے روایتی ادب کے مطابق کشمیر میں بولی جانی والی ہندکو پہاڑی کہلاتی ہے۔ وادی نیلم میں بولی جانے والی ہندکو، مری میں بلولی جانے والی ہندکو کی نسبت وادی کاغان سے زیادہ مماثلت رکھتی ہے۔ زبانی تاریخ کے مطابق مانسہرہ اور کاغان کے لوگ زبانی لحاظ سے وادی نیلم کے لوگوں سے زیادہ مماثلت رکھتے ۔اگرچہ لہجے کا معمولی سا فرق موجود ہے جو کہ ہر 25 کلومیٹر کے بعد دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہ بین الاقومی حقیقت ہے۔ وادی نیلم میں بولی جانی والی ہندکو، دیگر علاقوں میں بولی جانی والی ہندکو کی نسبت زیادہ دلچسپ اس لحاظ سے بھی ہے اس کے لہجے اور الفاظ میں بہت زیادہ تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ اگرچہ زبانی تبدیلی تیزی سے وقوع پذیر ہو رہی ہے جسکی ایک بڑی وجہ وادی کے لوگوں کا دوسری زبانیں بولنے والوں سے تعلق اور اس کا دورانیہ ہے۔ وادی کے %80 سے ذیادہ لوگ پاکستان کے مختلف علاقوں میں محنت مزدوری کے لیے جاتے ہیں۔ زبان میں بدلاو لازمی امر ہے۔ تحقیق سے یہ بات بھی پتہ چلی ہے کہ وہ علاقے جو شہری علاقوں کے قریب ہیں، اور برلب سڑک ہیں ان میں زبان کی تبدیلی دور دراز کے گاوں کے رہنے والوں کی نسبت زیادہ ہے۔
دودھنیال سے اوپر کی پٹی میں زبان کی تبدیلی کم دیکھنے کو ملتی۔پنجابی زبان کا اثر نہ صرف ہندکو کے لہجے پر پڑا ہے بلکی ہندکوکے جملو‌ں کی ادائئگی بھی متاثر ہوئی ہے۔ جس رفتار سے یہ سلسلہ جاری ہے جلد ہی ہمیں وادی نیلم میں دیگر چیزیں اور بندے تو جعلی ملتے ملتے، تھوڑی ترقی کے ساتھ پنجابی نما ہندکو بولنے اور سننے کو ملے گی۔ جملوں کی ادائیگی میں بھی نمایاں فرق پایا جانے لگا ہے۔ ہندکو کا “ک” اب پنجابی کے “نوں” میں بدل رہا ہے۔ ہندکو وادی نیلم میں ہر فرد کے لیے بولی اور سمجی جانی والی زبان ہے۔ زبان کی اصطلاح میں “لینگوا فرانکا” ہے۔ دیگر زبانیں بولنے والے وادی نیلم کے لوگ بھی ہندکو روانی سے بولتے اور سمجھتے ہیں۔ سوائے چند خالصتا کشمیری اور شینا بولنے والی گھریلوخواتین کے۔
ہندکو زبان اپنی خوبیوں کے ساتھ ساتھ نقصان دہ بھی ثابت ہو رہی ہے۔ ہندکو وادی نیلم کی چھوٹی علاقائی زبانوں کو ہڑپ کر رہی ہے ۔اس کی سب سے بڑی مثال گوجری زبان بولنےوالوں کا ہندکو کو بطور زبان استعمال کرنا ہے۔ کشمیری بولنے والے بہت سارے لوگ کشمیری کے بجائے ہندکو کو ترجیح دیتے ہیں۔ کشمیر زبان زیادہ تر کشمیری بولنے والے آپس میں بولتے ۔بصورت دیگر ہندکو استعمال کرتے۔ مگر گوجری کا ماجرا اس سے یکسر مختلف ہے۔ گوجری بولنے والے چند گھرانے اپنے گھروں میں گوجری بولتے مگر گھر سے باہر نہیں بولتے۔ حتی کہ اگر کوئی کشمیری یا ہندکو بولنے والے موجود ہو تو وہ گھر میں بھی ہندکو کو ترجیح دیتے۔ گوجر زبان کی ایک ثقافت ہے۔ مگر ہم اس ثقافت سے نہ جانے کیوں شرمندگی محسوس کرتے۔ اپنی مادری زبان بولنے سے گریزاں کیوں ہیں ؟! اب گوجری وادی کے چند مخصوص روایتی گھرانوں میں ہی سننے کو ملتی۔ ڈاکٹر جون بارٹ گوجری پر تحقیق کرنے کے لیے جاگراں، مٹو، اشکوٹ اور کچھ دیگر علاقوں میں جاچکے ہیں اور اس گورے نے مجھے یہ کالم لکھنے پر مجبور کردیا۔ اس کو یہاں تک بھی پتہ ہے ہندکو کے کس لفظ کے ساتھ کون سا لفظ لگائیں تو گوجری کا لفظ بن جاتا اور کون سا لفظ لگائیں تو کشمیری کا لفط بن جاتا۔ گورے نے یہاں تک تحقیق کی ہوئی وادی نیلم میں کون سی زبان بولنے والے کس زبان بولنے والے سے باہم شادی نہیں کرتے۔ یہ بات شاید آپ کو بھی علم نہ ہو یا ہم گورے کو جھوٹا کہہ کر اپنے آپ کو تسلی دے گے۔ مگر انگلی کے پیچھے سورج نہیں چھپتا ہاں اگر ہم اپنی آنکھیں بند کر لیں پھرممکن ہے۔ اور یہ کالم پڑھنے کے بعد آپ کی آنکھیں کھلیں گی بلکہ(آنڑیاں بی بار آ گیسن).سرداری،تہجیاں،ملک سیری اور خوجہ سیری خالصتا کشمیری بولنے والے گاوں ہیں۔ اس سے زراآگے نیکروں، میں بھی کشمیری اور شینا بولی جاتی۔ کریم آباد میں گریسی شینا بولی جاتی جو کہ شینا زبان کی ایک قسم ہے۔ان علاقوں کے لوگ ہندکو میں مہارت نہیں رکھتے. جبکہ کشمیری میں ہندکو کی نسبت قدرے بہتر ہیں۔ ان علاقوں کے لوگ ہندکو بولنے والوں کے ساتھ اردو کو ترجیح دیتے.متذکرہ بالا گاوں کے علاوہ 5 دیگر گاوں میں بھی کشمیری بولی جاتی۔ تااہم ان کی کشمیری مقبوضہ کشمیر میں کپواڑہ کے لہجے سے زیادہ ملتی۔ وادی نیلم میں بولی جانے والی کشمیری میں کچھ پرانے الفاظ بھی شامل ہیں جیسے درم بوئی اور درم موج قابل ذکر ہیں جو کشمیری کی دیگر اقسام میں مشکل سے ملتے۔
ایسا لگتا ہے وادی نیلم میں بولی جانے والی زبانون‌کا سکرپٹ 1200 سال قبل لکھا گیا ہے، جب شاردہ علوم و فنون کا گہوارہ تھا۔ اب ہم اس گہوراے پے بھی قبضے کا سوچ رہے۔ ہندکو ، کشمیری اور دیگر زبانیں تو متاثر ہو رہی ہیں مگر گوجری جو کہ وادی کی تیسری بڑی زبان کا درجہ رکھتی تھی اب تقریبا نایاب ہو گئی ہے۔ گجر خاندان وادی نیلم میں بسنے والے شروعات کے خاندانوں میں سے ایک ہے۔ ہمیں وادی نیلم کی زبانوں کے تحفط کے لیے کوشش کرنی ہو گی ۔خاص طور پر گوجرزبان کے لیے۔ میرے ماموں کی ڈیوٹی جاگراں ہوا کرتی تھی۔ وہ مجھے ساتھ لے جاتے تھے۔ گوجری بولنے والے افراد سے ملنا جلنا تھا۔انتہائی نفیس لوگ، مہمان نواز، ملنسار کیا مٹھاس ہے گوجری زبان میں اپنے لیے بولا جانے والا ایک جملہ کبھی نہیں بھولتا(مہارونکو استاد آیئو) ہمارا چھوٹا استاد آیا۔.میرے نانا جان اس علاقے کے مانے ہوئے عالم تھے اس وجہ سےلوگ مجھے (چھوٹا استاد کہتے تھے )اب گوجری سننے والے کان بہرے ہو چکے، بولنے والے ہونت بے حرکت ہو چکے، لکھنے والے قلم خشک ہو چکے۔۔۔۔۔۔۔
ہم نے نہ صرف اپنی زبان کو بھلا دیا ہے بلکہ اپنے پیشے کو بھی ختم کر دیا ہے۔ گجر خاندان وادی کا سب سے زیادہ مالدار خاندان سمجھا جاتا تھا۔ پورے محلے کو دودھ، لسی، بگوڑے اور بھلیاں بانٹنے والے ملک پیک پر آگئے ہیں۔ یہ ہماری ثقافت ہے۔ ہمیں اس پر ناز ہونا چاہیے۔یہ ہماری پہچان ہے۔ ہمیں اس پر فخر ہونا چاہیے۔ ہندکو ادب بھی محض زبانی ادب ہے ۔اگر ہم نے ہندکو ادب پر کام نہ کیا تو ہم اپنی شناخت اور ثقاافت دونوں کھو بیٹھیں گے۔ کشمیری ادب کا حال بھی ایسا ہی ہے بہر صورت ہندکو سے بہتر ہے۔ بعض گھروں میں کشمیری میں لکھی گنتی کی چند کتابیں موجود ہیں۔ میری نیلم کے شعرا سے التماس ہے اپنی مادری زبانوں پر فخر کرتے ہوئے ان میں شاعری لکھیں ۔شرمائیں نہیں، خدا راہ پڑھے لکھا طبقہ اس حقیقت سے آنکھیں نہ پھیرے ورنہ کل کسی انگریز نے میری طرح آپ کو بھی شرمندہ کر دینا!! گجر خاندان مرناٹ،کھریگام، اشکوٹ،،کٹن، جاگراں، متو میں کافی اکٹریت میں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ یہ خاندان پوری وادی میں پھیلا ہوا ہے اگرچہ گوجری نہیں رہی گجر تو بہرحال ہیں۔ ایسے ہی ایک اور خاندان خان ہے جو پشتو تو نہیں بولتے مگر خان لکھتے۔ گوجری تو پھر بھی کسی نہ کسی شکل میں پائی جاتی مگر خان فیملی کو شاید میری بات سے تعجب ہو کہ وہ تو یہ بھی بھول چکے وہ پشتو بولنے والے تھے ۔ ان کی زبان وادی نیلم میں صفحہ ہستی سے مٹ چکی ہے۔ اگر ہم نے اب بھی ہوش نہ سنبھالا تو اگلی صدی میں شاید ہماری آنے والی نسلیں بھی اس بات پر یقین نہ کریں کہ ہندکو،کشمیری اور دیگر زبانیں بھی ہوا کرتی تھیں۔ کشمیری زبان سے متعلق بھی بڑی دلچسپ باتیں ہیں۔ وادی نیلم میں بولی جانے والی کشمیر مظفرآباد میں بولی جانے والی کشمیری سے مختلف ہے۔ جان بارٹ کے بقول گوجری زبان کے واحد محافظ بکروال ہیں جو اپنی زبان سے جڑے ہوئے ۔ وہ قابل رشک لوگ ہیں۔ میرے گاوں دواریاں میں بھی کافی گجر گھرانے ہیں۔ مگر اس نسل میں کسی کو گوجری بولتے نہیں سنا۔ وادی کی تیسری بڑی زبان اب شینا ہے۔ اگرچہ شینا صرف تین گاوں میں بولی جاتی ہے۔ اسکی دو قسمیں ہیں۔ گریسی شینا اور چلاسی شینا۔ گریسی شینا وادی نیلم کے آخر گاوں تاوبٹ اور اس کے ملحقہ علاقوں میں بولی جاتی ہے۔ شینا زبان بولنے والے زیادہ تر افراد دو زبانیں بولتے۔ شینا زبان میں کشمیری زبان کے کچھ الفاظ بھی ایسے شامل ہو چکے جیسے ہمارے ہاں ایلکشن میں لوگ پارٹیوں میں شامل ہوتے۔ تاہم شینا بولنے والوں کی ہندکو وادی نیلم کی عوام کی طرح کمزور ہے۔ ہندکو بولنے والوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے وہ اردو کو ترجیح دیتے ۔جیسے ہم اپنے آپ کو پڑھا لکھا، سمجھدار اور عقل مند ثابت کرنے کے لیے اردو بولتے حالانکہ یہ عمل جہالت کے ذمرے میں آتاہے۔ شینا بولنے والے اپنے آپ کو پھولاوئی اور سرداری کے شینا گروپ سے الگ شمار کرتے۔ تاہم وہ ثقافتی لحاظ سے کشمیری بولنے والوں سے زیادہ مماثلت رکھتے۔ ڈھکی اور چنگناڑ کے علاقے جہاں پر پشتو بھی بولی جاتی مگر یہ پشتو کے بجائے پختو کا لفظ استعمال کرتے۔ یہ لوگ سواتی پشتو بولنے والی نسل سے سمجھے جاتے۔
تعجب کی بات یہ ہے انتھک تحقیق کے باوجود بھی مجھے وادی نیلم کی زبانوں میں پشتو کو ذکر نہیں ملا مگر گورے کا شکریہ!!!!وادی نیلم کی زبانوں میں سے کوئی ایک تبرک کے طور پر بھی سکولوں میں نہیں پڑھائی جاتی۔ کیا اپنی ثقافت سے اتنی دشمنی درست ہے؟ کیا ہم اپنے بچوں کو سکولوں میں ہندکو، کشمیری یا علاقائی زبانوں میں نہیں پڑھا سکتے؟ کیا دنیا میں ایسا نہیں ہوتا؟ زبان پر ہونے والی ساری تحقیق کا نچوڑ یہی ہے کہ مادری زبان کو فوقیت دی جائے ۔مگر ہم نرالے محقیقن ہیں جو اپنی زبان کو ہی چاٹ گئے ہیں۔ وادی نیلم زبانی لحاذ سے انتہائی دلچسب اور ذرخیز خطہ ہے ۔زبانوں پر تحقیق کرنے والوں کے لیے تو یہ ہیون اون ارتھ ہے یعنی دنیا میں جنت۔ زبانوں کے علاہ بھی دیگر تمام شعبوں میں تحقیق کے لیے کھلا میدان ہے۔ ہمیں اپنے اندر وادی کی محبت کو پروان چڑھاتے ہوئے اپنے تحقیقی مقالہ جات میں وادی نیلم کو منتخب کرنا چاہیے ۔اس سے نہ صرف ہمارا تحقیقی کام نایاب،آسان اور درست ہوگا بلکہ ہمیں اپنی وادی کے بارے میں بھی معلوم بھی ہوگا۔ آنے والی نسلیں ہمیں یاد کریں گی۔ مستقبل کے محقق آپ کے کام کا حوالہ دیں گے جو ایک قابل فخر بات ہے۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

پیپلزپارٹی نے پی ڈی ایم عہدوں سے استعفے مولانا فضل الرحمن کو بھجوا دیئے

پیپلز پارٹی نے اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم سے علیحدگی کے فیصلے پر مرحلہ وار …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے