ہفتہ , 8 اگست 2020
ensdur

آئی ایم ایف کا بجٹ | نذیر ڈھوکی

تحریر: نذیر ڈھوکی

سلیکٹڈ حکومت نے آئی ایم ایف کا بنایا ہوا بجٹ پیش کیا، اعداد شمار میں کہیں بھی عوام کیلیٸے ریلیف کا کوئی اشاره تک نہیں ملتا۔
پیپلز پارٹی کی قیادت کے خلاف کرپشن کے الزامات پر جو ایف آئی آرز کاٹی جاتی رہی ہیں، اس کی ضمنیاں دیکھی جائیں تو جرم کی اصلیت عوام کو ریلیف دینے کے شواہد سامنے آتے ہیں.
اگر حقائق کا منصفانہ تجزیہ کیا جائے تو یہ حقیقت اظہر من الشمس کی طرح صاف دکھائی دیگی کہ پیپلز پارٹی کی قیادت کا یہ جرم ناقابل معافی سمجھا جاتا ہے کہ جب بھی اقتدار میں آتی ہے، بلیڈی سولین کی زندگیوں میں آسانیاں اور خوشحالی کی سہولت کار بنتی ہے. جس سے مراعات یافتہ طبقہ نالاں رہتا ہے. حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ سات سال میں طبقاتی امتیاز نے سفید پوشوں سے خوداری کا بھرم چھین لیا ہے۔
جبکہ موجودہ سلیکٹڈ حکومت نے امیر اور غریب کے درمیاں جو لکیر کھینچ لی ہے، اگر ایسے ہی حالات رہے تو نتاٸج خطرناک ہی نہیں انتہائی تباہ کن ہوں گے.
سلیکٹڈ اور سلیکٹرز کا باہمی مفاد کورونا میں چھپنے کیلیٸے کوشاں ہے، کورونا تو ابھی آیا گزشتہ 9 ماہ سلیکٹڈ حکومت کیا ہاتھی کے کان میں سوتی رہی؟ حقیقت یہ ہے کہ ملک کی تاریخ میں یہ پہلا بجٹ ہے جس میں معاشی شرح نمو منفی صفر اعشاریہ چار فیصد ہے، معیشت پر گھری نظر رکھنے والے بیرسٹر حیدر زمان قریشی جو پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکریٹری مالیات ہیں، کا تجزیہ ہے کہ گزشتہ مالی سال کے ٹیکس اہداف 5500 ارب میں سے صرف 900 ارب روپے کا ٹیکس اکٹھا کیا گیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ جب حکومت خود کہہ رہی ہے کہ اگلے سال مالی جی ڈی پی کی شرح نمو نہیں بڑھے گی تو 4 ہزار 970 ارب روپے کا ٹیکس اہداف محض افسانہ ہے، حیدر زمان قریشی جو معاشی ماہر ہیں اعداد شمار پر عبور رکھتے ہیں نے سلیکٹڈ حکومت کی جعلسازی کو بے نقاب کردیا ہے، جو حقائق کی نشاندہی کرتے ہیں، مگر ایک عام شہری کے ناطے سلیکٹڈ نیازی سرکار نے متوستہ طبقے کو دن میں تارے اور غریبوں کے دھوئیں نکال دیٸے ہیں۔
بجٹ سے قبل میڈیا کے ذریعے قوم کو سینتھیا رچی ڈرامے میں ان کی توجہہ ملک کو لاحق کورونا اور ٹڈی دل سے ہونے والی تباہی سے ہٹانے کی کوشش کی گئی، بلاخر بجٹ کو کارپٹ بمباری کی صورت میں عوام پر حملے کا ذریعہ بنایا گیا ہے ، ملک کا اصل المیہ ہے گزشتہ چالس سال کے دوران سیاسی شعور
پر کارپٹ بمباری ہوتی رہی ہے جس کے نتائج کورونا سے بھی ہزاروں درجہ زیادہ محلق ہیں، ڈر یہ ہے کہ آئی ایم ایف کا بنایہ ہوا بجٹ ناانصافیوں کے شکار عوام سڑکوں پر نکل آئے تو کیا ہوگا؟
اس سے پہلے کہ ان کو جائے پناہ بھی نہ ملے انہیں بلاول بھٹو زرداری کی آواز سننا ہوگی۔
بلاول بھٹو زرداری کا بیانیہ ہے کہ طاقت کا سر چسمہ عوام ہیں۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

بارش سے کےالیکٹرک کے 350 سے زائد فیڈر ٹرپ کرگئے

کراچی میں آج ہونے والی بارش سے کےالیکٹرک کے 350 سےزائد فیڈر ٹرپ کرگئے، فیڈر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے