جمعہ , 10 جولائی 2020
ensdur
CORONAVIRUS PAKISTAN
243599
  • Sindh 100900
  • Islamabad 13829
  • KP 29406
  • Punjab 85261
  • Balochistan 11052
  • GB 1619
  • AJK 1485
  • DEATH 5058

آئیں روشنی پھیلائیں | قسور عباس بھٹہ

تحریر : قسور عباس بھٹہ (ماہر نفسیات)

قسط نمبر 3

( کرونا / لاک ڈاون کے مثبت اثرات )

جہاں کرونا / لاک ڈاون کے بے بہا منفی اثرات درپیش آئے وہاں کچھ مثبت اثرات بھی دیکھنے کو ملے . اس میں کوئی شک نہیں کہ کرونا نہایت ہی خطرناک بیماری ہے جس نے تمام دنیا کو ہلا کے رکھ دیا .معیشت کو کافی حد تک نقصان پہنچایا اور زندگی تو مانو رک سی گئی .

●● مثبت اثرات کی اگر بات کی جائے تو

☆☆ سب سے بڑا فائدہ ماحولیاتی آلودگی میں کمی کا ہوا . زہر اگلتی فیکٹریاں ،کارخانے اور گاڑیاں بند ہوئی تو ماحول نے سکھ کا سانس لیا اور وہ موذی بیماریاں جو آلودگی کی وجہ سے ہوتی تھیں ان میں کمی آئی .اوزون کی تہہ میں بہتری آئی .

☆☆ والدین جو روزی روٹی کی تلاش میں صبح کو نکلتے اور شام کو تھکے ہارے لوٹتے تھے ، تھکاوٹ انکے ذہنوں پر سوار ہوتی نہ بچوں کو ٹائم دیتے ، نہ گپ شپ کرتے ، نہ بچوں کی سنتے نہ سناتے تھے جسکی وجہ سے بچوں میں احساس کمتری ، خوف اور نفسیاتی بیماریاں جنم لے رہی تھیں . مثبت فائدہ یہ ہوا کہ انہوں نے بچوں کے ساتھ وقت گزارا ، انکی سنی اور اپنی سنائی , کھیل کھیلے اس طرح والدین اور بچوں میں اچھی انڈرسٹینڈنگ ہوئی اور بچوں کے اندر جو خوف ، احساس کمتری اور سودے تھے ان میں واضح کمی دیکھنے کو ملی .

☆☆ اکثر ایسے بھی لوگ ہیں جنھیں کتابیں پڑھنے کا شوق ہے لیکن وقت نہ ملنے اور تھکاوٹ کے پیش نظر کتابیں نہ پڑھ پاتے تھے انھیں اپنا شوق پورا کرنے کا موقع ملا اور کتابیں پڑھ کر انھوں نے اپنے علم میں مزید اضافہ کیا . ان کے شوق میں مزید بڑھوتری ہوئی اور علم سے بہرہ ور ہوئے .

☆☆ اکثریت میں کچھ ایسے بھی لوگ ہوں گے جو اپنی ورک لوڈ کی وجہ سے ذہنی و جسمانی طور پر تھک چکے تھے ان کے لئے یہ دن کافی سود مند ثابت ہوئے انہیں ریسٹ ملا اور ذہنی طور پر تازگی نصیب ہوئی .

☆☆ ہاتھ دھونے ، سینیٹائز کرنے ، اور خود کو صاف ستھرا رکھنے جیسی اچھی عادتوں نے جنم لیا .

☆☆ کچھ نے تو نئی نئی ڈشز بنانا سیکھیں ، اور گھر کے کاموں میں اپنوں کا ہاتھ بڑھایا ، اس سے انھیں کچھ باتوں کا احساس بھی ہوا کہ عورتوں کے گھریلو کام کتنے زیادہ اور مشکل ہوتے ہیں . وہ گھر سنبھالیں بچوں کو سنبھالیں کتنا ہی مشکل سے دوچار ہوتی ہوں گی .

☆☆ وہ روایتیں جو پچھلی کئی دہائیوں سے ختم ہوچکی تھیں ،مل جل کر کھانا کھانے ، گپیں لگانے ، کہانیاں سنانے اور دکھ سکھ بانٹنے ، ہنسنے مسکرانے والی محفلیں .

تو ہمیں چاہئے کہ ان لمحوں کو انجوئے کریں اور دکھ سکھ بانٹیں ، اپنوں کو جانیں اور خوب زندگی کے مزے لوٹیں .

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

سنتھیا یقیناً کسی ایجنڈے پر آئی ہے: لطیف کھوسہ

سابق گورنر پنجاب، پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور وکیل لطیف کھوسہ کا کہنا ہے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے