منگل , 13 اپریل 2021
ensdur

آزاد کشمیر، ضلع نیلم میں خواتین کی حالت زار | پروفیسر عبدالشکور شاہ

تحریر: پروفیسر عبدالشکور شاہ
دنیا میں مردوں اور عورتوں کی تعداد تقریبا برابر ہے۔اگرچہ مردوں کو عورتوں پر معمولی عددی برتری حاصل ہے جس کا تناسب50.4% مرد اور 49.6% خواتین شامل ہیں۔اس معمولی عددی برتری کے ساتھ ایک بیانک خطرہ بھی منڈلا رہا ہے۔ نوجوان لڑکیوں کی نسبت نوجوان لڑکوں میں مرنے ک تناسب زیادہ ہے۔ دنیا بھر میں زراعت کے شعبے میں 43%خواتین کام کر تی ہیں۔اس سے یہ بات عیاں ہو تی ہے،اگر خواتین مردوں کے برابر کام کریں تو وہ زراعت کے شعبے میں 20 سے 30فیصد اضافہ کر سکتی ہیں۔نہ صرف اٖضافہ بلکہ خواتین کوزراعت کے شعبے میں مردوں کے برابر مواقع مہیا کر کے دنیا سے 2.5% بھوک کم کر سکتے ہیں جو کے 4% بنتا ہے۔

سب نعروں اور فلسفوں کے باوجود ابھی بھی دنیا کے ناخواندہ لوگوں میں سے دو تہائی اکثریت خواتین کی ہے جن کی تعداد 796ملین ہے۔ عالمی اعداد و شمار کے مطابق دیہاتی علاقوں کی 39% لڑکیاں سیکنڈری سکول میں داخلہ نہیں لے پاتیں۔ پاکستان میں آبادی کے لحاظ سے آدھا کلو میڑ کے فاصلے پر بھی اگر سکول بنا دیا جائے تو بھی لڑکیوں کے سکولوں میں داخلہ نہ لینے کی شرح20%سے بڑھ جاتی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک لڑکیوں میں خواندگی بڑھانے کے لیے دیہی سکول قائم کر رہے ہیں جن میں مصر، انڈونیشیا اور بہت سارے افریکی ممالک سرفہرست ہیں۔ بچوں کی محفوظ زندگی کے لیے خواتین کا تعلیم یافتہ ہونا انتہائی ضروری ہے۔

ایشیا میں دیہی کونسلز میں خواتین کی شمولیت 1.6% ہے۔جہاں پوری دنیا میں خواتین کے حقوق اور انکی بہتری کے اقدامات کو سراہا جا رہا ہے وہاں پر دنیا میں ایسے علاقے بھی ہیں جہاں خواتین کو انکے بنیادی حقوق بھی میسر نہیں۔خواتین کا عالمی دن بھی منایا جاتا ہے جس کی ابتداء 1911میں ہو ئی تھی۔ دنیا میں مردوں اور عورتوں کے حقوق اور معاشرے میں انکے کردار کا جو فرق موجود ہے ایک تحقیق کے مطابق اسے پر کرنے مین مزید 108سال لگیں گے۔ دنیا میں صرف 6 ممالک ایسے ہیں جو خواتین کو مردوں کے برابر حقوق دینے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ دنیا میں پیشہ وارانہ شعبوں میں خواتین کا تناسب 6.22% ہے۔زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح شوبز میں بھی خواتین کو مردوں کے برابر کام کرنے کا موقعہ دستیاب نہیں ہے۔ فلموں پر کی جانے والی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کسی بھی فلم میں ایک خاتون کردار کے مقابلے میں 2.24 مرد کردار ہیں۔

اس وقت مردوں کے مقابلے میں رجسٹرڈ خواتین ووٹرز کی تعداد بھی انتہائی کم ہے۔ دنیا کے مقابلے میں ہم جب آزادکشمیر کی بات کریں تو حالت انتہائی افسوسناک ہے۔ آزاد کشمیر کے سب سے بڑے ضلع نیلم میں جہاں خواتین کی آبادی 51% ہے وہاں پر خواتین بنیادی حقوق سے بھی محروم ہیں۔ وادی نیلم میں ایک ااندازے کے مطابق 1000میں سے 54بچے پیدائش کے وقت فوت ہو جاتے ہیں۔ خواتین کی 51%آبادی کے لیے کوئی گائیناکالوجسٹ موجود نہیں ہے۔ 2014میں ایک این جی او Save the Children کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پیدائش کے بعد فوت ہونے والے بچوں کی تعداد انتہائی زیادہ ہے اور آزاد کشمیر میں تو اس سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ اس وقت دنیا میں پیدائش کے ایک دن بعد بچوں کی شرح اموات کا تناسب1000 میں 40.7% ہے جبکہ پاکستان اور آزاد کشمیر میں یہ تناسب 54% ہے۔ متذکرہ بالا رپورٹ کے مطابق یورپی ممالک میں 1000میں سے صرف 5.9فیصد بچے ایک ماہ کی عمر کو نہیں پہنچ پاتے۔حتی کے ہمارا پڑوسی جنگ زدہ ملک افغانستان ہم سے کہیں بہتر ہے جہاں پر پیدائش کے بعد بچوں کی شرح اموات کا تناسب 29فیصد ہے۔ جب ہم خواتین کی تعلیم پر توجہ نہیں دیں گے تب تک بچوں میں شرح اموات کم ہونا ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ پڑھی لکھی ماوں کے بچوں میں شرح اموات ناخواندہ ماوں کی نسبت انتہائی کم ہے۔ آزاد کشمیر کی آبادی 2017 کی مردم شماری کے مطابق 4.045 ہے اور اس میں 1.64% کے حساب سے اضافہ ہو رہا ہے۔آزاد کشمیر میں 49% مر د آبادی اور 51%خواتین آبادی ہے۔ وادی نیلم میں 207 کلومیڑ لمبا دریا ئے نیلم بہتا ہے۔ اس وادی میں شدید سردی پڑتی ہے۔ دسمبر سے مئی تک برف کا سلسلہ کہیں نہ کہیں جاری رہتا ہے۔ سردیوں میں اوسطا 3-4میٹر برف پڑتی ہے اور بعض علاقوں میں 4-6 میٹر برف پڑتی ہے۔ وادی کے کچھ علاقوں کا رابطہ ملک کے باقی حصوں سے کٹ جاتا ہے۔

وادی نیلم میں آزاد کشمیر کے تمام اضلاع کی نسبت بچوں اور خواتین میں بیماریوں اور اموات کی شرح کہیں زیادہ ہونے کے باوجود نہ تو بچوں کے سپیشلسٹ ڈاکٹرز ہیں اور نہ ہی خواتین کے لیے۔ آزاد کشمیر میں بے روزگاری کی شرح 10.26%ہے جبکہ وادی نیلم میں یہ شرح 29.7%ہے۔ آبادی کے اعتبار سے 3893 افراد کے لیے ایک ڈاکٹر دستیاب ہے۔ خواتین کے تمام تر مسائل کی جڑ انکی ناخواندگی ہے۔ اگر حکومت صرف خواتین کی تعلیم پر توجہ مرکوز کر دے تو بہت سارے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔سال 2016 میں وادی نیلم میں پرائمری سکولوں میں 4587 لڑکیوں نے داخلہ لیا جو لڑکوں سے نصف سے بھی کم ہے۔ سال 2018 میں اضافے کے بجائے کم ہو کر 3087 ہوگئی ہے۔ یہ سرکاری اعدادوشمار حکومتوں کی خواتین کی تعلیم کی طرف عدم توجہ کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ مڈل سکولوں میں سال 2016کے دوران1210 ہے تاہم یہ کچھوے کی چال سے بڑھتی ہوئی سال 2018 میں 1472ہو گئی۔ اس میں حکومت کا کوئی کردار نہیں بلکہ یہ اضافہ آبادی میں اوسط اضافے کی وجہ سے ہے۔ وادی نیلم میں ہائی سکولوں میں سال 2016 میں 272 لڑکیوں نے داخلہ لیا جبکہ 1120لڑکوں نے داخلہ لیا۔ لڑکیوں کے داخلے کی تعداد سال 2018میں بڑھ کر1501 ہو گئی ہے جو کہ ایک نیک شگن تصور کیا جا سکتا ہے۔سال 2016میں 298لڑکیوں نے داخلہ لیا جو سال 2018میں بڑھ کر 417 ہو گیا ہے۔

ضلع نیلم میں جہاں پر 51% خواتین کی آبادی ہے وہاں پر صرف 379 خواتین اساتذہ تعینات ہیں جو کہ مرد اساتذہ کی نسبت نصف سے بھی کم ہیں۔ دنیا بھر کے ماہرین تعلیم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ پرائمر ی اور مڈل سطح پر خواتین اساتذہ ہونی چاہیے اور ہم خود بہت بڑے ماہر ہیں ہم اس کے برعکس چلتے۔یہ بات انتہائی افسوسناک ہے کہ ضلع نیلم میں خواتین اساتذہ کی تعداد میں اضافہ ہونے کے بجائے ان کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔ سال 2016 کی نسبت سال 2018 میں تعداد کم ہو کر 335 رہ گئی ہے جبکہ مرد اساتذہ کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔داخلہ لینے والی طالبات کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور خواتین اساتذہ کی تعداد میں کمی واقع ہوتی جا رہی ہے۔سال 2016 میں کل 571 لڑکیوں نے میڑک کا امتحان دیا جبکہ سال 2018میں یہ تعداد بڑھ کر 3111 ہو گئی۔پوری وادی میں لڑکیوں کا صرف ایک انٹر میڈیٹ کالج ہے۔ اس کالج میں 2016 میں صرف 169طالبات نے داخلہ لیا جبکہ 2018میں یہ تعداد بڑھ کر501ہو گئی ہے۔2016 میں صرف 11 لڑکیوں نے ڈگری کالج میں داخلہ لیا جبکہ 2018میں یہ تعداد بڑھ کر 43ہوچکی ہے۔ پوری وادی میں کوئی پوسٹ گریجویٹ کالج موجود نہیں ہے۔ اعلی تعلیم کے لیے وادی سے باہر جانا پڑھتا ہے اور جو انٹر میڈیٹ اور ڈگری کالج ہے وہاں بھی نہ تو پڑھائی کا معیار ہے اور نہ ہی اساتذہ موجود ہیں۔ ایڈہاک تعینات کیے جانے والے اساتذہ اپنے مستقبل کی فکر میں رہتے۔ہم نے سیاسی فائدوں کے لیے تو ضلع کو دو حلقوں میں تقسیم کر دیا ہے مگر باقی کسی معاملے میں آج تک کسی حکومت نے کوئی توجہ نہیں دی۔ وادی میں خواتین کے لیے سہولیات کی عدم دستیابی اور لڑکیوں کی تعلیم کا فقدان اس وادی کے لوگوں کو عشروں پیچھے دھکیل رہا ہے۔ملکی ترقی میں خواتین کا کردار ایک اٹل حقیقت ہے مگر ہم اس حقیقت سے روگردانی کر رہے ہیں۔وادی نیلم آزادکشمیر کا سب سے پسماندہ ضلع ہے۔ ہم نے خواتین کو پس پشت ڈالا ہوا ہے جو کہ اس قوم کے زوال کا سبب بن رہا ہے۔ ہم نے خواتین کو ہر میدان میں سائیڈ لائن پر لگایا ہوا ہے چاہے وہ زندگی کا کوئی بھی شعبہ ہو خواتین کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

وادی نیلم میں تو خواتین کو اپنی مرضی سے ووٹ کا حق بھی حاصل نہیں ہے اور نہ ہی آج تک کوئی خاتون سوائے ایک مخصوص نشست کے سامنے آئی اورنہ ہی ہم نے آنے دیا ہے۔ اگر خواتین کے بارے سیاست میں آنے کی بات کر یں تو ایک نام نہاد طبقہ ڈھال بن کر سامنے آکھڑا ہوتا ہے۔ جمہوریت کو ایک طرف رکھ دیں ہم نے تو اسلام کے مطابق بھی خواتین کو حقوق سے نابلد رکھا ہوا ہے۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

پیپلزپارٹی نے پی ڈی ایم عہدوں سے استعفے مولانا فضل الرحمن کو بھجوا دیئے

پیپلز پارٹی نے اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم سے علیحدگی کے فیصلے پر مرحلہ وار …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے