ہفتہ , 17 اپریل 2021
ensdur

آج سینٹ الیکشن: ووٹنگ خفیہ ہو گی یا اوپن ؟ | نصرت جاوید

پاکستان کے تحریری آئین پر سرسری نگاہ بھی ڈالیں توہماری قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں بیٹھا ہر شخص ’’صادق اور امین‘‘ ہے۔ ہماری سیاسی تاریخ میں البتہ ایک شخص -نواز شریف سپریم کورٹ کو اس ضمن میں قائل نہ کرپایا۔ جرائم پیشہ مافیا کا سرغنہ قرار پاتے ہوئے وزارت عظمیٰ سے فارغ ہوا۔ یہ ’’سعادت‘‘ جہانگیر خان ترین کو بھی نصیب ہوئی۔ ان دو اصحاب کے علاوہ منتخب ایوانوں میں بیٹھے تمام افراد نظر بظاہر ’’صادق اور امین‘‘ ہی شمار ہوتے ہیں۔

سوال مگر یہ اُٹھتا ہے کہ ’’صادق اور امین‘‘ تصور ہوتے اس ہجوم نے گزشتہ کئی دنوں سے ہمارے مفکروں اور سپریم کورٹ کو پریشان کیوں کر رکھا تھا۔ ان کی صداقت اور امانت مسلمہ ہوتی تو سینیٹ کی اس مہینے خالی ہونے والی 48 نشستوں پر انتخاب آئین کے آرٹیکل 226 کے تحت معمو ل کے مطابق ہوجاتے۔ خفیہ رائے شماری کی بابت ہمیں پریشانی لاحق نہ ہوتی۔ مذکورہ انتخابات کے قریب آتے ہی مگر ملک بھر میں تھرتھلی مچ گئی۔ ہماری ذہن سازی پر مامور حق گو صحافیوں نے دہائی مچانا شروع کردی کہ اسمبلیوں میں بیٹھے ’’صادق اور امین‘‘ اپنی سیاسی قیادتوں کے نامزد کردہ امیدواروں کے بجائے دوسروں سے بھاری رقوم اینٹھ کر اپنا ووٹ بیچ دیں گے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سیاست کو صاف ستھرا رکھنا ہے تو ووٹ کی ممکنہ خریدوفروخت روکنے کا یقینی بندوبست ہو۔

حیران کن حقیقت یہ بھی ہے کہ ہماری ذہن سازی پر مامور حق گو افراد کے علاوہ ووٹوں کی خرید و فروخت کے بارے میں سب سے زیادہ واویلا تحریک انصاف نے مچایا۔ عمران خان صاحب اس جماعت کے بانی ہیں۔  پاکستان کے وہ واحد سیاستدان ہیں جنہیں سپریم کورٹ نے صادق اور امین قرار دے رکھا ہے۔ گندی سیاست کے خلاف انہوں نے 22 برسوں تک پھیلی جدوجہد کی۔ سیاست دانوں کا روپ دھارے ’’چوروں اور لٹیروں‘‘ سے وہ شدید نفرت کرتے ہیں۔ ان کا بس چلے تو 2008 سے 2018 تک اقتدار میں باریاں لینے والے تمام سیاست دانوں کو زمانہ قدیم کے بادشاہوں کی طرح تہہ خانوں میں پھینک کر بھول جائیں۔ ان کی دیانت داری کے حوالے سے شہرت مجھ جیسے سادہ لوح کو یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ جولائی 2018 کے انتخابات لڑنے کے لئے انہوں نے اپنی جماعت کے ٹکٹ ’’صادق اور امین‘‘ افراد ہی کو دئیے ہوں گے۔ سینٹ کی خالی ہونے والی نشستوں پر انتخاب کے قریب آتے ہی مگر انہیں خدشہ لاحق ہوا کہ ان میں سے کئی اراکین ’’بک‘‘ جائیں گے۔ مزید حیران کن واقعہ یہ بھی ہوا کہ ان میں سے کسی ایک رکن قومی یا صوبائی اسمبلی کو یہ ہمت نہ ہوئی کہ برسرعام نہ سہی مگر تنہائی میں اپنے قائد سے ملاقات کے دوران گلہ کرتے کہ ان کی نیتوں پر شک کیوں کیا جا رہا ہے۔ انہیں دُنیا کے روبرو ’’بکائو مال‘‘ دکھا کر کیوں پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کی جانب سے برتی خاموشی یہ پیغام دیتی ہے کہ ’’کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے‘‘۔ منتخب ایوانوں کے اراکین کی صداقت اور امانت کو لہٰذا انگریزی زبان والا Taken For Granted نہیں لیا جاسکتا۔

ووٹوں کی خرید و فروخت کو ناممکن بنانے کا آسان ترین طریقہ یہ تھاکہ آئین کے آرٹیکل 226 میں ترمیم ہوتی۔ اس کے لئے مگر پارلیمان میں دو تہائی اکثریت درکار تھی۔ تحریک انصاف کو وہ میسر نہیں ہے۔ ’’چوروں اور لٹیروں‘‘ سے تعاون کی امید نہیں تھی۔  بالآخر فیصلہ یہ ہوا کہ صدر مملکت کے ذریعے پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت سے رجوع کیا جائے۔ ووٹوں کی خرید و فروخت روکنے کا جو طریقہ منتخب پارلیمان کی اجتماعی بصیرت دریافت نہ کرپائی اسے تلاش کرنے کی مشقت میں سپریم کورٹ کو اُلجھا دیا گیا۔ آئین میں تبدیلی لانے کو لیکن وہ تیار نہیں ہوا۔ الیکشن کمیشن کو تاہم حکم دیا ہے کہ جدید ترین ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے انتخابی نظام کو ’’شفاف‘‘ ترین بنایا جائے۔

یکم مارچ 2021 کی صبح سینٹ انتخابات کے حوالے سے سپریم کورٹ سے جو پیغام آیا اس کے بارے میں آپ اور میرے جیسے قانونی باریکیوں سے نابلد بدنصیب یہ بھی طے نہیں کرسکتے کہ یہ ’’فیصلہ ‘‘ ہے یا صدارتی ریفرنس کے جواب میں ’’رائے‘‘۔ فیصلے کا اطلاق لازمی ہے۔ رائے کا احترام کرتے ہوئے بھی اگرچہ اس پرعمل سے گریز کیا جاسکتا ہے۔

 

فواد چودھری صاحب ویسے تو ابلاغ کے ہنر پر کامل مہارت کے علاوہ سائنسی ایجادات کی وجہ سے بھی مشہور ہوئے ہیں۔ اصل شعبہ ان کا تاہم قانون ہے۔ اس کی تمام تر باریکیوں سے کامل آگاہ فواد چودھری مصر ہیں کہ الیکشن کمیشن کو سپریم کورٹ نے پیر کی صبح آئے فیصلے کے ذریعے ’’حکم‘‘ دیا ہے کہ وہ بدھ کے روز سینٹ کے انتخابات کے دوران استعمال ہونے والے بیلٹ پیپروں کو اس انداز میں چھاپے کہ بکسے کھلنے کے بعد بآسانی پتہ چلایا جاسکے کہ کون سے رکن قومی یا صوبائی اسمبلی نے کون سے امیدوار کو ووٹ دیا ہے۔ میرے ایک بہت ہی سینئر ساتھی کامران خان صاحب نے بھی چند ٹویٹس لکھ کر فواد چودھری صاحب کی تائید کی ہے۔  کامران صاحب کا بلکہ یہ خیال بھی تھا کہ اگر الیکشن کمیشن نے ’’شفافیت‘‘ کو یقینی نہ بنایا تو سپریم کورٹ اسے توہین عدالت کے الزام میں طلب کرسکتی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین قانون اس رائے سے اتفاق نہیں کر رہے۔ وہ بضد ہیں کہ رائے شماری ’’خفیہ‘‘ ہی رہے گی۔ قصہ مختصر قانونی باریکیوں سے نابلد میرے اور آپ جیسے بدنصیب سینیٹ کے انتخاب سے 24 گھنٹے قبل بھی یہ طے کرنے سے قاصر ہیں کہ ووٹنگ ’’خفیہ‘‘ ہوگی یا ’’کھلی‘‘۔ مزید تکلیف یہ جان کر بھی ہو رہی ہے کہ ایک تحریری آئین کے ہوتے بھی کنفیوژن پھیلا۔ سپریم کورٹ کی جانب سے ہوئی ’’’تشریح‘‘ بھی اس کنفیوژن کو میرے اور آپ کے لئے دور نہ کر پائی۔

ووٹوں کو خفیہ یا کھلا رکھنے کی بحث میں ایک اہم ترین سوال بھی زیر غور نہ آسکا۔ وہ سوال یہ ہے کہ اگر 3 مارچ کے دن قومی یا صوبائی اسمبلیوں کا کوئی رکن ووٹ ڈالنے ہی نہ آئے تو اس کے خلاف ’’قیادت‘‘ کیا رویہ اپنائے گی۔ ہمارے تحریری آئین میں ووٹ ڈالنے کے عمل سے سوچی سمجھی غیر حاضری (Deliberate Absence) محض تین مقامات پر قابل مواخذہ ٹھہرائی گئی ہے۔ سینٹ کے ا نتخابی عمل سے مگر دانستہ غیر حاضری کی بابت ہمارا آئین خاموش ہے۔ میرے چند باخبر دوستوں کو ان کے ذرائع نے ’’ٹھوس خبر‘‘ دی ہے کہ تحریک انصاف کے تقریباََ آٹھ اراکین قومی اسمبلی نے یوسف رضا گیلانی کو یقین دلایا ہے کہ وہ بدھ کے روز انتخابی عمل میں حصہ نہیں لیں گے۔ مجھے ان کے نام بھی بتائے گئے۔

اپنے دوستوں کی صداقت کا مجھے یقین ہے۔ گیلانی صاحب سے مذکورہ وعدہ یقینا ہوا ہوگا۔ اس کو نبھانا مگر مجھے ممکن دکھائی نہیں دے رہا۔ ڈاکٹر حفیظ شیخ اگر مقابلے میں نہ ہوتے تو شاید نبھا دیا جاتا۔ آئی ایم ایف سے تین سالہ معاہدے کرتے ہوئے شیخ صاحب نے 6 ارب ڈالر کی ’’امدادی رقم‘‘ کا بندوبست کیا ہے۔ یہ رقم قسطوں میں آنی ہے۔ ان قسطوں کے حصول کے لئے لازمی ہے کہ ان شرائط پر کامل عمل درآمد ہو جو آئی ایم ایف پاکستانی معیشت کو درست راہوں پر رواں رکھنے کے لئے ضروری تصور کرتی ہے۔ عوام کے براہِ راست ووٹوں سے منتخب ہوئی قومی اسمبلی نے اگر حفیظ شیخ صاحب کو سینیٹ کا رکن منتخب کرنے سے انکار کر دیا تو عالمی معیشت کے نگہبانوں کو پیغام جائے گا کہ ہماری معیشت کی بحالی کے لئے جو نسخہ تجویز کیا گیا ہے اسے ’’مسترد‘‘ کر دیا گیا ہے۔ شیخ صاحب کا سینیٹ کا رکن منتخب ہونا اس تناظر میں فقط عمران حکومت ہی کی نہیں ریاستِ پاکستان کی ’’مجبوری‘‘ بھی ہے۔ اس حوالے سے میرا کند ذہن مزید کچھ سوچنے کے قابل نہیں۔ ٹی وی سکرینوں اور یوٹیوب چینلوں پرر ونق البتہ لگی رہے گی۔3مارچ کے دن اس سے جی بہلا لیجئے گا۔

 

بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

تعارف Moderator

یہ بھی چیک کریں

خیبرپختونخوا کابینہ کے تین اراکین مستعفی

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کے مشیر برائے توانائی حمایت اللّٰہ خان، معاون خصوصی برائے اطلاعات …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے